حقیقی بے غیرت کون ہے؟


میں اس شش وپنج میں مبتلا ہوں کہ غیرت آخر کون سی بلا ہے۔ ہمارے ہاں غیرت کا لفظ شدید ابہام کا شکار ہے۔ ہمارے سماج میں غیرت کی جتنی قسمیں پائی جاتی ہیں شاید ہی کہیں اور ہوں۔ غیرت ایک طرف ایمان کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف معاشرتی اقدار کو غیرت کی بنیادوں پرکھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ایک طرف اسے سیاست میں لایا جاتا ہے تو دوسری طرف رواج کو اس کے زیر اثر لایا جاتا ہے۔ سماج میں غیرت کی مضبوط جڑوں نے پدرسری نظام اور مذہب کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔

غیرت کے لفظ کو اگر گوگل پر تلاش کیا جائے تو آپ کو غیرت کے نام پر قتل کی بے شمار سرخیاں ملیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سالانہ صرف ایک ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں، غیرت کے نام پر قتل ہونے والے مردوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

میں یہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگا ہوں کہ یہ غیرت آخر کون سی بلا ہے جس کے زیر اثر آکر انسان اپنے ہی ہم جنس کے خون کا پیاسا ہوکر اشرف مخلوقات سے درندے کی شکل اختیار کر لیتا ہے؟ بھائی، جس نے اپنا بچپن اپنی بہن کے ساتھ کھیل کود میں گزارا ہوتا ہے، اسی کو قتل کر دیتا ہے۔ باپ اپنی بیٹی کو نازوں سے پلا بڑھا کر، اپنی اسی بیٹی کی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے۔ خونی رشتے، اپنے خونی رشتوں کی سانسوں کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ اکثر اخبارات کی سرخیوں کی زینت بننے والی خبریں کچھ ایسی ہوتی ہیں کہ غیرت کے نام پر بھائی نے بہن کو تو کہیں شوہر نے بیوی کو، باپ نے بیٹی کو تو دیور نے بھابی کو، چچا نے بھتیجی کو تو ماموں نے بھانجی کو قتل کر دیا۔

میں نے ڈکشنری کھول کر غیرت کے معنی ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ ڈکشنری میں غیرت کا مطلب، ’‘ انسان کی وہ خاصیت جو بے عزتی گوارا نہیں کرسکتی ”۔ میں غیرت کو اتنا ہی سمجھ پایا کہ یہ ایک خود ساختہ پیمانہ ہے جس میں ہر انسان اپنی اوقات کے مطابق خود کو اپنی منتخب کردہ اعداد کے ساتھ اپنی عزت کو تولتا ہے۔ اعداد کچھ بھی ہوسکتے ہیں، مخالف جنس، روایات، رسم و رواج، مذہب، سماجی نا انصافی وغیرہ۔

ہمارے ہاں اجتماعی طور پر معاشرتی خودساختہ پیمانے میں ایک طرف غیرت مرد کے ساتھ ہی منسلک کرکے، عورت ذات کے ساتھ تولی جاتی ہے اور اس لئے ہمیں عام طور پر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ فلاں مرد بے غیرت ہے، عورت کی کمائی کھا رہا ہے۔ فلانے کی عورت بے پردہ گھومتی ہے۔ اس نے غیرت کا مظاہرہ کر کے اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔

دوسری طرف غیرت کو ایمان کا حصہ بنا کر معاشرے میں عدم برداشت کی روایت کو بڑھاوا دیا گیا جیسے عامر چیمہ نے غیرت کا مظاہرہ کرکے جرمن ایڈیٹر پر حملہ کر دیا، ممتاز قادری کی غیرت نے گوارا نہیں کیا اور سلمان تاثیر پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی، شاگرد نے ایمانی غیرت سے مجبور ہو کر اپنے استاد کو قتل کر دیا۔

یہی جملے ہم اپنے آس پاس چہ مگوئیوں میں سنتے رہتے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ غیرت انسان کو صرف قتل اور درندگی پر ہی اکساتی ہے؟ ہم ایسے کیوں نہیں سنتے کہ فلاں کی غیرت نے جوش مارا اور انسان کو قتل ہونے نہیں دیا۔ یہ غیرت اس وقت کیوں نہیں جاگتی اورمظلوم کو ظالم کے شر سے نجات کیوں نہیں دلاسکتی؟ ہم ایسے کیوں نہیں بول سکتے کہ مشال پر بے غیرتوں نے حملہ کیا، اسے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا لیکن اتنے جم غفیر میں کوئی بھی اتنا غیرت مند نہیں تھا کہ مشال کو بچانے آگے آتا؟ ہم نے ایسے بھی کبھی نہیں سنا کہ فلاں مرد اتنا بے غیرت ہے کہ سارا دن اپنے افسروں اور با اثر طبقے کی چمچہ گیری کرتا ہے۔

فلاں کے سامنے یہ جرم اور نا انصافی سرزد ہوئی لیکن وہ بے غیرت بن کہ خاموش رہا۔ بے غیرت بھائی نے اپنی بہن کے جائیداد پر قبضہ جما رکھا ہے۔ بے غیرت باپ نے اپنی بیٹی کی شرعی اور قانونی حق تلفی کرکے اس کی زبردستی شادی کرادی۔ اس انسان میں تو غیرت ہی نہیں ہے، لوگوں سے رشوت لیتا ہے، اپنی نوکری صحیح طریقے سے نہیں کرتا۔ فلاں کے چچا بے غیرت ہیں، بدعنوانی سے اتنی بڑی کوٹھی بنائی ہے۔ فلاں بے غیرت ہے، بیوی کا خیال نہیں رکھتا، تشدد کر تا ہے اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔

ہم ابھی تک غیرت کا مطلب سمجھے ہی نہیں، غیرت فرض شناسی اور خودداری کا دوسرا نام ہے۔ غیرت اپنی ذمہ داریوں کی آگاہی اور بطریق احسن نبانے کو کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم نے اپنے فرائض کے تکمیل کوغیرت کا نام دینے کہ بجائے، درندگی اور وحشیت کو غیرت کا نام دے دیا ہے۔ غیرت کو ہم نے ایک ایسی بلا بنا دی ہے جو انسانوں کے خون کی پیاسی ہے اور جب بھی جوش مارتی ہے تو کہیں نہ کہیں انسانوں کا خون بہنے لگ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS