صدارتی نظام کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے مہم چلائی
حال ہی میں ملک میں صدارتی نظام کے لئے چلنے والی سوشل میڈیا مہم نہیں بلکہ اصل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے کیا جانے والا ایک پروپیگنڈا تھا، جس کا مقصد صدارتی نظام کی راہ ہموارکرنا یا عوامی تاثر دیکھنا تھا۔
ماہر انسانیات و ثقافت رضوان سعید کا (آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کینبیرا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور بقائے پاکستان صدارتی نظام نامی ٹویٹر پر اس شناخت سے سوشل میڈیا پر آنے والے تمام مواد کا تجزیہ کر رہے ہیں) کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد عوامی رائے کو صدارتی نظام کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔
دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری انفارمیشن عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ جماعت کی حیثیت سے تحریک انصاف نے حکومت کی صدارتی صورت پر سوشل میڈیا مہم کی حمایت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انفرادی طور پر سوشل میڈیا پر اس مہم کو فروغ دے رہا ہے تو پی ٹی آئی اس کی ذمہ دار نہیں۔
جمہوری حکومت میں ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم پاکستان میں حکومت کی کسی بھی شکل کے بارے میں بات کر سکتے ہیں لیکن بحیثیت جماعت ہم نے اس طرح کی کسی بھی پالیسی کا اعلان نہیں کیا یا سوشل میڈیا پر حکومت کی صدارتی صورت پر کسی بھی گفتگو کا آغاز نہیں کیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری باضابطہ سوشل میڈیا ٹیم نے اس طرح کی کسی بھی بحث یا گفتگو میں حصہ نہیں لیا، ہماری سوشل میڈیا ٹیم نے چند افراد کی شناخت کی ہے اور خود کو ان سے لاتعلق کرلیا ہے جو ٹرولنگ میں ملوث ہیں۔ حال ہی میں ہم نے ایک فرد کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس کا پی ٹی آئی کی باضابطہ سوشل میڈیا ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری طرف رضوان سعید کا کہنا تھا کہ اس جارحانہ مہم میں دس ٹویٹر اکاؤنٹس میں سے نصف سے زیادہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے تھے اور یہ تمام اکاؤنٹس گزشتہ چھ ماہ کے عرصے میں بنائے گئے۔ ان کے تجزیے کے مطابق 18 اپریل 2019 کو اکٹھے کئے گئے نمونوں میں چھ ہزار دو سو چورانوے (6294) ٹویٹرز ہینڈل کئے گئے جس کے سولہ ہزار تین سو پچانوے (16395) ٹائز تھیں جن کے مابین ایک باہمی تعلق پایا گیا۔


