جبروت کو جبو بننے کے لئے کس راستے پر چلنا پڑا؟
کھانا کھاؤ گے۔ آجاؤ اندر اور جبروت کو بازو سے پکڑ کر اٹھا لیا۔ پہلی بار کسی اجنبی مرد کے سخت ہاتھ نے جبروت کو چھوا تھا۔ جبروت کا جی چاہا کہ وہ شور کرے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بھاگ جائے کیوں کہ ہوٹل مالک کی نظروں میں پدرانہ شفقت کی بجائے کوئی عجیب سی بدبودار ہوس تھی مگرجبروت بچہ ہونے کے ساتھ گھر سے بھاگا ہوا زنانہ اداؤں والا کچے گوشت کا وہ لوتھڑا تھا جسے یہ گدھ نما ہوٹل مالک نوچ ڈالنا چاہتا تھا۔
اب جبروت کو اس ہوٹل پہ مالک کا مقام حاصل تھا۔ تین وقت کے کھانے کے بدلے جبروت ہوٹل مالک کی بھوک مٹانے کا عادی ہوچکا تھا۔ چند لمحوں کی ذلت کے بدلے ہوٹل مالک اسے نئے نئے کپڑے جوتے خرید کر دیتا۔ جبروت کو اکثر اماں اور بہنوں کی یاد آتی کبھی کبھی تنہائی میں بیٹھ کر خوب رو بھی لیا کرتا مگر صرف اس ڈر سے گھر نہ جاتا کہ اس کی وجہ سے اس کے ابو کی عزت خراب ہوجائے گی۔ خاندان میں ناجانے کون سی ناک ہے جو کٹ جائے گی۔
اب تو جبروت کبھی کبھی چرس والے سگریٹ کے بھی کش لگانے لگا تھا پہلی بار جس گلاس کو سونگھ کر جبروت الٹیاں کرنے لگا تھا اب اس گلاس کا عادی ہوچکا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا جب جبروت شراب کے نشے میں دھت ہوجاتا تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا ہوٹل مالک جبروت کی اس کیفیت سے بھی خوب فائدہ اٹھاتا اسے گود میں بٹھا کر اس کے آنسو صاف کرنے لگتا۔ جبروت ہوٹل مالک کی درندہ صفت شفقت سے مانوس ہوکر ہوٹل مالک سے لپٹ جاتا جبروت ہوٹل مالک کی اس حیوانیت کو اپنا نصیب سمجھ بیٹھا تھا۔
وقت گزرتا رہا آج ہوٹل پہ ہیجڑوں کی ایک مسافر ٹولی کا آنا ہوا جب شبو نے جبروت کو دیکھا تو خوشی سے پاگل ہوگئی۔ شبو نے جبروت کو پاس بلایا وہی لہیجہ وہی چال چلن وہ ہی نزاکت وہ ادائیں جو نئے ہیجڑوں کو سکھانے کے لیے شبو کو مہینوں اور سال لگتے تھے وہ تمام کی تمام جبروت میں قدرتی طور پر موجود تھیں۔ ایک لاکھ روپے میں شبو اور ہوٹل مالک کا سودا طے پا گیا۔ ہوٹل مالک نے جبروت کو ایک لاکھ روپے کے عوض اس شرط پہ شبو ہیجڑے کے ہاتھ بیچ ڈالا کہ کبھی کبھی جبروت میرے ہوٹل پہ ضرور آیا کرے گا اور تم لوگ اسے منع نہیں کرو گے۔
جبروت کو سرخ رنگ کی مسہری پہ بٹھایا گیا۔ وہ لپ اسٹک جو کلاس میں لڑکے شرارتاً جبروت کو دیا کرتے تھے جبروت کے مرمریں ہونٹوں پہ بڑے پیار سے لگائی گئی جبروت کی موٹی موٹی نیلی آنکھوں میں شبو نے اپنے ہاتھوں سے کاجل لگایا۔ گوٹے کناریوں والا سرخ دوپٹہ جبروت کے سر پر دیا گیا۔ چار ہیجڑوں نے ایک سرخ دوپٹہ جبروت کے سر پر تان دیا۔ ہاتھوں پر مہندی لگائی گئی۔ کسی دلہن کی طرح جبروت کو سجایا گیا۔ ڈھولک کی تھاپ پہ تمام ہیجڑے خوشی کے گیت گاتے ناچ رہے تھے۔
شبو کے گھر کے باہر لالے قصائی نے چار بکرے ذبح کیے۔ گوشت بریانی زردہ پلاؤ کی دیگیں پکائی گئیں۔ پورے علاقے کے ہیجڑے جمع ہوگئے۔ سب ہیجڑوں نے جبروت کو مختلف تحفے تحائف دیے مٹھائی کے ڈبوں کے انبار لگ گئے۔ ہر آنے والا ہیجڑا بڑے منفرد انداز سے جبروت کے ساتھ اپنائیت کا اظہار کرتا۔ شبو کے گھر میں موجود ہر کوئی شبو کو مبارکیں دیتا اور جبروت کی بلائیں لے رہا تھا۔ شبو بھی ایک خوبصورت جوڑے میں ملبوس آنے والوں سے مبارکیں وصول کرتے تھک نہیں رہی تھی۔
آج شبو کے ڈیرے پر کوئی شادی کا سماں تھا۔ کوئی جبروت کی پیشانی پہ بوسہ دیتا کوئی سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا۔ جبروت کو سبز رنگ کی چوڑیا ں پہنائی گئیں۔ کانوں میں سونے کے جھمکے ماتھے پہ ٹیکہ پہنایا گیا۔ ہزا ر ہزار کے نوٹ سلامی کے طور پہ جبروت کے مہندی لگے ہاتھوں پہ رکھے جا رہے تھے جو کوئی بھی جبروت کو سلامی دیتا شبو کو بھی مٹھائی کا ڈبہ اور ہزار پانچ سو لازمی دیتا۔ جبروت خیالوں میں گم پلکیں جھکائے لال مسہری پہ بیٹھا چیچلی انگلی کا ناخن دانتوں سے کاٹتے ہوئے ناجانے زندگی کی کون سی الجھی گتھیاں سلجھا نے میں لگا تھا۔
آج جبروت کے جسم پہ موجود واحد مردانہ علامت کو بھی ختم کیے جانے کی رسم ہورہی تھی۔ جبروت کی آنکھوں میں نمی تھی وہ دل ہی دل میں اپنی اماں بہنوں اور ابا کو یاد کررہا تھا۔ وہ آج عزت دار معاشرے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا تعلق توڑنے جا رہا تھا۔ اسے اپنے ابا کی ناک کی فکر تھی مردانہ عضو کے کٹ جانے سے درد کی اٹھنے والی ٹیس اس درد کے سامنے کوئی معانی نہیں رکھتی تھی جو درد اس کے اپنوں نے دیا جو درد ابا کی باتوں نے دیا کاش میرے ابا مجھے قبول کرلیتے کاش معاشرہ مجھے بھی اپنے جیسا انسان سمجھ کر قبول کرلیتا۔
کاش لوگ اللہ کی بنائی مخلوق میں رہ جانے والی کسی کمی کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیتے۔ کاش میرے کلاس فیلوز مجھے زنانہ نام نہ دیتے۔ کاش ہوٹل مالک ہی مجھے اپنا بیٹا بنا لیتا۔ کاش جب میں نا سمجھی میں گھر سے بھاگ گیا تھا تو کوئی مجھے ڈانٹ کر واپس گھر پہنچا دیتا۔ کاش لوگ میرے گورے رنگ کورے بدن اور زنانہ اداؤں پر مرنے کی بجائے میرے اندر گھٹ گھٹ کر مرتے مرد کو پہچان لیتے۔ کاش ایسے انسانو ں کا کوئی الگ سے قبیلہ ہوتا اور آج مجھے ہیجڑوں میں شامل نہ ہونا پڑتا۔ جبروت انھیں خیالوں میں گم تھا جب شبو نے اپنے ہاتھ سے جبروت کو بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر جبروت کی آنے والی زندگی ہمیشہ کے لیے اندھیروں کی نذر کردی اب جبروت جبروت نہیں رہا تھا بلکہ جبو بن چکا تھا۔

