جبروت کو جبو بننے کے لئے کس راستے پر چلنا پڑا؟
جبروت بالکل ہی بیٹیوں جیسا لڑکا تھا انتہائی شرمیلا گلابی گلابی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ لچھے دار ہچکولے کھاتی گفتگو۔ باتیں کرتا تو ہونٹوں کے ساتھ اس کے کاغذی نتھنے بھی جنبش کرتے۔ جب وہ بے خیالی میں کبھی ہنستا تو اس کے ارد گر د ہواؤں کے دوش پر ایک عجیب سی کھنکھناہٹ پیدا ہوجاتی۔ چلتے ہوئے زمین پہ اس نازک انداز سے قدم رکھتا گویا زمین کے بدن پر چھالے ہوں۔ اگر کبھی بے خیالی میں انگڑائی لیتا تو اس کے ہم جماعت شرارتی لڑکے ششدر ہو کر رہ جاتے۔
اس کے انگ انگ سے نسوانی زہر چھلک جاتا۔ اس کے مشاغل میں اپنی دونوں بڑی بہنوں کے ساتھ رسی پھلانگنا اڈا کھڈا کھیلنا گڑیا پٹولے بنانا اور امی کے ساتھ باتیں کرنے کے علاوہ ایکشن سے بھرپور کہانیاں پڑھنا بھی شامل تھا۔ وہ اکثر ایسی کہانیا ں پڑھتا جن میں کہانی کا ہیرو ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہو۔ جبروت ہمیشہ کچھ نہ کچھ حیران کن کرنے کے بارے میں سوچتا رہتا اور جب اپنی ہیرو بننے کی خواہش کا اظہار اپنے ہم جماتیوں سے کرتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے مختلف زنانہ نامو ں سے پکارتے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ہر کہانی میں صرف اور صرف ہیرو کے کارناموں تک ہی محدود رہتا۔
اس کی روح ہمیشہ ہیرو بننا چاہتی تھی مگر اس کا لچکدار بدن اس کا شرمیلا پن ہر بار اس کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا۔ وہ چاہ کر بھی اپنی شخصیت میں بدلاؤ نہیں لا سکا تھا۔ جبروت کی کلاس کے شرارتی لڑکے اسے تنگ کرنے کے لیے اور اس کا مذاق اڑانے کے لیے کبھی لپ اسٹک نیل پالش اور کبھی کوئی دوپٹہ یا چادر کسی گفٹ پیک میں گفٹ بنا کر لے آتے اور اس کو دیتے۔ جبروت میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ کلاس میں اپنے ساتھ ہونے والے بھونڈے مذاق کی پرنسپل کو یا اپنے گھر والوں کو شکایت ہی کر سکتا۔
ہر بار ایکشن کہانی پڑھتے جبروت ا للہ میاں سے دعا کرتا کہ اے میرے اللہ کیا اس طرح کے ہیرو صرف کہانیوں میں ہی ہوتے ہیں۔ کیا کسی ہیرو کی طاقت والی خوبی میرے اندر پیدا نہیں ہو سکتی۔ میں لڑکوں کی طرح شرارتی کیوں نہیں میں سہما سہما سا کیوں رہتا ہوں۔ وہ اکثر نہاتے وقت اپنے بدن کے تمام اعضاء کا بغور مشاہدہ کرتا اپنے بدن پر کوئی بھی نسوانی شہادت نہ پاکر اور خود کو ایک مکمل مرد پا کر سیخ پا ہو جاتا اسے انتہائی کوفت ہوتی کہ جب میں ایک مکمل مرد ہوں تو پھر میرے کلاس فیلوز مجھے لڑکی کیوں کہتے ہیں میرے لڑکیوں والے نام کیوں رکھتے ہیں۔
میرے اندر وہ کون سی کمی ہے جو مجھے مل نہیں رہی۔ میرا نام جبروت ہے میں کیوں اپنے نام کی لاج رکھنے سے بھی قاصر ہوں۔ قدرت، طاقت، حشمت، عظمت، بزرگی اور جلال کتنے خوبصورت مطلب ہیں اس نام کے کتنی مردانہ اور رعب دار کیفیات کا نام ہے جبروت۔ اب جبروت سچ مچ پریشان رہنے لگا تھا کیوں کہ اب جبروت کا مردانہ مگر لچکدار بدن اور نسوانی خیالات اوج نوعمری سے نکل کر شباب دلفریب کی دہلیز پہ قدم رکھ رہے تھے۔ اب جبروت کو سمجھ آنے لگا تھا کہ جسے وہ اپنی خام خیالی اور لوگوں کی شرارت سمجھتا تھا وہ کہیں نہ کہیں سچ ہے ایکشن کہانیوں کا ہیرو اچھا لگنا محض اتفاق نہیں تھا۔
مردانہ وجاہت کے لوگ بھلے لگنا محض اس لیے نہیں تھا کہ وہ بھی ان جیسا مرد لگنا چاہتا ہے بلکہ یہ تو کوئی اور طرح کی کیفیت تھی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ کلاس میں لڑکوں کا لپ اسٹک نیل پالش اور دوپٹے گفٹ کرنا شرارت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا سچ تھا جسے میں تسلیم نہیں کر پا رہا تھا۔ بظاہر میں سچ مچ مرد ہی ہوں مگر کوئی کمی ضرور ہے۔ اب جبروت بچپن کی کہانیوں کے ہیرو سے نکل کر حقیقت میں مردانہ رعب کے مالک مردوں کی طرف راغب ہونے لگا تھا۔
جبروت کے ابا اور اماں کی اکثر لڑائی رہتی اور ہر بار اس لڑائی کے پیچھے محرک جبروت کا زنانہ پن ہوتا۔ جبروت اب گنگا جمنی کیفیت میں مبتلا رہتا۔ اگر میں ایسا ہوں تو اس میں میرا کیا قصور میرے ابا کو چاہیے تھا کہ مجھے لڑکا پیدا کرتے یا لڑکی یا پھر اماں ابا کو چاہیے کہ وہ اللہ سے گلہ کریں۔ ان لڑائیوں سے تنگ آکر جبروت نے لڑکی بننے کا فیصلہ کرلیا۔ اب ہر وقت وہ اسی خیال میں گم رہتا کہ ٹھیک ہے اگر میں مرد نہیں بن سکتا تو لڑکی بن جاتا ہوں مگر کیسے جبروت جب اکیلا ہوتا کہیں بھی تنہائی میں ہوتا تو خود کو لڑکی تصور کرتا اپنے نرم نرم بدن پہ ہاتھ پھیرتا تو قدرے بھلا محسوس کرتا اس کا دل کرتا کہ کوئی بھاری مردانہ ہاتھ اس کے بدن کوچھوئے اس کے دل میں حسرت پیدا ہوتی کہ اس کا سینہ بھی نوعمر لڑکیوں کی طرح اٹھا ہوا ہونا چاہیے۔
اپنے بدن پر کچھ مردانہ نشانیاں مگر دل میں زنانہ خواہشات کا اٹھتا ہوا آتش فشاں دیکھ کر رونے لگتا برہنہ حالت میں اپنے بستر پر لیٹا گھنٹوں کروٹیں بدلتا رہتا۔ جبروت آٹھویں جماعت کے امتحان سے فارغ ہوا تھا کمرے میں لیٹا کوئی ناول پڑھ رہا تھا جب اس نے اپنی اماں کو ابا سے یہ کہتے سنا کہ اپنے محلے میں ایک عجیب بات ہوئی ہے۔ بشیر ڈرائیور کی بیٹی سکینہ لڑکا بن گئی ہے۔ کل اس کے پیٹ میں درد ہوا وہ اپینڈکس کا درد سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو ڈاکٹر نے آپریشن کے بعد سکینہ کے لڑکا بن جانے کی خوش خبری سنا دی۔
یہ خبر سن کر جبروت اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا مطلب دوران پیدائش جس میں کہیں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو آپریشن کرکے وہ ٹھیک کی جاسکتی ہے۔ جبروت نے خودکلامی کی۔ مگر مجھے تو درد کبھی نہیں ہوتا مجھے تو اپنے مردانہ عضو کو دیکھ کر اسے چھو کر اچھا لگتا ہے۔ بہر حال یہ بات طے ہے کہ میں لڑکی ہی ہوں اور ایک آپریشن کی ضرورت ہے بس۔ مگر کیسے اور کون کرے گا یہ آپریشن۔ میں ڈاکٹر سے کیا کہوں گا اور میرے سینے پہ ایسے کوئی آثار بھی تو نمودار نہیں ہوئے جن سے لگے کہ میں لڑکی ہوں۔
آج پھر جبروت کے اماں ابا کی خوب لڑائی ہوئی تھی۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب جبروت کے ابا نے جبروت کو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے آپ سے باتیں کرتے دیکھا۔ اب جبروت کے ابا جبروت کو گھر سے نکالنے کی بات کر رہے تھے۔ جبروت کے ابا نے کہا تھا کہ اپنے لاڈلے سے کہو اپنے لچھن ٹھیک کرے یہ ہروقت لڑکیوں کی طرح آئینے کے سامنے کھڑے رہنا کمرے میں گھسے رہنا دن کو بھی کمرے کا دروازہ بند رکھنا مجھے بالکل پسند نہیں کیوں خاندان اور محلے میں ہماری ناک کٹوانے پہ تلا ہے تیرا لاڈلا۔ محلے میں لوگوں کی بیٹیاں آپریشن سے بیٹے بن رہی ہیں اور ایک ہمارا سپوت ہے جو لڑکا ہو کر بھی لڑکا نہیں لگتا۔ کاش یہ لڑکی ہی بن جاتا اس کو بیاہ تو سکتے یہ پتہ نہیں کون سی مخلو ق ہے۔ جبروت کے ابا غصے میں جانے کیا کیا بول گئے۔
جبروت کا بچگانہ ذہن انتشار کا شکار ہوچکا تھا جبروت عجیب خیالوں میں گم تھا۔ کیا میں اپنے ماں باپ کے لیے توہین کا سبب ہوں۔ کیا اس طرح کا لڑکا ہونے سے لڑکی ہونا بہتر ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ابو نے کبھی مجھے پیار سے نہیں دیکھا۔ کیا یہی وجہ ہے کہ ابو آج تک کہیں بھی مجھے ساتھ لے کر نہیں گئے۔ شاید اسی وجہ سے میں اپنے گھر میں اماں ابا کے ساتھ رہ کر بھی ہمیشہ تنہا رہتا ہوں۔ کیا آپریشن سے میں لڑکی بن سکتا ہوں۔ کیا میرے جوان ہونے پر خاندان اور محلے میں میرے ابو کی ناک کٹ جائے گی۔ جبروت سرگوشی کے انداز میں اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا اور ناجانے کیا سوچ کر سکول بیگ سے کتابیں نکال نکال کر اپنے کپڑے رکھ رہا تھا۔
رات کے دو بج چکے تھے۔ لاری اڈے پر صرف وہ ہی لوگ موجود تھے جو کہیں دور جانا چاہتے تھے یا جو کہیں دور سے سفر کر کے پہنچے تھے۔ رات کے اس پہر تھکے تھکے چہرے جبروت کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جس چھپر ہوٹل کی پٹھے کی چارپائی پہ جبروت بیٹھا تھا اس ہوٹل کا مالک بھی جبروت کو دو تین بار دیکھ کر عجیب سا مسکرایا تھا۔ ہر بار جبروت اس ہوٹل مالک کی مسکراہٹ دیکھ کر نظریں جھکا دیتا۔ آخر ہوٹل مالک کاؤنٹر سے اٹھ کر جبروت کے پاس آگیا اور پھٹے گلے سے نکلتی گرجدار آواز سے بولا لگتا ہے گھر سے بھاگ کر آئے ہو۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


