یقین کے معجزے
ایک پرانی روایت ہے کہ ایک چرواہا مدتوں بعد جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد چلا گیا۔ خطیب خطبہ دے رہا تھا جس کا موضوع بسم اللہ کے فضائل تھا۔ خطیب صاحب نے ایک موقع پر کہا کہ اگر آپ یقین کے ساتھ بسم اللہ پڑھو گے تو پانی پر بھی چل سکو گے۔ چرواہا جمعہ پڑھ کر چلا گیا۔ دوسرے دن خطیب صاحب کے دروازے پر دستک ہوئی انہوں نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی چرواہا کھڑا تھا۔ اس نے خطیب کو سلام کیا اور عقیدت سے ان کے ہاتھ چومے۔
انہوں نے پوچھا خیریت تو ہے؟ چرواہا بولا حضور کل میں دریا کنارے اپنے جانور لے کر گیا تو ایک جانور دریا پار کر گیا میں بہت پریشان ہوا کہ آس پاس نہ کوئی پل ہے نہ گزر گاہ جس سے گزر کر پار جا سکوں تب مجھے آپ کا خطبہ یاد آیا جس میں آپ نے بسم ا للہ کی برکتیں بیان کی تھیں بس میں نے بسم اللہ پڑھی اور پانی کے اوپر چلتا ہوا دریا پار کر گیا اور اپنا جانور لے کر واپس آ گیا۔
قارئین ایمان کیا ہے؟ کسی بات کی تصدیق اور اس کا یقین کرنا۔ مطلب یقین ہی دین کا پہلا دروازہ ہے جب یہ کھلتا ہے تو باقی مراحل آسان ہو جاتے ہیں اگر یقین یا ایمان نہیں تو اعمال چہ معنی دارد۔ اسی لئے ہمارے قائد کی دور اندیشی نے ہمیں ہمارا حتمی موٹو ایمان اتحاد اور تنظیم کی شکل میں دیا۔ جو ہمیشہ ہمارے لئے مشعل راہ رہے گا۔ میڈیکل کی ایک مشہور اصطلاح ہے جسے پلیسیبو ایفیکٹ کہتے ہیں یہ بھی یقین کے گرد گھومتی ہے۔
جس میں مریض کا ڈاکٹر یا فزیشن مرض کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے کوئی ایسی دوا دیتا ہے جو مریض کو نفع دیتی ہے نہ نقصان بس اس کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ آپ اس دوا سے تن درست ہو جائیں گے اور ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں کامیاب لوگوں نے اپنی کامیابی کا یقین رکھا سخت محنت کی اور کامیاب ہوگئے۔ زندگی ہم میں سے ہر ایک سامنا ایسے لوگوں سے ضرور ہوا ہو گا، جو کسی مزار پر جانے یا کسی سے دم درود کروانے یا کوئی خاص عمل کرنے سے تن درست ہو گئے یا ان کا کوئی رکا ہوا کام ہو گیا اس کے پیچھے بھی ان کے یقین کی کار فرمائی تھی۔
آج کل سوشل میڈیا پر پاکستان کی درگاہ کے بہت چرچے ہیں جن کی گاہے بگاہے وڈیوز بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جس سجادہ نشین کسی دوردراز سے آئے ہوئے مریض سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو کیا مسئلہ تھا وہ بتاتا ہے کہ فلاں بیماری تھی دنیا بھر کے ڈاکٹروں سے علاج کروائے مگر افاقہ نہیں ہوا۔ تو آپ کے بارے میں پتا چلا تو یہاں آ گئے اور اب بالکل تندرست ہیں۔ پھر سجادہ نشین خود ہی بتاتے ہیں کہ دیکھا ناظرین یہ یہاں ”یقین“ لے کر آئے تھے اور جھولی بھر کے جا رہے ہیں۔
پنجابی میں ایک روایت ہے کہ کسی آدمی کو سانپ نے کاٹ لیا مگر وہ بچ گیا۔ اس کی تیمارداری کے لئے لوگ آنے لگے جس میں اس کی کچھ بوڑھی رشتہ دار عورتیں بھی تھیں۔ ایک بولی میری خالہ کے سسر کو سانپ نے کا ٹا تھا اس نے تو پانی بھی نہ مانگا۔ دوسری بولی میرے پھپو کے داماد کو بھی کاٹا بے چارہ تڑپ تڑپ کر وہیں مر گیا۔ ابھی تیسری نے بات شروع ہی کی تھی کہ مریض کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔ ان مثالوں سے یقین پر محدود سی آگہی تو ہوتی ہے مگر در اصل یہ موضوع ایک بہت وسیع موضوع ہے یقین ایک بہت بڑا ہتھیار اور ڈھال ہے جو کبھی چند جان بازوں کے لشکر کو ہزاروں پر فتح دیتا ہے تو کبھی ان دیکھا خوف بن کر ہمارے رستے کی دیوار بن جاتا ہے اور ہمیں ایک قدم بھی منزل کی طرف نہیں جانے دیتا۔
مشہور باکسر محمد علی کہتے ہیں کہ یہ یقین کی کمی ہے جو لوگوں کو چیلنجز کا سامنا کرنے سے ڈراتی ہے اور مجھے خود پر یقین ہے۔ اوپراہ ونفرے کہتی ہیں کہ آپ وہ بنتے ہیں جو آپ یقین رکھتے ہیں اور علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

