اسدعمر اور بغیر دماغ کی حکومت۔ !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری ممدوح پی ٹی آئی حکومت کئی طرح سے ماضی کی حکومتوں سے مختلف ہے۔ یوں تو اس پارٹی کی گزشتہ سالوں میں اٹھان سے لے کر الیکشن میں کامیابی تک سب کچھ نرالا ہے لیکن جیسے تیسے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے اک نیا طرز حکمرانی متعارف کروایا ہے۔ پنجاب میں وزارت اعلی کی بات کریں تو قلمدان بزدار صاحب کے پاس ہے لیکن فیصلہ سازی پر پرویز الہی اور دیگر کئی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال کے پی کے حکومت کا ہے جہاں وزیراعلی کی قلمرو پر کئی لوگوں کا تسلط ہے۔ ہماری ممدوح حکومت نے انتخابی مہم اور قبل ازیں مخالفوں کو رگیدنے کے لیے ایسی ایسی نکتہ آفرینی کی اور حقائق کو مسخ کرتے ہوئے عوام سے اپنے دور حکومت میں سہولیات کے ایسے وعدے کیے جن کو پورا کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔

عمران خا ن صاحب کو یوں تو اپنی ساری ٹیم پر بہت ناز تھا لیکن بطور خاص وہ اسد عمر صاحب کی تحسین کرتے تھے۔ اور ان کو تحریک انصاف کا دماغ قرار دیتے تھے۔ اسد عمر صاحب بھی نواز حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خوب لتے لیتے اور اعداد و شمار سے قومی اسمبلی کے اندر اور ٹی وی ٹاک شوز میں ثابت کرتے کہ پٹرول کی قیمت 46 روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف خان صاحب نے عوام سے وعدہ کیا کہ اگر وہ وزارت عظمیٰ کے مسند نشین بن گئے تو بے روزگار نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اور بے گھر پاکستانیوں کے لیے 50 لاکھ گھر بنائیں گے۔ مراد سعید صاحب کی وہ مشہور پیشگوئی تو یقینی طور پر آپ نے کسی ہوگی کہ جس دن خان صاحب حلف اٹھائیں گے۔ اگلے دن 2 سو ارب ڈالر ملک میں آ جائیں گے۔ سو ارب وہ بیرونی قرض خواہوں کے منہ پر دے ماریں گے اور ایک سو ارب ڈالر ہم وطنوں پر خرچ کریں گے۔ اس وعدہ جاں فزا پر مجمع کا جوش و خروش دیدنی تھا۔

ان بلند و بانگ دعووں کے ساتھ برسراقتدار انے والی حکومت پر حقیقت آشکار ہونا شروع ہوئی تو نہ صرف قرض مانگنے پر خودکشی کو ترجیح دینے کے موقف سے رجوع کرنا پڑا بلکہ دوست ملکوں کے سامنے بھی دست سوال دراز کرنا پڑا۔ 46 روپے لیٹر پیٹرول کے دعویدار اسد عمر صاحب کی وزارت مالیات کے زیر سایہ پیٹرول 100 روپے پہ پہنچ گیا اور ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ گیا۔ مہنگائی کی ایسی لہر آئی کہ امیر و غریب سب کو اس کی تپش محسوس ہوئی۔

بجلی کی قیمت جو بڑھی سو بڑھی گیس کے بلوں نے صارفین کے چودہ طبق روشن کر دیے۔ دریں حالات پوری حکومت بالعموم اور اسد عمر صاحب بالخصوص اپوزیشن اور عوامی غیظ و غضب کے نشانے پر آگئے۔ فلاح و ترقی کی عوامی امنگیں دم تو ڑنے لگیں تو خان صاحب نے کابینہ میں ردوبدل کے نام پر اسد عمر صاحب کو چلتا کر دیا۔ اس امر کا احساس کیے بغیر کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں۔ اور اگلا بجٹ سر پر ہے۔

ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ آنے والا وزیر خزانہ اس قدر کم وقت میں بجٹ کیسے بنائے گا اور تحریک انصاف کی حکومت اپنے دماغ کے بنا کیسے حکومت کرے گی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پردے کے پیچھے ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہے اور ان بیچارو ں پر مختاری کی نا حق تہمت ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •