بجٹ، وزیراعظم کے آنسو اور اپوزیشن کا لتاڑا

وطن عزیز، مذعومہ اسلامی لیبارٹری میں ہم نے اسلام پر عمل کرنے کی تو کوئی سنجیدہ کاوش نہ کی البتہ اس نو مولود ریاست کے جسد ناتواں پر یوم ولادت سے وہ سیاسی تجربے کیے کہ آدھا جسم پہلے مفلوج ہوا اور اخرش کاٹ ڈالا گیا۔ لیکن ہماری افتادطبع پر اس سانحہ جانکاہ کا بھی…

Read more

فرشتہ ہو یا مریم، احترام سب کا

خالق کائنات کے بعد نسل انسانی کی بقا کے لیے عورت کا کردار نا قابل فراموش ہے۔ عورت نہ صرف ماں کے روپ میں بے پناہ تکالیف سہہ کر نئے انسانوں کو جہان رنگ و بو میں لاتی ہے بلکہ ہر روپ میں انسانوں بشمول مردوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ انسانوں اور خصوصا مردوں میں جب بھی مناقشہ اک حد سے بڑھتا ہے تو فریق مخالف کو نیچا دکھانے کے لئے ماں، بہن، بیٹی، بیوی یا کسی بھی ایسے رشتے کو گالی اور دشنام کا حصہ بنایا جاتا ہے جو کسی خاتون سے منسوب ہوتا ہے۔خواتین سے معنون گالیوں کا فعل قبیح تقریبا تمام معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین کے احترام اور تکریم کی درخشاں روایات بھی پائی جاتی رہی ہیں۔ جہاں بیٹیاں سب کی سانجھی سمجھی جاتی رہی ہیں۔ قبیلوں، برادریوں کے مابین قتل تک معاف کر دیے جاتے ہیں اگر قصوروار فریق کی کوئی خاتون مقتول کے گھر معافی مانگنے آ جائے۔

Read more

جلنے والے کا منہ کالا

سیاست معاشرے کی مجموعی نمو کی امین اور استعارہ ہوتی ہے اور چرخ کہن اس بات کا گواہ ہے کہ ہماری سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ اقوام عالم اور خطے میں ہماری قومی توقیر کے پھریرے چار سو اگر لہرا رہے ہیں تو یہ ہماری اسی سیاسی انفرادیت کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔پسماندہ اور غیر تہذیب یافتہ دنیا میں سیاست قومی کے اجزائے ترکیبی پر نظر دوڑائی جائے تو وہ لوگ اکیسویں صدی میں بھی سیاستدان، سیاسی جماعتوں، اورروٹین کے انتخابات پر ہی تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ جو کہ ان کی ذہنی نا رسائی اور دماغی بودے پن کا کھلا اظہار ہے۔ نا ہنجار آج بھی سیاست اور سیاستدانوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ سماج اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔ یہ کوتاہ نظری اور کور چشمی ہم اپنے ہمسایہ ممالک میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Read more

بخدمت جناب ڈی جی، آئی ایس پی آر صاحب !

ادارے اور ان کی حدود کار کا تعین برسوں کی انسانی کاوشوں کا ثمر ہے اور اس کا مطمح نظر یہی تھا کہ معاشرے کی دانش اجتماعی بروئے کار لاتے ہوئے فلاحی ریاست قائم کی جاسکے۔ ہمارے گردوپیش کی دنیا اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جہاں جہاں جمہوریت اور اس کے زیر سایہ…

Read more

منصف کے چہرے پہ بہتا ہوا خون اور انصاف؟

اختلاف اور اختلاف رائے بنیادی انسانی جبلت ہے۔ اور تنازعات، مناقشے لڑائی جھگڑے حیوانی جبلت کا خاصہ ہیں۔ جب انسان دوسرے حیوانوں کے ساتھ غیر متمدن جنگلوں میں رہائش پذیر تھا تو وہ بھی دیگر حیوانوں کی طرح طاقت کے اصولوں پر عمل پیرا تھا۔ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول ہی…

Read more

اسدعمر اور بغیر دماغ کی حکومت۔ !

ہماری ممدوح پی ٹی آئی حکومت کئی طرح سے ماضی کی حکومتوں سے مختلف ہے۔ یوں تو اس پارٹی کی گزشتہ سالوں میں اٹھان سے لے کر الیکشن میں کامیابی تک سب کچھ نرالا ہے لیکن جیسے تیسے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے اک نیا طرز حکمرانی متعارف کروایا ہے۔ پنجاب میں…

Read more

حکومتی کارکردگی۔ اپوزیشن پر تبرا !

کار سیاست کو اگر معاشرے کی آشیاں بندی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اور چونکہ معاشرے اور سماج کی اکائی انسان ہے اور انسان رنگ، نسل، زبان، علم اور اپچ کے اعتبار سے متنوع ہوتے ہیں۔ اس لیے اہل سیاست بھی سماج کو انہی انسانی تحدیدات کی روشنی میں دیکھتے ہیں اور دل و دماغ کو وسعت دیتے ہوئے عوام الناس کی فلاح وبہبود کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

Read more

احتیاط کریں: آگے بی آر ٹی جاری ہے !

تنقید دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ اور کام کرنا، کارکردگی دکھانا، کسی غلطی کو سدھارنا، کسی منصوبے کو خیال سے حقیقت تک لے جانا، جان جوکھوں کا کام ہے۔ کچھ ایسی ہی حالت ہماری موجودہ برسراقتدار پارٹی تحریک انصاف کی ہے۔ صاف چلی، شفاف چلی کے نعرے کے ساتھ سیاست کے میدان خار زار…

Read more

ہمارا ”سچ“ اور اقوام عالم

ازل سے کائنات سچائی کے سنہری اصول پر قائم کی گئی ہے اور تا ابد سانچ کو آنچ نہیں۔ جھوٹ، فریب، پروپیگنڈا، ملمع کاری کسی بھی فرد یا قوم کو وقتی فائدہ دے سکتی ہے۔ لیکن مآل کار یہ لمحاتی امرت دھارا، زہر ہلاہل ہی ثابت ہوتا ہے۔ وطن عزیز جو کہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ یہاں پر ہم نے بہت سے تجربات کیے ہیں سوائے ایک بار سچ کو آزمانے کے۔ میدان سیاست ہماری اس قومی افتاد طبع کی خاص جولان گاہ رہی ہے۔ اور اس ضمن میں ہم نے وہ کشتوں کے پشتے لگائے ہیں کہ ہند، سندھ میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کو اپنے ممدوح فیلڈ مارشل کے مقابل آنے کی پاداش میں غدار قرار دینے سے لے کر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو سیکیورٹی رسک قرار دینے تک ہم نے کئی معرکے سر کیے ہیں۔

Read more