کیا مدارس کو جدید تعلیم کی ضرورت ہے؟
اہم بات یہ ہے کہ یہ آرمی کی ڈومین نہیں آخر وزارت داخلہ و خارجہ اور وزارت تعلیم و اطلاعات والے کام ڈی جی آئی ایس پی آر کے حوالے کر کے حکومت کیا تاثر دینا چاہتی ہے؟ کسی کو خوش کرنے اور آئی ایم ایف کے چند سکوں کے حصول کی خاطر آرمی پر دباؤ ڈال کر مدارس کی ماتحتی و تبدیلی نصاب پر بلاجواز بات کرنا کون سا انصاف ہے؟
اسی طرح مدارس کی تعداد بڑھنے سے پریشانی کا لاحق ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ 70 سال پہلے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کی تعداد کتنی تھی اور اب اس کی کیا شرح ہے؟ تو ظاہری بات ہے کہ جب آبادی کے بڑھنے سے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو اسی طرح مدارس کی تعداد میں اضافہ بھی خلاف عقل نہیں اور اس پر بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ تمام مدارس اپنا آڈٹ کراتے ہیں کوئی مدرسہ ایسا نہیں جو آڈٹ نہ کراتا ہو۔ ایک مطالبہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مدرسے کا مولوی ڈاکٹر، انجینئر، فوجی اور بینکر بنے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر، انجینئر یا کوئی بینکر، فوجی بن سکتا ہے؟
یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر ایک شعبہ کے رجال کار اس شعبہ میں تخصیص کے ذریعے ہی پیدا کر کے قوم کو دیے جا سکتے ہیں۔ توجس طرح باقی ادارے اپنے اپنے مخصوص شعبہ جات میں تخصیص کرواکے انجینئر، ڈاکٹر، فوجی و بینکر پیدا کر رہے ہیں بالکل اسی طرح مدرسہ اپنے ارباب مدارس کی زیر نگرانی اپنے شعبے میں کار فرما ہے اور حقیقت میں باقی اداروں کی ناکامی جتنی شرح میں کامیابی کی شرح رکھتے ہیں، کیونکہ یہ تو ہو سکتا ہے ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے مریض ہسپتال کے باہر ہی دم توڑ جائے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ ٹیچرز کی ہڑتال کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کو داؤ پہ لگایا جائے، وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے عوام اپنا حق نہ لے سکیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جنازہ آجائے اور مولوی صاحب احتجاج کر رہا ہو، نماز کا وقت ہو جائے اور امام صاحب مسجد کو تالا لگا کے بیٹھ جائے، نکاح کی محفل سج جائے اور مولانا صاحب احتجاجاً گھر بیٹھا ہو؟
اگر حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے، تعصب کا چشمہ اتارتے ہوئے، بیرونی دباؤ کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوئے اگر سوچا جائے توآپ کا ضمیر فیصلہ دے گا، آپ کا دل فتویٰ دے گا کہ اصلاحات ان اداروں میں ہونی چاہئیں جہاں سالانہ امتحانات کے پرچے پہلے سے آؤٹ ہوجاتے ہیں، جہاں سرعام نقل ہوتی ہے، جہاں سے آئے روز طالبات کی خودکشیوں کے کیسز سامنے آتے ہیں، جہاں جنسی طور پر ہراساں کرنا معمولات میں شامل ہے، جبکہ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ہمیشہ سے ان اداروں کی اصلاح کی بات جو ان تمام غلاظتوں اور خباثتوں سے پاک ہیں۔
اور جہاں تک مدارس میں دہشتگردی کی بات ہے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ساری دنیا میں دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے، حالیہ واقعات میں سے سری لنکا، نیوزیلینڈ میں مسجد پر ہونے والا حملہ ہوا، ٹوئن ٹاور پر حملہ کرنے والے 14 لوگ ہوں جو گرفتار ہیں جن کا ریکارڈ ساری دنیا جانتی ہے، اسی طرح پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے چاہے وہ جی ایچ کیو پر حملہ ہو، کامرہ ایئر بیس پر ہو، کراچی ایئرپورٹ پر ہو ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث جتنے لوگ ہیں کیا ان میں سے ایک بھی دینی مدرسے کا طالب علم اور تربیت یافتہ ہے؟
اور یہ کہ امام بخاری، امام مسلم، لعل شھباز قلندر، شاہ عبدالطیف، پیر راشد روضہ دھنی، عبداللہ شاہ غازی، پیر پگارا یہ سب کہاں کے پڑھے ہوئے ؛ اور تربیت یافتہ ہیں۔ آخر میں مدرسہ کے کردار کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہو گا کہ مدرسہ ایسے مولوی تیار کرتا ہے کہ وہ بلا تفریق ڈاکٹر، انجینئر، بینکر، پارلیمنٹری، فوجی ہر ایک کے نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان کہ کر دنیا میں استقبال اور جنازہ پڑھا کر دنیا سے رخصت بھی کرتا ہے اور اسے زندگی میں دعائے مغفرت بھی سکھاتا ہے تا کہ کم از کم اپنے والد کا جنازہ نہ پڑھا سکے تو بھی دعائے مغفرت تو کر سکے۔

