کیا مدارس کو جدید تعلیم کی ضرورت ہے؟
( کالم نگار ایم ایم اے سندھ کے صدر اور جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل ہیں )
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں مدارس کو مین اسٹریم میں لانے کی بات کی ہے۔
پہلی بات یہ سمجھنی چاہیے کہ مدارس مین اسٹریم میں ہیں پاکستان میں کوئی ایسا مدرسہ نہیں ہے جو اَن رجسٹرڈ ہو، اور نا ہی ایسا کوئی مدرسہ ہے جو پاکستان کے قوانین کے خلاف کام کر رہا ہو، تمام مدارس پاکستان کے آئین کے مطابق اور رجسٹریشن کے طریقے کار کو فالو کرکے اپنی دینی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، لہذا یہ کہنا کہ مدارس مین اسٹریم میں نہیں ہیں سراسر غلط ہے، جہاں تک مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت دینے کی بات ہے اور ساتھ ہی یہ غلط تاثر بھی دیا گیا کہ ملک کے تمام علماء، اتحاد تنظیمات مدارس کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ اس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کیا جائے۔
حالانکہ حقائق اس غلط بیانی کو کچھ اس طرح سے ہے نقاب کرتے ہیں کہ پہلے مدارس کی رجسٹریشن لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے پھر وزارت صنعت کے ذریعے ہوتی رہی اور اتحاد تنظیمات مدارس کا مطالبہ حکومت سے صرف یہ تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن محکمہ تعلیم کے ذریعے کی جائے تو اس غلط فہمی کو دور ہونا چاہیے اور اس غلط بیانی کا پردہ چاک کیا جانا چاہیے۔ مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت کیا ہی کیسے جا سکتا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ صرف صوبہ سندھ کا محکمہ تعلیم 140 ارب کے خسارے میں ہے ان میں سرکاری اسکولز چلانے کی سکت نہیں اور وہ چلانے کے لئے این جی اوز کے حوالے کیے جا رہے ہیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سرکاری اسکولز کی حالت مخدوش ہے جب محکمہ تعلیم ان کو چلانے کی پوزیشن میں نہیں تو مدارس کے اخراجات کیسے برداشت کرے گا؟ محکمہ تعلیم کے مدارس کے اخراجات کا عدم متحمل ہونے کی کچھ عکاسی اتحاد تنظیمات مدارس، ان کے طلبہ کی تعداد، ان کو دی جانی والی خدمات بھی کرتی ہیں، جو کہ کچھ اس طرح سے ہیں:
پاکستان کے چاروں صوبوں میں دینی مدارس کی تعداد 30 ہزار سے 40 ہزار کے لگ بھگ ہے، جن میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 25 سے 30 لاکھ کے قریب ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مدارس کا الحاق رکھنے والے وفا ق المدارس العربیہ پاکستان (ملتان) کے تحت 20 ہزار 491 مدارس و جامعات ہیں، جن میں طلبا و طالبات کی تعداد 25 لاکھ 98 ہزار 329 ہے۔ جبکہ اب تک وفاق المدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد ہے۔ جبکہ ہر سال لگ بھگ 10 سے 15 ہزار سے زائد علمائے کرام فارغ ہوتے ہیں۔
دوسرے نمبر پر اہلسنت بریلوی مسلک کے مدارس ہیں، جن کی ملک بھر میں مجموعی تعداد 10 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے، جہاں ہر سال 3 سے 4 ہزار علمائے کرام فارغ ہوتے ہیں۔ جس کے بعد اہلحدیث مسلک کا وفاق المدارس السلفیہ، جماعت اسلامی کے مدارس کا امتحانی بورڈ رابطہ المدارس الاسلامیہ اور وفاق المدارس الشیعہ ہے، جن سے لگ بھگ دو ہزار علما و ذاکرین تیار ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں علما ہر سال دینی مدارس سے فارغ ہوتے ہیں، 30 ہزار سے زائد دینی مدارس میں ملک بھر کے 25 لاکھ سے زائد بچے قرآن و حدیث کی تعلیم مفت حاصل کرتے ہیں، اکثر بچوں کی تعداد مڈل کلاس سے بھی نیچے طبقے کی ہوتی ہے۔ جہاں پر مدرسوں میں ان بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ مفت ہاسٹل، تین وقت کا مفت کھانا، بیماری کی صورت میں علاج معالج، پہننے کے لئے کپڑے، تیل صابن اور گھر آنے جانے کے لئے کرایہ تک مدرسہ کی انتظامیہ فراہم کرتی ہے۔
جہاں تک مدارس کا نصاب تعلیم ہے وہ خود ہی ایک اسپیشلائیزیشن ہے جس طرح میڈیکل انجینئرنگ ایک اسپیشلائیزیشن ہے دینی تعلیم بھی ایک اسپیشلائیزیشن ہے باقی الحمد للہ مدارس میں اس بات کا اہتمام موجود ہے کہ وہاں میٹرک تک تعلیم لازمی دی جاتی ہے میٹرک کے بعد ان کو اسپیشل اسلامک ایجوکیشن دی جاتی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ مسلک بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث کا نصاب 98 ٪ یکساں ہے جب کہ خود حکومتی تعلیمی اداروں میں او لیول اور میٹرک کی ایک ایسی تفریق موجود ہے جو امیر اور غریب کے درمیان فرق کرتی ہے۔ خود ملک کے اندر جو نظام تعلیم کا معیار رکھا گیا ہے سب سے پہلے اسے ٹھیک کیا جائے اور طبقاتی نظام تعلیم کے خلاف بات کی جائے تا کہ یکساں نظام تعلیم ہو اور غریب کا بچہ بھی او لیول پڑھ سکے۔
ایک اور بات جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں کی کہ بعض مدارس میں دہشتگردی کی تعلیم دی جاتی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اور 29900 مدارس کو کلیئرنس کا پروانہ تھماتے ہوئے ایک طرح سے ان کے امن گہوارہ ہونے کا اعتراف کیا اور ساتھ یہ کہا کہ 100 مدارس کے بارے میں کہا کہ وہاں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے تو میرے ان سے دو مطالبے ہیں ایک تو یہ کہ ہمیں ان مدارس کا نام اور پتہ بتایا جائے تا کہ ہم خود ان سے بیزاری کا اعلان کریں اور دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ہمیں مدارس کے نصاب میں سے وہ کتب اور وہ صفحات پوائنٹ آؤٹ کر کے دیے جائیں کہ اس کتاب کے اس صفحے سے اس مضمون سے دہشت گردی کی یا فرقہ واریت یا انتہا پسندی کی بو آ رہی ہے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور ہم اس پر نظر ثانی کر سکیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


