عمران خان بہادر ہے مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہے
عمران خان ”تو بہادر ہے، پر ہارے ہوئے لشکر میں ہے“، یہ بات 9 ستمبر 2014 کو اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، آج یہ بات وال چاکنگ نہیں ہے، بلکہ حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے، آج ہر پاکستانی کو اندازہ ہو چکا ہے، کہ تبدیلی ٹیکنوکریٹس، لوٹوں اور نا اہلوں سے لائی جا رہی ہے، عمران خان کی نیت پر آج بھی شک نہیں، ان کی لگن، محنت سب کچھ سہی، پر کیا صرف نیت اور لگن سے ملک چل سکتا ہے؟ غریب کے گھر کا چولہا گرم ہو سکتا ہے؟ بے روز گار کو روز گار مل سکتا ہے؟
25 جولائی 1996 لاہور زمان پارک سے 2019 وزیراعظم ہاؤس تک کا سفر خود بہت ساری تبدیلوں سے بھرا پڑا ہے۔
عمران خان 23 سال پہلے گنتی کے چند مگر بہادر لوگوں کے ساتھ تھے، احسن رشید، حفیظ اللہ نیازی، مواحد حسین، محمود اعوان، نوشیرواں برکی، نعیم الحق یہ لوگ تانگہ پارٹی ہی سہی مگر نظریاتی کارکن تھے، پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد پر آسٹریلیوی میڈیا نے کہا تھا، کہ عمران خان کی تبدیلی کا نظریہ مبہم ہے، وہ آج بھی مبہم ہے، نا کوئی سمت ہے، بے نظیر بھٹو نے کہا تھا، امید ہے کہ، عمران خان بال ٹمپرنگ سے پرہیز کریں گے، اور میرا خیال ہے، کہ بال ٹمپرنگ سے ہی عمران خان وزیراعظم بنے ہیں، عمران خان کا منشور کہ میں وزیر اعظم نہیں بنوں گا، کیونکہ وزیراعظم کٹھ پتلی بن جاتا ہے، تو اس کا مطلب آج وہ کٹھ پتلی بن چکے ہیں، لوٹوں اور کرپٹ لوگوں کو پارٹی میں شامل نہیں کروں گا، آج سوائے عمران خان ساری پارٹی دوسری جماعتوں کی غلاظت کا اڈہ بن چکی ہے، منفی اور توڑ پھوڑ کی سیاست نہیں کروں گا، سب سے زیادہ منفی اور توڑ پھوڑ کی سیاست کی بھی تحریک انصاف نے ہے، اس لیے خان صاحب آپ بہادر ضرور ہیں، پر ہارے ہوئے لشکر میں ہیں۔
وہ لشکر جو اپنے سپہ سالار وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کرتا رہا ہے، ان کی قابلیت اور میرٹ آج خود ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے، آپ نے جن لوگوں کے ساتھ مل کر یہ خواب دیکھا تھا، آج وہ لوگ اپ کے ساتھ نہیں ہیں، آپ ان لوگوں کے ساتھ ہیں، جن کے خلاف آپ نے یہ خواب دیکھا تھا، تحریک انصاف نے 1996 میں جس سفر کا آغاز کیا تھا، آج وہ روایتی وعدوں کی طرح لگتا ہے، کیونکہ آدھی کابینہ پر تو نیب کے کیس چل رہے ہیں، آپ کا نظریہ اقتدار کی بھینٹ چڑھ گیا، آپ کے اپنے بیانات آج آپ کا ہی راستہ کاٹ رہے ہیں، ایک لیڈر سے روایتی سیاستدان بنے میں آپ کو بہت تھوڑا عرصہ لگا، 2011 لاہور تاریخی تبدیلی والی تقریر، لوگوں کے پاس آب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ تیسرا آپشن ظاہر ہونے لگا تھا، اس سے پہلے تک تحریک انصاف کی ڈکشنری میں یو ٹرن جیسا کوئی لفظ نہیں تھا، گروپ بندی بھی نہیں تھے، انٹرا پارٹی الیکشن میں ترین اور علیم خان پر دھاندلی کا الزام لگا، تحقیق ہوئی تو مجرم ٹھہرے، لیکن خان نے تحقیق کرنے والوں کو ہی گھر بھیج دیا،
جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اس کے بعد پارٹی کے بڑوں میں دھڑا بندی عام ہو گی، ترین اور قریشی گروپ بن گئے، عمران خان اپنے روایتی سیاستدانوں والی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اقتدار کی جانب گامزن ہو گئے، 1996 والا منشور لوٹوں کی نذر ہو گیا، 2013 میں اپنی الگ پہچان سے الیکشن لڑنے والی جماعت 2018 میں لوٹوں کے جتھوں کے ساتھ میدان میں اتری، وہ الیکٹیبلز جو اس پارٹی نے حرام قرار دیے تھے، وہی خان صاحب کی آنکھوں کا تارہ بن گئے، کسی کے اشاروں پر وہ لوٹے ایک نا اہل شخص کے ساتھ بنی گالا لائے جاتے رہے، نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف بھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرح استعمال ہو گئی، 23 سال کی جدوجہد گِدھوں کے آگے ڈال کر یہ اقتدار کی ہوس سے اپنی بھوک مٹانے چلے ہیں، تحریک انصاف کے بانی رکن آج ایک بھی ان کے ساتھ نہیں ہے، اس منزل کو کیا کرنا، جہاں شریک سفر ہی ساتھ نا ہوں،
جہانگیر ترین مشرف کا وزیر، عدالت سے نااہل آج کس اخلاقی اعتبار سے وزیروں کو طلب کرتے ہیں، شوگر مافیا کا سرغنہ عمران خان کا نظریاتی کارکن کیسے بن گیا؟ حامد خان نے کہا ہے، میں اس شخص سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتا، یہ پارٹی میں تقسیم کا مرکزی کردار ہے، عمران خان جلد اس سے پیچھا چھڑا لیں، لیکن آج وہ ڈپٹی پرائم منسٹر ہے، ووٹرز کے منہ پر غلاظت پھینکنے کے مترادف لگتا ہے، جب وہ منتخب نمائندوں سے کارکردگی پر سوال کرتا ہے، ایک منتخب بندہ ایک بد دیانت کے سامنے جواب دہ کیسے ہو سکتا ہے؟
علیم خان اس سٹیٹس کو کا نام ہے، جس کے خلاف آپ نے جدوجہد شروع کی تھی، مشرف دور میں پنجاب کابینہ کا حصہ، قبضہ مافیا کا بادشاہ کس طرح حامد خان، وجیہہ الدین اور اکبر ایس بابر کی جگہ لے سکتا ہے؟ شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی کا وزیر، جاگیردار، سرمایہ دار، چوہدری سرور امپورٹڈ، غلام سرور گیس سٹیشنز کا مالک، مشرف کی کابینہ کا حصہ، عشرت حسین ممی جو ہر دور میں کہیں نا کہیں جگہ بنا لیتی ہے، مشرف دور میں گورنر سٹیٹ بینک، رازق داؤد ڈیسکون کا مالک، مشرف کا انضمام الحق، فواد چوہدری یہ زبان کو نہیں، زبان ان کو لگی ہوئی ہے، کل تک زرداری اور نواز شریف کے ترجمان اور آج آپ کے، وزارت اطلاعات میں ان کی جگہ اب، فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے لے لی، تحریک انصاف کے ایک پرانے ساتھی کہ رہے تھے، کہ جب فردوس صاحبہ بریفنگ دے رہی تھی، تب مجھے اتنی شرم آ رہی تھی، کہ بتا نہیں سکتا۔
بات بھی انصاف کی ہے، وزارت داخلہ عمران خان کے پاس تھی، اپنی خراب کارکردگی کی وجہ سے اپنا بھی بیٹنگ آرڈر تبدیل کر دیا، آب ایک فل ٹائم وزیر داخلہ جناب برگیڈیر ریٹائر اعجاز شاہ، مشرف کا قریبی ساتھی، ق لیگ بنانے میں اہم کردار، اب خان کا میاں داد، اسد عمر اخلاقی اعتبار سے جیت گئے ہیں، لیکن خان صاحب خود حفیظ شیخ کو لا کر ناک آوٹ ہو گئے ہیں، زبیدہ جلال مشرف کی ساتھی، کرپشن کے کیس، فہمیدہ مرزا پیپلز پارٹی کی اسپیکر، کرپشن کے کیسز، علی زیدی تکبر کا بڑا نام، باہر سے انویسٹرز آئے عمران خان کو بریفنگ دی، عمران خان نے حکم دیا کہ انہیں علی زیدی سے ملوایا جائے، وزیر صاحب کے پاس وقت ہی نہیں تھا، وہ ایک ہفتہ انتظار کرنے کے بعد واپس چلے گئے، یہاں وزیراعظم سے ملنا آسان، وزیر سے ملنا نا ممکن، خسرو بختیار صوبہ محاذ، مشرف کا وزیر، شیخ رشید آن پڑھ، لمبی زبان، نا اہلیت، ہر دور میں وزیر بن جاتے ہیں، پرویز خٹک پورا خاندان اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے، موروثی سیاست خان صاحب کی آنکھوں کے نیچے پارٹی منشور کا منہ چڑھا رہی ہے۔
فیصل واوڈا جس کی سیاسی بصیرت اتنی نہیں کہ وہ بلدیہ کا الیکشن لڑ سکے، وہ آپ کا وفاقی وزیر، خالد مقبول صدیقی پاکستان توڑنے کی باتیں کر رہا ہے، میاں محمد سومرو مشرف دور میں چیئرمین سینٹ اور اب آپ کے وزیر نجکاری، عمر ایوب کا تو شجرہ بھی ماشا اللہ معتبر ہے، جناب ایوب خان کے پوتے ہیں، مشرف کے ساتھی بھی رہ چکے ہیں، اعظم سواتی ہر جماعت کی اے ٹی ایم مشین، مشرف کے ساتھی، بد دیانت، عدالت کے بہت سخت ریمارکس موجود ہیں، لیکن پھر وزیر بنا دیے گئے، امین اسلم خان مشرف کے بھی وزیر ماحولیات، اور اب آپ کے بھی، بابر اعوان، طارق بشیر چیمہ، افتخار دورانی، اعظم خان پرنسپل سیکرٹری، ذلفی بخاری، ان لوگوں سے جتنا جلدی ہو سکے، پیچھا چھڑا لیں، زرداری اور مشرف کی کابینہ تبدیلی نہیں ہو سکتی، آپ کی کابینہ متنازع نہیں، مضحکہ خیز لگتی ہے، عمران خان یہ وہ لشکر ہے، جو ہر دفعہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے روپ میں قومی اسمبلی کی ستر، اسی فیصد سیٹوں پر برآجمان ہوتے ہیں، یہ ٹیم آپ کو بدلنی پڑے گی۔
چلی کے شاعر نے کہا تھا،
”کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے،
کہو تم وزارت میں جانے سے پہلے،
کہو تم سفارت میں جانے سے پہلے،
دکھاؤ ہمیں اپنے اعمال نامے،
قیامت کے دن اور خدا پر نا چھوڑو،
قیامت سے یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں،
اسی چوک میں خون بہتا رہا ہے،
اسی چوک میں قاتلوں کو پکڑ کر سزا دو، سزا دو، سزا دو ”
اگر 23 سال کی جدوجہد کا مقصد صرف عمران خان کو وزیراعظم بنانا تھا، تو وہ چیلنج مکمل یو گیا ہے، وہ وزیراعظم بن گئے ہیں، 23 سال ایک پارٹی بننے کے لئے بہت ہوتے ہیں، لیکن یہ جماعت شاید دوسری جماعتوں کی غلاظت کا مجموعہ ہے، آج عمران خان ہمیں وزیراعظم تو نظر آتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں تو ہے، پر بطور ایک جماعت وہ تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے گی۔


