زمانہ قدیم اور جدید ٹیکنولوجی

آج کل سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے۔ سائنس اس عملی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ موبائیل فون سے لے کر ٹیلی ویژن۔ بجلی۔ گیس۔ چولہا۔ ماچش کی ڈبی تک جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سب سائنس کی ایجادات ہیں۔ ہم آج کل ہر طرح کی انفارمیشن کے…

Read more

عمران خان بہادر ہے مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہے

عمران خان ”تو بہادر ہے، پر ہارے ہوئے لشکر میں ہے“، یہ بات 9 ستمبر 2014 کو اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، آج یہ بات وال چاکنگ نہیں ہے، بلکہ حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے، آج ہر پاکستانی کو اندازہ ہو چکا ہے، کہ تبدیلی ٹیکنوکریٹس، لوٹوں اور…

Read more

نا اہلوں کا ٹولہ اور اسد عمر

”اسد عمر پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے“، یہ الفاظ جناب وزیراعظم عمران خان کے تھے، جب وہ کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرتے تھے، تب اسد عمر سب کچھ چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے، پاکستان تحریک انصاف میں جو دو چار اچھے اور نیک نیت لوگ ہیں، ان میں اسد عمر بھی…

Read more

ویژن تو پھانسی چڑھ گیا پر بھٹو آج بھی زندہ ہے!

ذوالفقار علی بھٹو کو اس دنیا سے بچھڑے چالیس سال ہو گئے ہیں، بھٹو کی پھانسی آج بھی متنازع، عدالتی فیصلہ عدالتی قتل قرار، دنیا اس غیر معروف مقتول کا نام تک نہیں جانتی، جس کے قاتل کو دنیا آج قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے یاد کرتی ہے، دنیا کو اپنی ذہانت…

Read more

یس سر پارٹی چاہیے یا نو سر پارٹی؟ فیصلہ عوام کا!

عموما سیاسی جماعتوں میں ایک آقا، سردار، گاڈ فادر ہوتا ہے، جسے ہم اس جماعت کا لیڈر، سربراہ، چئرمین کہتے ہیں، جس کی بات حرف آخر سمجھی جاتی ہے، پارٹی کا ہر رکن جناب آقا، سردار، گاڈ فادر کے فیصلے کے آگے سر جھکا لیتا ہے، اخلاقیات نام کی کوئی چیز سیاسی جماعتوں میں موجود…

Read more

عثمان بزدار پر عمران خان کو حیرت!

عثمان بزدار پر خان صاحب کو حیرت ہونا، میرے لیے سرپرائز ہے۔ خان صاحب نے جب جناب عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب لگایا، تو ایک وڈیو پیغام جاری کیا، جس میں خان صاحب نے ایک عجیب میرٹ بتایا کہ عثمان بزدار کا تعلق پسماندہ علاقے سے ہے، ان کے گھر بجلی نہیں ہے، یہ…

Read more

بادشاہ سلامت!

کہتے ہیں کسی کی بیماری پر بات یا اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، کیونکہ یہ آزمائش اللہ تعالٰی کی طرف سے آتی ہے، مجھے ڈاکٹری نہیں آتی اس لیے زیادہ بات کرنا مناسب نہیں ہے، لیکن ہمارے ملک میں ایک شاہی بیمار موجود ہیں، جن کی بیماری ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے، ہر ٹی وی چینل، اینکر، تجزیہ کار ہر بندہ میاں نواز شریف کی بیماری کو لے کر بیٹھا ہے، پچھلے ایک ہفتے سے ایک قومی مسئلہ بن کہ رہ گیا ہے۔ کیا یہاں بے روزگاری ختم ہو گئی ہے؟

کیا فی کس آمدنی میں اضافہ ہو گیا ہے؟ کیا بیرونی قرضے اتر گے ہیں؟ کیا ساہیوال میں روتے ہوئے تین پچوں کو انصاف مل گیا ہے؟ کراچی میں پانچ بچے غیر معیاری کھانا کھانے سے موت کے منہ میں دھکیل دیے جاتے ہیں، لیکن نہیں ہمارے لیے میاں صاحب کی بیماری کی ہیڈ لائن زیادہ ضروری ہے۔ حریت یہ ہے، کہ ایک قیدی کی بیماری پر پورا پورا بلیٹن اور ٹاک شو کیے جاتے ہیں، کیا میاں صاحب کی بیماری میرے مستقبل، زندگی، بنیادی حقوق، روزگار سے زیادہ اہم ہے۔

Read more

پاکستان کے راجہ گدھ

آرٹیکل ’راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب‘ بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے منسوب تھا، جس میں رائٹر نے بڑی خوبصورتی سے معاشرے کے اس طبقے پر روشنی ڈالی جو حرام مال پر پل رہا ہے۔

یہ آرٹیکل بھی اسی کڑی کا ایک تسلسل ہے، اس آرٹیکل میں پاکستان کے ’راجہ گدھ‘ جن کے بارے میں ہم جانتے تو ہیں لیکن کبھی بات نہیں کی، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے ملک برباد ہوا بھی اور ہو بھی رہا ہے، اور ہوتا بھی رہے گا۔ یہ لوگ کیسی گدھ سے کم نہیں ہیں، لالچ، خودغرضی، آلسی پن، نا اہلی، کاہلی، آنا اتی ہے کہ قدم زمین پر نہیں ٹکتے، مردار کھانے میں بھی یہ لوگ گدھ سے پیچھے نہیں ہیں ہاں البتہ یہاں مردار صرف کھانا نہیں اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

Read more

راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب

انسان اپنی زندگی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ انسان ہر ممکنہ طور پر اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اس کی زندگی لمبی ہو، لیکن پھر آج کل کے دور میں انسان خودکشی کیوں کررہا، انسان جس کو اپنی زندگی بہت پیاری تھی، وہ خودکشی پر مجبور کیوں ہے۔ ان سوالات کے جواب بانو کے ناول راجہ گدھ سے ملے۔

بانو قدسیہ اپنے ناول (راجہ گدھ) میں کہتی ہیں کہ انسان کی خودکشی ”دیوانے پن“ کی وجہ ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”دیوانے پن یا پاگل پن“ کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے، بانو قدسیہ اس سوال کے جواب میں وہ ایک تھیوری پیش کرتیں ہیں کہ ”مغرب کے پاس حلال حرام کا تصور نہیں ہے، اس لیے میری تھیوری ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے تو وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے، رزق حرام سے ایک خاص قسم کی چیز ہوتی ہے جو خطرناک ادویات، شراب اور ریڈی ایشن سے بھی زیادہ مہلک ہے، رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں، وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہی نہیں نا امید بھی ہوتے ہیں نسل انسانی سے۔ یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی گندگی پیدا ہوتی ہے، جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے۔ اور جن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے، وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں۔ “

Read more

معاشرہ اور سیاستدان

میں اس معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوں، اِس معاشرے کے ہر اچھے اور برے کے برابر کا شریک ہوں۔ اِس معاشرے میں جو ظلم، جبر، ڈاکہ زنی، ملاوٹ، طبقات کی تقسیم، لالچ، حرام خوری، فحاشی، جو کچھ بھی ہو رہا ہے میں بھی اس میں شامل ہوں۔ اس معاشرے میں امیر، غریب پر ظلم کر…

Read more