بیچلر اور ہم چار دوست ۲

ٹھیک جس دن فرعون کی موت ہوئی تھی، اسی دن ہمارا رزلٹ آیا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ شرابی اور چرسی جنہوں نے بی اے کے بارے میں گھر بتایا ہوا تھا وہ دونوں مکمل پاس ہو گئے تھے۔ میں اور پوڈری جنہوں نے ’بی اے‘ پاس ہو جانے کے بعد محلے کی مسجد میں اعلان کروانا تھا وہ انگریزی میں فیل ہو گئے تھے۔ قدرت شاید ہم سے مزید امتحان لینا چاہتی تھی۔ اور یہ کیسا امتحان تھا کہ

Read more

بیچلر اور ہم چار دوست

نہ ہم دوست بنتے، نا ہی بیچلر آف کمپیوٹر سائنس کی اچھی خاصی ڈگری سے بھاگتے اور نا ہی فیل ہوتے، اور اگر فیل نا ہوتے تو نوبت آج بی اے تک نہ آتی۔ آپ اندازہ لگائیں، کہ ہم اس قدر تذبذب کا شکار تھے۔ کہ یہ فیصلہ کرتے کرتے اتنی دیر لگا دی کہ داخلہ دہری فیس کے ساتھ بھیجنا پڑا۔ غالباً آپ کے ذہنوں میں سوالات کے انبار ہوں گے کہ ہم چور، نہیں نہیں چار دوست کون

Read more

کچے ذہنوں والے

اکثر اوقات بچوں کو یہ کہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے، کہ تم ابھی بچے ہو، تمہارا ذہن ابھی کچا ہے، سمجھ جاؤ گے، پر وقت لگے گا۔ آج تک یہ نہیں سمجھ پایا، کہ ذہن کو پکا کیسے کرنا ہے؟ بلکہ پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ پکا ذہن کیا ہوتا ہے؟ یہ توجہ طلب سوال ہے، پکا ذہن معاشرتی لحاظ سے عمر کے مطابق پکا ہوتا جائے گا، جتنی انسان کی عمر ہو گی، اسی حساب سے

Read more

اسلم: انور علی کی پنجابی کہانی کا ترجمہ

یہ ایک ایسے انسان کا خاکہ ہے، جس کی زندگی کا کوئی ایک رخ نہیں ہے، مسلسل تغیر پذیر انسان ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ اور پھر ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، وہ ایک پیشہ چھوڑ کر دوسرا اختیار کر لیتا ہے، اور دوسرا چھوڑ کر تیسرا، اس کا نام اسلم ہے، اس کے ولیمے والے دن اس کا باپ اس دنیا سے فوت ہو کر اگلے جہاں چلا گیا تھا، لیکن اس نے اپنے پیچھے تین

Read more

لمبے بال رکھنا گناہِ کبیرہ ہے!

جس معاشرے میں کوا غیر مسلم ہو وہاں لمبے بال رکھنا بھی عیب تصور ہوتے ہیں، اور اس تصور کے مصور کوئی اور نہیں معاشرے کے سیانے لوگ ہی ہو سکتے ہیں، لیکن کیا پتا یہ تھیوری مولویوں نے پیش کی ہو۔ زرا سن لیں جی پھر لوگ کہتے ہیں ہم مولویوں کی نہیں سنتے، کہتے ہیں کہ لمبے بالوں کا چیر اگر درمیان سے نکالنا جائے اور پھر سر کے اوپر، ایک خاص قسم کی ٹوپی پہنی جائے تو

Read more

حرف تہجی” خ” اور انسان

انسان بھی عجیب شے ہے، بچپن میں ”خوشیوں“ کے پیچھے بھاگتا ہے، لڑکپن میں ”خواہشات“ کے پیچھے بھاگتا ہے، جوانی میں ”خزانے“ کے پیچھے بھاگتا ہے، اور! موت کے ”خوف“ سے بڑھاپے میں ”خدا“ سے دور بھاگتا ہے، انسانی زندگی ایک حرف تہجی ”خ“ میں بند ہے، جس طرح ایک قیدی جیل میں قید ہوتا ہے، بالکل انسان کو بھی ایک قید کا سامنا ہے، یہی ”خ“ پھر ”خرابیاں“ پیدا کرتا ہے، تو انسان ”خود غرض“ بن جاتا ہے، وہ

Read more

اعوذباللہ پڑھنے والا

تمہید باندھنے کی صرف ضرورت پیش آ رہی ہے، ورنہ تو جس شخص کا نام جنید صاحب ہے، اگر کوئی بھی انسان اجازت دے دے تو بندا دو تین رکھ کر انہیں رسید باندھ کر دے دے۔محترم جس پیشے سے منسلک ہیں، اس کا علم تو ان کے ہاں کام کرنے والوں کو بھی نہیں تھا۔ بلکہ شاید انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کام کرتے ہیں؟ ایسا شکلوں سے محسوس ہو رہا تھا۔ ورنہ میں کوئی

Read more

"خالد طور کے”بالوں کا گچھا

طالب علم کا کتابوں سے شغف رہتا ہی ہے، لیکن جب سے باغی ہوئے ہیں کتابوں سے شغف تھوڑا بڑھ سا گیا ہے، یہ کام مہنگا ضرور ہے، لیکن دوست خالد فاروق کا شکر گزار ہوں، جو وقتاً فوقتاً مجھے اپنی ذاتی جائیداد سے کتابیں عنایت کرتے رہتے ہیں، خالد طور کے شاہکار ناول ”بالوں کا گچھا“ سے میرا تعارف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کہنے لگے ”ایک باغی کا ناول اگر باغی نہیں پڑھے گا، تو کون سرپھرا

Read more

آپ سب آزاد ہیں

سیاست دان کی تقریر دو قسم کی ہوتی ہے۔

ایک ”سیاسی بیانیہ“ کہلاتی ہے جبکہ دوسری کو ”پالیسی بیانیہ“ کہا جاتا ہے، عموماً سیاسی جدوجہد میں سیاسی قیادت ایک بیانیہ اپناتی ہے، جسے سیاسی بیانیہ کہا جاتا ہے، جو وقت کی نزاکت کے عین مطابق ہوتا ہے، لیکن جب وہی جماعت یا تحریک اقتدار میں آتی ہے، تو اسے سمجھ آتی ہے کہ ملک جلسوں کے بیانات پر نہیں چلایا جا سکتا اس کے لئے پھر پالیسی بیانیہ پیش کیا جاتا ہے، جو پہلے سے قائم سیاسی بیانات سے یکسر مختلف نوعیت کا ہوتا ہے، جس کی وجہ بھی وقت کی نزاکتیں ہی ہوتی ہیں۔

Read more

کیا بنو امیہ میں عمر بن عبدالعزیز پیدا ہونا ایک جرم ہے؟

بات ملک خدا داد کی ہو اور کنفیوژن نہ ہو ایسا ممکن نہیں ہے، یہی کنفیوژن مجھے اس مضمون کا عنوان چننے میں ہو رہی تھی، لیکن پھر ایک اصطلاح ذہن میں آ گئی سوچا قوم کو آسانی سے سمجھ آ جائے گی، اس ملک میں اگر آپ بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ صاف نہیں کر رہے تو آپ غلط ہیں، اس ملک میں آگر آپ سچ بول رہے ہیں، تو آپ کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، اس ملک میں اگر آپ کو سوال پوچھنے کا فن آتا ہے تو یہ فن ”حرام“ ہے اس ملک میں اگر آپ نے غلطی سے بھی اکثریت کے خلاف کوئی رائے قائم کر لی ہے یا کسی مذہبی گروہ کے خلاف رائے قائم کر لی ہے تو پھر آپ اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر چلنا سیکھ لیں

Read more

بکرا منڈی تے نال بیوپار

ہیلو کہاں ہو؟ ، گھر پر ہوں اور کہاں ہو سکتا ہوں، اچھا باہر آؤ شہر جانا ہے، ٹھیک ہے آتا ہوں، ایک دوست کی فون کال پر حج والے دن لبیک کہتا ہوا گیٹ سے باہر نکلا تو سامنے رکشے میں دو عدد بکرے اور ایک چھترا بیٹھا ہوا تھا، اور یہ میرا دوست تھا، ہاں کہاں جانا ہے؟ شہر تک جانا ہے، بھائی شہر میں الو پیاز بکتے ہیں، اس کے لئے منڈی جانا پڑے گا، بھائی حج

Read more

مسافر ٹرین کی ڈائری۔۔۔ ۲

یہ کمبخت ہماری سیٹ کہاں ہے؟ اچانک ایک بزرگ سی آواز نے مجھے ارد گرد حالات کی جانب متوجہ کیا، ٹکٹ چیکر بھی ساتھ تھا، تلاش کرتے سیٹ نمبر دیکھتے آگے بڑھ گئے، اسی چکر میں ہماری ٹکٹ بھی چیک ہو گئی، میرے لئے سکون سے جہاں مرضی بیٹھ جائیں پر مجھے میری اس سیٹ سے نہ اٹھائیں جہاں میں بیٹھا سورج کو دیکھنے میں کھویا ہوا تھا، جو ڈھلنے کے بالکل قریب تھا، آسمان پر آدھی کھلی آنکھ کی طرح دنیا کا نظارہ کر رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا ابھی پلک جھپکائے گا اور ڈوب جائے گا، گاڑی بہت سارے گمنام اور ویران ریلوے اسٹیشنوں کو ایک پل میں پیچھے چھوڑتی جا رہی تھی، لکڑیوں کے تختوں پر کچھ الٹے سیدھے نام لکھے ہوئے تھے، خاموشی ہر طرف چھائی ہوئی تھی، وہاں رکنا شاید مقدر میں نہ تھا، رک جاتے تو کچھ پل ہمیں بھی احساس ہو جاتا کہ ویران، گمنام اور خاموش اجڑے ہوئے گاؤں آخر کیسے دکھتے ہیں۔

Read more

ٹرین مسافر کی ڈائری

ساتھی کزن نے ایک بار پھر پوچھا کیا تم واقعی ٹرین پر سفر کرو گے اور یہ تمہارا پہلا ٹرین کا سفر ہے؟ ، ہاں سفر تو پہلا ہے، لیکن تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ٹرین پہلے اور آخری سفر کے درمیان بچھی ہوئی سیاہ پٹڑیوں پر چلتی ہے، جو کبھی جدا نہیں ہوتیں سفر جتنا بھی طویل ہو پٹڑیاں ہمیشہ ایک ساتھ چلتی ہیں، پنڈی کے مصروف ترین بازار میں نسوانی کردار زندگی میں اس قدر محو تھے

Read more

حقوق اور حقِ ملکیت میں فرق ہوتا ہے

الفاظ کے ساتھ میرا رشتہ ایسا ہے کہ نافرمانی کر بھی جاؤ تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن عنوان کے اصل حقداروں سے اگر نافرمانی ہو گئی تو میرے لئے مسئلہ بن سکتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ ”والدین کی نافرمانی“ ہمارے ہاں بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس ”نافرمانی“ کی تعریف بھی خود والدین کرتے ہیں، اور پھر سمجھتے ہیں کہ قانون فطرت بھی انہیں کے بنائے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر چلیں گے، اس کی مثال

Read more

ماضی میں اور نفسیات

ماضی کا گلدستہ پھولوں اور کانٹوں کے مجموعے پر ہی انحصار کرتا ہے، پھول خوشبو دیتے ہیں جس سے انسان اچھی یادوں کو سونگ سکتا ہے اور کاٹنے زندگی کے درد ناک واقعات کا غم تازہ کرنے کے لئے لہو بہانے کا کام کرتے ہیں، لیکن جب آپ اس گلدستے میں خوشی ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ ڈالتے ہیں، تو ہاتھ خون سے رنگ جاتے ہیں اور زخم دل پر لگتے ہیں، کیونکہ زندگی کے زخم زیادہ ہوتے ہیں، اور یادیں

Read more

ایک دن انگریزی میڈیم اسکول کے ساتھ

چٹکلوں اور فلموں میں بہت بار سنا اور دیکھا ہے کہ ہم اسکولوں سے بھاگتے بہت ہیں ایسا ہی ایک واقعہ مجھے یاد آ رہا تھا جب میں آج نمبر ون ہائی اسکول کے سامنے سے گزر رہا تھا، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے علم اور طالب میں صرف چند سنٹی میٹر کا ہی فاصلہ باقی ہے، علم کے سمندر سے بھاگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ، یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے جس سے پردہ اٹھانا، حقیقت میں

Read more

مجھے خود کی تلاش میں دلچسپی نہیں، روزگار چاہیے

عنوان میں نے ایسا رکھا ہے کہ جس نے تحریر پڑھنی ہو وہ بھی نہ پڑھے، ایسے حوصلہ افزا جملے سن سن لوگ تنگ آ چکے ہیں، ایسے جملے اکثر حوصلہ دینے پر معمور اسپیکرز اپنے منہ سے ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، اپنی تلاش کیا ہے؟ یہ ایک عجیب اور پراسرار سا سوال ہے، انسان سوچ کر کیا کرے؟ جس ملک میں آپ کے پاس کھانے کو دو وقت کی روٹی نہ ہو تو آپ خود کی تلاش پر

Read more

میری ہکلاہٹ اور اس سے جڑی کہانیاں

ہنسنا آپ کا حق بنتا ہے کیونکہ جس طرح ہم ہکلاتے ہیں اس سے میری اپنی ہنسی بھی نکل جاتی ہے، ایک واقعہ یاد آتا ہے، نوکری کے سلسلے میں ایک انسان نما ایجنٹ کو فون کرنا تھا، اب میں بات کرنے سے پہلے ہی نفسیاتی طور پر ہکلاہٹ کا شکار تھا، کال جا رہی تھی اور میں ن سے ن غنہ بنانے میں مصروف تھا، ایجنٹ نے ہیلو ہائے کے بعد نام پوچھا تو گئیر اڑنا شروع، گئیر ایسے اڑے کہ مکمل خاموشی چھا گئی، وہ بیچارہ کسی ٹریفک جام میں کھڑا تھا، مکمل خاموشی محسوس کرتے ساتھ ہی کہنے لگا ”جے نام ذہن اچ نئی آ ریا تے آلے دوآلے کسی کولوں پچھ لے(اگر نام ذہن میں نہیں آ رہا تو آس پاس کسی سے پوچھ لو)“ اب بھلا یہ کوئی بات ہے کرنے والی؟ ایسے بہت سے واقعات جو ہر لمحے وقوع پذیر ہوتے ہیں، سب بتائے نہیں جا سکتے کیونکہ کچھ میں مزاح نہیں ہوتا اور کچھ حد سے زیادہ سنجیدہ ہو جاتے ہیں۔

Read more

مودی کا خط اور کرشن چندر کا ”غدار“

حسین اتفاق کی طرف جانے سے پہلے میں یہ بتا دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ ہم بہت ہی کوئی جذباتی قسم کی قوم ہیں۔ ہمارے ہاں ایک چٹکلا بولا جاتا ہے کہ ”آپ بس کھڑے ہونے کی اجازت دیں بیٹھنے کی جگہ ہم خود بنا لیں گے“ مودی کا خط آیا نہیں کہ ہم پاک بھارت مذاکرات سے ہوتے ہوئے کرکٹ میچ تک طے کر بیٹھے، اور کچھ ذرائع تو بھارتی کرکٹ لیگ (آئی، پی ایل) میں پاکستان کے کھلاڑیوں کی شمولیت کی خبر بھی دے رہے تھے، یہ وہی بات ہو گئی کہ کسی نے ہاتھ دکھایا ہو اور ہم نے پورا بازو ہی کھینچ لیا، آب آتے ہیں حسین حقانی کی طرف نہیں نہیں معاف کرنا حسین اتفاق کی طرف ہوا یوں کہ جب یہ پیار بھرا خط سرحد پار کر رہا تھا اس وقت میں کرشن چندر کا ناول ”غدار“ ہاتھ میں لئے سن 47 کی ہجرت میں کھویا ہوا تھا۔

Read more

وقت آج بھی کسی دُلے بھٹی کا منتظر ہے

دُلا بھٹی کی کہانی بہت کم لوگوں کو پتا ہے۔ اور زیادہ تر لوگ تو شاید نام سے بھی واقف نہ ہوں۔ میں ”کہانی“ کا لفظ اس لیے بھی استعمال کر رہا ہوں کیونکہ دلا بھٹی مؤرخین کے نزدیک بھی اہمیت کا حامل نہیں رہا اور اس کی داستان پرانے زمانے کی طرح سینہ بہ سینہ لوگوں تک پہنچتی رہی ہے۔

Read more

مجھے سائیکل کیوں یاد آئی؟

ایک زمانہ تھا جب بچوں کو سائیکل سیکھنے کا بڑا شوق ہوتا تھا۔ سائیکل کو باقاعدہ سواری کے طور پر اہمیت دی جاتی تھی۔ سائیکل کو مختلف چیزوں سے سجایا سنوارا جاتا تھا۔ اپنوں کی طرح اس کا خیال رکھا جاتا تھا۔ اس کی حفاظت کی جاتی تھی لیکن پتا نہیں زمانے کے ارتقائی بہاؤ میں ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں یا سائیکل ارتقاء کے راستے میں کسی موڑ پر ہمارا ساتھ چھوڑ گئی ہے۔

سوچتا ہوں کہ جن چیزوں کے ساتھ ایک زمانہ گزارا ہو ، کیا وہ بھی چیزیں بھی قابلِ تلف ہو جاتی ہیں؟ ہم بدل جاتے ہیں یا پھر چیزوں کی وقعت ختم ہو جاتی ہے۔

Read more

فرضی کرامتوں کی بنیاد ہر فرقے بنانے والے

میرا تعلق ایک قدامت پسند خاندان سے ہے۔ علم کے نام سے یہ خاندان ناآشنا ہے۔ برسوں سے ہمارا خاندان پڑھے لکھے جاہل اور گنوار لوگ پیدا کر رہا ہے۔ پڑھے لکھے بھی میں ترس کھا کر کہہ رہا ہوں ورنہ ان کا کتابوں سے کیا لینا دینا، یہ تو عقیدت پسند لوگ ہیں ، سنی سنائی اور کہانیوں پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ مذہبی طور پر بہت سی خوش فہمیوں کا شکار ہیں۔ ان کی بدقسمتی سمجھ لیں

Read more

اے خدا! میں شرمندہ ہوں

شرم بھی انسان کا کیسا عجیب زیور ہے جسے آ جائے وہ جھک جاتا ہے اور جسے نہ آئے اسے جھکا دیا جاتا ہے۔ اللہ کے سامنے انسان کو شرمندہ ہونا بھی چاہیے۔ وہ خدائے برحق ہے اور ہم خطا کار انسان جن کے پاس کرنے کو گناہ کے علاوہ کوئی کام بھی نہیں ہے۔ گناہ کیا ہے؟ یہ ایسا عمل ہے جو ناپسندیدہ ہے۔ لیکن یہ ناپسندیدگی کا اختیار اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ وہ پسند ناپسند کرنے

Read more

کیون جیسا ضمیر ہونا چاہیے

”بچہ گھٹنوں کے بل بیٹھا سر کو زمین کی طرف جھکائے مسلسل ہو رہا تھا۔ اکیلا ایک ویرانے میں وہ کسی کا منتظر تھا۔ شاید اپنی ماں کا انتظار کر رہا تھا۔ کیونکہ چار، پانچ سال کا بچہ اور کس کا انتظار کر سکتا ہے۔ یقیناً اسے بھوک بے شدت سے تڑپا رکھا تھا۔ اس کے جسم ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل چکا تھا۔ وہ مسلسل فاقوں کا شکار نظر آ رہا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر سب کو

Read more

گھوڑوں سے الزام واپس لیا جائے

گھوڑے پیچارے بڑے معصوم ہیں ، ہم انسانوں کی خاطر تواضع بھی کرتے ہیں اور پھر ہماری ہی وجہ سے جگ ہنسائی کا نشانہ بھی بن رہے ہوتے ہیں۔ زمین کے بارے میں ایک جملہ آج کل بہت زیادہ بولا جا رہا کہ آب یہ رہنے کے قابل نہیں رہی۔ ایسے ایسے مظالم ہو رہے ہیں کہ انسان دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ ذہن میں اٹھنے والے سوالات خود انسان کو شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سوالات جب ہم

Read more

نئی نسل سے پرانے لوگ گھبراتے کیوں ہیں؟

میرے ایک دوست کہا کرتے ہیں کہ ’’انتہا پسند انسان نہیں اس کا رویہ ہوتا ہے۔ اس کا اخلاق، افکار، سوچ اور فکر انتہا پسند ہوتی ہے۔ انسان تو بیچارا ان کا محتاج ہے۔ اس میں انسان کا کوئی قصور نہیں ہے“ جس طرح میرے استاد محترم کا قول ہے کہ ”ہمارا مسئلہ معیشت نہیں اخلاقیات ہیں۔“ ہم آج جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس معاشرے کی پیدائش غلامی کے بادلوں کے سائے تلے ہوئی۔ ان کا لب و لہجہ،

Read more

نوجوان کا سب سے بڑا مسئلہ جوانی نہیں، نوکری ہے

بچپن میں سنا تھا میٹرک کی تعلیم حاصل کرنا اعزاز ہے۔ اور میٹرک پاس کرنے کے بعد انسان صحیح طور پر اشرف المخلوقات کہلا سکتا ہے۔ جب ہم نے میٹرک کو پاس کیا تو میٹرک نے ہمیں پاس کر دیا۔ وہ دور گزر چکا تھا جب کسی گاؤں یا محلے میں کوئی ایک میٹرک پاس ہوا کرتا تھا جس سے سارے گاؤں میں بجلی کے بل پڑھائے جاتے تھے۔ ہماری میٹرک ہماری لئے تو قرۃالعین حیدر کا آگ کا دریا

Read more

مریض کو پوچھنے والے

مرنے کے لئے تو سب ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن جب کوئی بیمار ہو جائے تو وہ زندگی میں توسیع کے لئے اس حد تک بھی چلا جاتا جس حد تک تحریک انصاف خاص توسیع کیس میں چلی گئی تھی۔ موت اور مریض کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ م سے شروع ہوتے ہیں اور سانس دبوچ لینے پر ختم ہوتے ہیں۔ مریض بننا ایسا ہی ہے کہ موت کی طرف پہلا اور آخری قدم اٹھانا یوں ہی سمجھ

Read more

کم از کم یہ ڈرائیور دھکا تو لگا رہا ہے

صبح کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اور آہستہ آہستہ آسمان پر بلندیوں کی جانب گامزن تھا۔ زمین پر اپنی کرنیں نچھاور کرتا ہوا سورج اپنی مرضی کا مالک ہے۔ لوگوں کی گہماگہمی روزگار اور بس روزگار کی افراتفری کی دھکم پیل میں میرے باس کی گاڑی دریائے نیل کی طرح بہتی سڑک کے کنارے جام کھڑی تھی۔ شہادت کا وقت آیا نہیں تھا شاید آنے والا تھا۔ میں نے محسوس کیے بغیر گاڑی کو دھکا لگانا شروع کیا۔ گاڑی

Read more

عادتیں ددھیال پر ہی کیوں جاتی ہیں؟

گھریلو جھگڑوں میں بہت سے جھگڑے شامل ہیں۔ ساس اور بہو کا جھگڑا ان سب میں سر فہرست شمار ہوتا ہے۔ بہو نے وقت پر ناشتہ نہیں بنایا تو ساس نے لڑنا شروع کر دیا، ساس بیٹے کی ساری کمائی اپنے پاس رکھ لے تو بہو نے لڑنا شروع کر دینا ہے۔ جب ساس اور بہو میں لڑائی ہو گی تو لازم ہے میاں بیوی میں بھی جھگڑا ہو گا، ماں بیٹے کے کان بھرے گی تو بیوی شوہر کے

Read more

ٹریفک جام ہے اور ہجوم پریشاں

میں رکشے میں بیٹھا جانب منزل رواں دواں تھا، فانی دنیا کی بے مقصد منزلیں تو سب کی الگ الگ اپنی بنائی ہوئی ہیں لیکن ہماری اصل منزل تو ایک ہی ہے جس کا راستہ سیدھا ہے وہ کسی چوک سے ہو کر نہیں جاتا کیونکہ چوک تو خود گمراہی کا نشان ہے، چار مختلف راستے، اب انسان بھلا کیا کرے، بعض اوقات وہ ٹھیک راستہ بھی پکڑ لیتا ہے لیکن اکثر اوقات وہ معاشرے کے بہاؤ میں بہہ کر

Read more

ماسٹر کون ہے؟

کچھ لوگ آپ کو آپ کی زندگی میں راہ چلتے اجنبی کی طرح ملتے ہیں۔ اور دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی عجیب و غریب شخصیت دیکھ کر بھی لوگ متاثر ہو جاتے ہیں۔ ماسٹر بھی ایسا ہی تھا۔ دکھ درد اور تلخ حالات نے اسے اتنا پختہ بنا دیا تھا کہ وہ کبھی قدرت سے مایوس نظر نہیں آیا۔ لیکن سوال اس کے ذہن میں بھی آتا ہو گا اور وہ قدرت سے یقیناً یہ سوال کرتا ہو گا کہ آخر میری زندگی کو فراز کب نصیب ہو گا؟

Read more

کورونا پر سنجیدہ دانشوری

ساقی نے سینی ٹائزر کی بجائے ڈیٹول صابن کا پانی بنا کر رکھا ہوا تھا جس سے وہ عالمی وبا کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ساقی نے ہاتھوں کو وائرس سے پاک کیا اور کہنے لگا یہ حکومتی لوگوں کو اپوزیشن کے جلسوں کے ساتھ کورونا ایسے یاد آتا ہے جیسے کڑاہی کے ساتھ چٹنی یاد آتی ہے اور خود یہ ایسے کام کر رہے ہیں کہ وبا پھیلے نہ پھیلے عوام ان کے گرد ضرور پھیل جائے گی۔ میں نے کہا ساقی یہ عمران خان تو کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک جا رہی ہے۔ ساقی کہنے لگا یہ باتیں اسحاق ڈار بھی کرتا تھا وہ تو ہارڈ ٹاک والے نے انیل کپور بن کر نائیک کی طرح اس کا ڈراپ سین کیا۔ ورنہ یہاں کچھ لوگ ابھی بھی کہہ رہے تھے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو لے آؤ۔

Read more

زندگی کے بدلتے رنگ

دنیا ایک اور نئے برس میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ سال آئندہ دس سالوں کے سلسلے کی ابتداء ہے جسے انگریزی میں Decade کہا جاتا ہے۔ دنیا ہر سال کی طرح اس سال بھی شور مچا کر، ہنگامہ آرائی برپا کر کے سال کو خوش آمدید کہہ رہی ہے جبکہ میں ماضی میں چلا گیا ہوں کہ ان دس برسوں میں مَیں نے کیا کچھ کھویا جو میرے حق میں بہتر نہیں تھا اور کیا پایا جو میرے حق

Read more

زمانہ قدیم اور جدید ٹیکنولوجی

آج کل سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے۔ سائنس اس عملی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ موبائیل فون سے لے کر ٹیلی ویژن۔ بجلی۔ گیس۔ چولہا۔ ماچش کی ڈبی تک جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سب سائنس کی ایجادات ہیں۔ ہم آج کل ہر طرح کی انفارمیشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ سائنس سے ہمارے ہزاروں اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ اختلافات ہم مذہبی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان

Read more

عمران خان بہادر ہے مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہے

عمران خان ”تو بہادر ہے، پر ہارے ہوئے لشکر میں ہے“، یہ بات 9 ستمبر 2014 کو اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، آج یہ بات وال چاکنگ نہیں ہے، بلکہ حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے، آج ہر پاکستانی کو اندازہ ہو چکا ہے، کہ تبدیلی ٹیکنوکریٹس، لوٹوں اور نا اہلوں سے لائی جا رہی ہے، عمران خان کی نیت پر آج بھی شک نہیں، ان کی لگن، محنت سب کچھ سہی، پر کیا

Read more

نا اہلوں کا ٹولہ اور اسد عمر

”اسد عمر پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے“، یہ الفاظ جناب وزیراعظم عمران خان کے تھے، جب وہ کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرتے تھے، تب اسد عمر سب کچھ چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے، پاکستان تحریک انصاف میں جو دو چار اچھے اور نیک نیت لوگ ہیں، ان میں اسد عمر بھی شامل ہیں، عمران خان نے ایک جلسے میں کہا تھا، کہ اسد عمر ہمارا وزیر خزانہ ہو گا، اس ملک کی معیشت اسد عمر ہی

Read more

ویژن تو پھانسی چڑھ گیا پر بھٹو آج بھی زندہ ہے!

ذوالفقار علی بھٹو کو اس دنیا سے بچھڑے چالیس سال ہو گئے ہیں، بھٹو کی پھانسی آج بھی متنازع، عدالتی فیصلہ عدالتی قتل قرار، دنیا اس غیر معروف مقتول کا نام تک نہیں جانتی، جس کے قاتل کو دنیا آج قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے یاد کرتی ہے، دنیا کو اپنی ذہانت اور علم سے حیران کر دینے والا ذوالفقار علی بھٹو ہم نے مشرکہ طور پر گنوا دیا، قصور کسی ڈکٹیٹر کا نہیں، قصور پوری قوم

Read more

یس سر پارٹی چاہیے یا نو سر پارٹی؟ فیصلہ عوام کا!

عموما سیاسی جماعتوں میں ایک آقا، سردار، گاڈ فادر ہوتا ہے، جسے ہم اس جماعت کا لیڈر، سربراہ، چئرمین کہتے ہیں، جس کی بات حرف آخر سمجھی جاتی ہے، پارٹی کا ہر رکن جناب آقا، سردار، گاڈ فادر کے فیصلے کے آگے سر جھکا لیتا ہے، اخلاقیات نام کی کوئی چیز سیاسی جماعتوں میں موجود نہیں ہے، یہاں لیڈر کی خوشامد کرنے پر ترقی اور وزارتیں ملتیں ہیں، لیڈر کی ہر پات کو ہاں میں ہاں ملا کر ٹھیک کہ

Read more

عثمان بزدار پر عمران خان کو حیرت!

عثمان بزدار پر خان صاحب کو حیرت ہونا، میرے لیے سرپرائز ہے۔ خان صاحب نے جب جناب عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب لگایا، تو ایک وڈیو پیغام جاری کیا، جس میں خان صاحب نے ایک عجیب میرٹ بتایا کہ عثمان بزدار کا تعلق پسماندہ علاقے سے ہے، ان کے گھر بجلی نہیں ہے، یہ غریب کی پریشانی، اور ان کی مشکلات جانتا ہے، عمران خان کے اس فیصلے پر اپنی پارٹی کے اراکین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا،

Read more

بادشاہ سلامت!

کہتے ہیں کسی کی بیماری پر بات یا اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، کیونکہ یہ آزمائش اللہ تعالٰی کی طرف سے آتی ہے، مجھے ڈاکٹری نہیں آتی اس لیے زیادہ بات کرنا مناسب نہیں ہے، لیکن ہمارے ملک میں ایک شاہی بیمار موجود ہیں، جن کی بیماری ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے، ہر ٹی وی چینل، اینکر، تجزیہ کار ہر بندہ میاں نواز شریف کی بیماری کو لے کر بیٹھا ہے، پچھلے ایک ہفتے سے ایک قومی مسئلہ بن کہ رہ گیا ہے۔ کیا یہاں بے روزگاری ختم ہو گئی ہے؟

کیا فی کس آمدنی میں اضافہ ہو گیا ہے؟ کیا بیرونی قرضے اتر گے ہیں؟ کیا ساہیوال میں روتے ہوئے تین پچوں کو انصاف مل گیا ہے؟ کراچی میں پانچ بچے غیر معیاری کھانا کھانے سے موت کے منہ میں دھکیل دیے جاتے ہیں، لیکن نہیں ہمارے لیے میاں صاحب کی بیماری کی ہیڈ لائن زیادہ ضروری ہے۔ حریت یہ ہے، کہ ایک قیدی کی بیماری پر پورا پورا بلیٹن اور ٹاک شو کیے جاتے ہیں، کیا میاں صاحب کی بیماری میرے مستقبل، زندگی، بنیادی حقوق، روزگار سے زیادہ اہم ہے۔

Read more

پاکستان کے راجہ گدھ

آرٹیکل ’راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب‘ بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے منسوب تھا، جس میں رائٹر نے بڑی خوبصورتی سے معاشرے کے اس طبقے پر روشنی ڈالی جو حرام مال پر پل رہا ہے۔

یہ آرٹیکل بھی اسی کڑی کا ایک تسلسل ہے، اس آرٹیکل میں پاکستان کے ’راجہ گدھ‘ جن کے بارے میں ہم جانتے تو ہیں لیکن کبھی بات نہیں کی، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے ملک برباد ہوا بھی اور ہو بھی رہا ہے، اور ہوتا بھی رہے گا۔ یہ لوگ کیسی گدھ سے کم نہیں ہیں، لالچ، خودغرضی، آلسی پن، نا اہلی، کاہلی، آنا اتی ہے کہ قدم زمین پر نہیں ٹکتے، مردار کھانے میں بھی یہ لوگ گدھ سے پیچھے نہیں ہیں ہاں البتہ یہاں مردار صرف کھانا نہیں اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

Read more

راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب

انسان اپنی زندگی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ انسان ہر ممکنہ طور پر اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اس کی زندگی لمبی ہو، لیکن پھر آج کل کے دور میں انسان خودکشی کیوں کررہا، انسان جس کو اپنی زندگی بہت پیاری تھی، وہ خودکشی پر مجبور کیوں ہے۔ ان سوالات کے جواب بانو کے ناول راجہ گدھ سے ملے۔

بانو قدسیہ اپنے ناول (راجہ گدھ) میں کہتی ہیں کہ انسان کی خودکشی ”دیوانے پن“ کی وجہ ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”دیوانے پن یا پاگل پن“ کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے، بانو قدسیہ اس سوال کے جواب میں وہ ایک تھیوری پیش کرتیں ہیں کہ ”مغرب کے پاس حلال حرام کا تصور نہیں ہے، اس لیے میری تھیوری ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے تو وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے، رزق حرام سے ایک خاص قسم کی چیز ہوتی ہے جو خطرناک ادویات، شراب اور ریڈی ایشن سے بھی زیادہ مہلک ہے، رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں، وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہی نہیں نا امید بھی ہوتے ہیں نسل انسانی سے۔ یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی گندگی پیدا ہوتی ہے، جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے۔ اور جن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے، وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں۔ “

Read more

معاشرہ اور سیاستدان

میں اس معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوں، اِس معاشرے کے ہر اچھے اور برے کے برابر کا شریک ہوں۔ اِس معاشرے میں جو ظلم، جبر، ڈاکہ زنی، ملاوٹ، طبقات کی تقسیم، لالچ، حرام خوری، فحاشی، جو کچھ بھی ہو رہا ہے میں بھی اس میں شامل ہوں۔ اس معاشرے میں امیر، غریب پر ظلم کر رہا ہے، طاقتور، کمزور پر، مالک، نوکر پر تو ڈاکٹر، مریضوں پر، ڈاکٹر تو انسانیت کے قصائی بن گے ہیں، یہاں کوئی گاڑی لے لے

Read more