ڈاکٹر شیرشاہ سید سے ایک گفتگو
س: آپ کی کہانیاں خاص طرز کی ہوتی ہیں کبھی کسی مدیر یا پبلشر نے فرمائش نہیں کی کہ کوئی ناول یا افسانہ وغیرہ لکھیں؟
ج: میں جس طرح سے میں لکھتا ہوں اسی طرح لکھتا ہوں خاص طرز ہے کہ عام طرز ہے اس کی تو مجھے فکر نہیں ہے باقی یہ کہ میرے لکھنے کا طریقہ ایسا ہی ہے۔ میں ایسے لکھتا ہوں ایسے ہی لکھ سکتا ہوں۔
س: نثر لکھنا بہت وقت لیتا ہے اور آپ کا پیشہ چوبیس گھنٹے میں چھتیس گھنٹے کام کرنے والا ہے تو دونوں چیزیں کیسے لے کے چل رہے ہیں؟
ج: مجھے تو جب دوچار لمحے کی بھی فرصت ہوتی ہے میں تو لکھتا رہتا ہوں۔ کلینک میں اگر کوئی مریض نہیں آیا تو لکھ دیا ٹرین یا جہاز میں بیٹھا ہوں تو اس میں لکھ دیا لکھنے کے لئے کوئی خاص کاغذ نہیں چاہیے۔ سگریٹ کے پیکٹ پہ بھی لکھ لیتا ہوں نسخے کے کاغذ پہ بھی لکھ لیتا ہوں بعد میں اس کو فیئر کرلیتے ہیں تو لکھنے کا کوئی ایشو نہیں ہے۔
س: تو لکھنے کا موڈ نہیں بنتا؟
ج: نہیں ایسا موڈ نہیں ہوتا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ موڈ بنا کے لکھنا ہے۔ مجھے کوئی چیز متاثر کرتی ہے۔ ذہن میں کہانی بنتی رہتی ہے، میں لکھ دیتا ہوں۔ پھر اس کو دوبارہ پڑھتا ہوں کچھ تصحیح کردیتا ہوں۔
س: ان سب مصروفیات سے آپ کی ذاتی یا گھریلو زندگی کس حد تک متاثر ہوتی ہے؟
ج: کوئی خاص نہیں۔ گھریلو زندگی کیا متاثر ہوگی میری بیوی امریکہ میں رہتی ہے میں امریکہ جاتا ہوں وہاں فرصت مل جاتی ہے تو وہاں لکھ لیتا ہوں ایئرپورٹ پہ بہت وقت مل جاتا ہے۔ کچھ متاثر نہیں ہوتا۔
س: لکھنے کی وجہ سے آپ کی شخصیت میں ذاتی حوالے سے یا بحیثیت ڈاکٹر کوئی تبدیلی آئ؟
ج: لکھنے لکھانے سے تو کچھ نہیں ہوا ماں باپ کی جو تربیت تھی اس سے میری شخصیت بنی۔
س: فارغ اوقات کے کیا مشاغل ہیں؟
ج: پڑھتا ہوں سائنس، ایوولیشن، فکشن، سوانح، تاریخ یہ سب بہت پڑھتا ہوں۔ مجھے مطالعے کا شوق بہت ہے۔
س: مطالعہ آپ کے لکھنے میں کچھ مددگار ثابت ہوتا ہے؟
ج: بہت۔ بہت سے تاریخی حوالے میرے افسانوں میں ہوتے ہیں تو وہیں سے آتے ہیں۔
ج: آپ نے مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے ادب کو پڑھا ہے؟
ج: زیادہ تر تو مشرقی ادب کو پڑھا ہے مغرب کا ادب بہت کم پڑھا ہے لیکن مغرب کی اور چیزیں بہت پڑھیں جیسے سوانح حیات اور سفرنامے بہت پڑھے اس کے علاوہ کسی بیماری کے بارے میں لکھ رہا ہوں جس کا تعلق میرے پیشے سے نہیں ہے تو اس کے بارے میں بہت پڑھتا ہوں۔
س: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ زندگی کو بحیثیت ایک ڈاکٹر کے زیادہ اچھی طرح دیکھ پاتے ہیں یا بطور ایک کہانی نگار کے؟
ج: بحیثیت ڈاکٹر۔ کیونکہ بحثیت ایک ڈاکٹر میں مریضوں کو دیکھتا ہوں وہ مجھ سے کوئی بات چھپاتے نہیں ہیں اور ہر مریض کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے۔
س: زندگی کو کس انداز میں دیکھتے ہیں؟
ج: زندگی بہت کم ہے آئی وش کہ پانچ سو سال زندگی ہوتی پانچ ہزار سال ہوتی۔ جتنی کم ہے اسے اتنے زیادہ بھرپور طریقے سے گزارنا چاہیے۔ اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق۔ اس بات کی مجھے کوئی فکر نہیں ہوتی کہ دنیا کے بنائے ہوئے قوانین کیا کہتے ہیں۔
س: کہانیاں لکھنا ہی پسند ہے؟
ج: نہیں میں نے خاکہ نگاری بھی کی میں نے ایدھی صاحب پہ لکھا ان کی موت کی خبر جب مجھے ملی تو میں سفر میں تھا مجھے بہت صدمہ ہوا میں نے پرانی باتیں یاد کرکے ان کی شخصیت پہ لکھ دیا قوی صاحب پہ لکھا کاٶس جی (اردشیرکاٶس جی) سے میری بہت دوستی تھی میرا بہت خیال کرتے تھے۔ انھوں نے مجھے بہت سبزیاں پکا پکا کے کھلائیں۔ اور بھی کئی لوگوں پہ لکھا۔ مجھے یہ اطمینان ہے کہ جو کچھ ان لوگوں کا مجھ پر اثر تھا وہ لکھ دیا۔
س: اب تک کیا کچھ لکھا؟
ج: بچوں کے لئے مختلف ملکوں کی لوک کہانیوں کی کتاب، ایک ناول، مختصر کہانیوں کے گیارہ مجموعے، اسلم صدیقی کی سوانح حیات کا ترجمہ، ”نیویارکر“ کے کچھ آرٹیکلز کے تراجم، اپنے والدین کی سوانح حیات، یونیورسٹیز لائبریریز اسپتالوں اور میوزیمز کے بارے میں طلبا 6 کے لئے چار کتابیں، معاونین کے ساتھ مل کر طلبا 6 کے لئے نرسنگ اور دایہ گیری کے بارے میں پندرہ سے زائد کتابوں کے تراجم۔
س: طب میں آپ نے بہت مشکل شعبے کو چنا تو شروع میں جب آپ اس شعبے میں آئے تو کسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مریضوں یا گھر والوں کی طرف سے؟
ج: عام مریض میرے پاس نہیں آتے صرف وہ ہی آتے ہیں جنھیں کوئی ریفر کرتا ہے یا کوئی ایسی پیچیدگی ہو جو وہ سمجھتے ہوں کہ صرف میں ہی اسے کرسکتا ہوں۔ بحیثیت مرد گائناکولوجسٹ اس شعبے میں کام کرنے کے بارے میں مزاحمت کا سامنا کرنا تو پڑا لیکن مغرب میں نہیں البتہ یہاں بہت مزاحمت ہوئی اور یہ رجحان آج بھی ہے۔
س: تو آپ نے اس شعبے میں آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
ج: میرا بھی نہیں خیال تھا کہ میں آبس ٹیٹرکس (زچہ بچہ کی دیکھ بھال یا وضعِ حمل کے معاملات) کروں گا۔ میں نے افریقہ میں کیہار نامی ایک سکھ ڈاکٹر کے ساتھ ہاٶس جاب کے دنوں میں کام کیا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


