ڈاکٹر شیرشاہ سید سے ایک گفتگو
س: (بات کاٹتے ہوئے ) ایم بی بی ایس ڈاٶ سے کیا تو افریقہ کیسے پہنچ گئے؟
ج: دراصل ان دنوں ملٹری کی کال آئی ہوئی تھی اور ہمیں ملٹری میں نہیں جانا تھا تو ہم چند افراد نے بغاوت کی اور بھاگ گئے میں بھاگ کے کینیا نیروبی چلا گیا اور ڈاکٹر کیہار کے ساتھ ہاٶس جاب کیا یہ 80، 81 کی بات ہے۔ وہ بہت اچھا ڈاکٹر تھا اسے دیکھ کے مریض بہت خوش ہوتے تھے۔ میں نے سوچا یہ بڑا اچھا شعبہ ہے وارڈ میں ڈیلیوری ہو رہی ہوتی تھی ہر وقت مٹھائی بٹ رہی ہوتی تھی سب خوش ہورہے ہوتے ہیں تو یوں یہ سلسلہ چل گیا۔
س: آپ کو گھر والوں دوستوں کسی سمت سے مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟
ج: مجھے معلوم تھا کہ میری والدہ اس بات کو پسند نہیں کریں گی تو میں نے ان کو بتایا ہی نہیں کہ میں کر کیا رہا ہوں ان کو میں صرف یہ بتاتا تھا کہ میں پارٹ ون میں فیل ہوگیا ہوں جب مسلسل انھیں تین چار بار فیل ہونے کی خبر سنائی تو بھی انھوں نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ تم فیل کس سبجیکٹ میں ہوئے ہو وہ سمجھ رہی تھیں کہ میں سرجری یا میڈیسن کررہا ہوں لیکن پانچویں دفعہ جب میں پاس ہوگیا ہوں تو میں نے فون پہ انھیں خوشخبری سنائی تب انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کیا کیا ہے میں نے انھیں بتایا کہ گائنی اور آبس ٹیٹرکس کیا ہے انھیں اتنا زور کا جھٹکا لگا کہ وہ دس پندرہ سیکنڈ تک تو وہ کچھ بول ہی نہ پائیں پھر انھوں نے یہ ہی سوچا ہوگا کہ پانچ دفعہ فیل ہونے کے بعد اگر یہ پاس ہوگیا ہے تو اچھی بات ہے۔
س: آپ اپنے پیشے سے مطمئن ہیں یا سوچتے ہیں کہ میں کچھ اور بن جاتا؟
ج: بہت مطمئن ہوں میں کچھ اور نہیں بننا چاہتا سو دفعہ پیدا ہوں گا تب بھی ہر دفعہ گائناکالوجسٹ ہی بننا چاہوں گا۔
س: کبھی چاہا آپ کا انداز کسی اور لکھنے والے جیسا ہو؟
ج: نہیں میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا انداز کسی اور کے جیسا ہو لیکن میں کرشن چندر کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں انھیں اور پریم چند کو بہت پڑھا ہے ہوسکتا ہے کبھی کرشن چندر کی کچھ چیزیں کوٹ کردی ہوں مجھے ان کا لکھنے کا انداز بہت پسند ہے وہ سائنس پر یقین رکھتے تھے اور اپنی تحریروں میں سائنس سے رہنمائی لیتے تھے۔ سائنس سب سے بڑی حقیقت ہے اور ہمیں اسے تسلیم کرنا چاہیے۔
س: آپ کی تحریروں پہ کیا تبصرے ہوتے ہیں؟
ج: کچھ نہیں بس لوگ پڑھ کے تعریف کرتے ہیں خوشی ہوتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کہانی نہیں لکھنا چاہیے تھی جیسے ابھی آپ سسپنس میں چھپنے والی کہانی کا حوالہ دے رہی تھیں تو اس کہانی پہ بھی لوگوں نے اعتراض کیے کہ یہ نہیں لکھنا تھی جبکہ وہ حقیقت پر مبنی تھی۔
س: نئے لوگ کیسا لکھ رہے ہیں؟
ج: مجھے نام یاد نہیں رہتے لیکن میں پڑھتا رہتا ہوں نئے لکھنے والے سب ہی اپنی اپنی جگہ اچھا لکھ رہے ہیں۔
س: اپنی تحریر میں کس جذبے کو نمایاں کرنا بہتر سمجھتے ہیں؟
ج: محبت پیار انسانیت۔ انوائرنمنٹ سے محبت دنیا اپنے پلینیٹ سے محبت۔ دریا سمندر درختوں جانوروں سے محبت، امن انصاف۔ یہ ہی میرے لکھنے کا مقصد ہے۔
س: جو آپ کہانیوں میں نہیں کہہ سکے وہ کہہ دیں؟
ج: سوسائٹی میں ٹولرینس نہیں ہے رواداری نہیں ہے اس لیے کچھ کہنا بیکار ہے لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ تحمل زندگی میں بہت اہم چیز ہے ہمیں دوسروں کی سوچ کا احترام کرنا چاہیے۔



