تعصبات سے مذہبی تجربہ اخذ کرنے کی تمنا
فیودر دوستو ئفسکی کی تحریریں ایک اعتبار سے بڑی اہم ہیں۔ ان تحریروں میں مذہبی تعصبات تو ہیں مگر خدا سے تعلق معدوم ہے۔ جدیدیت کے اجراء کے بعد سے خدا کا تجربہ جس طرح کمزور پڑا اور مذاہب پر ایمان میں جو دراڑ پڑی اس کا ہی ایک نتیجہ یہ روحانی خلا ہے۔ بدقسمتی سے روحانیت کو اب جذباتیت کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے دوستوئفسکی بھی اپنے روحانی تجربے کے خلاء کو جذباتیت سے پر کرنے کی سعی کرتا ہے۔ وہ بار بار یہ بات اپنے کرداروں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ یونانی آرتھوڈوکس مسیحیت کا ماننے والا ہے، وہ ان کے منہ سے کہلواتا ہے کہ کیتھولک مسیحیت تو دراصل مسیحیت ہے ہی نہیں، پروٹسٹنٹ مسیحیت تو اس سے بھی آگے کا انحراف ہے، وہ اسلام سے اپنے تعصب کا اظہار کرتا ہے، یوں اس کو لگتا ہے کہ بس اس نے خود پر خدا کا حق ادا کر دیا۔ اس نے مسیحیت کا حق ادا کر دیا، اس نے ایمان کا تقاضہ پورا کر دیا۔
راقم نے دوستوئفسکی کے اس رجحان کو اس کے تمام ہی ناولوں میں پایا ہے۔ وہ اس رجحان سے کسی حد تک باہر آ سکا ہے تو وہ صرف اپنے آخری ناول ”برادرز کراموزوف“ میں۔ یادش بخیر اسی ناول میں The Great Inquisitor کے مسیحیت پر چبھتے ہوئے اعتراضات (جو وسیع تر معنوں میں مذاہب پر اعتراضات بھی کہے جا سکتے ہیں ) بھی موجود ہیں مگر اس ناول میں فادر زوسیما بھی موجود ہیں۔ یہ فادر زوسیما (Zosima) دوستوئفسکی کے واحد غیر جذباتی، غیر ہیجانی، غیر بیمارکردار ہیں۔
سلیم احمد کی اصطلاح میں، دوستوئفسکی کی بنائی کائنات میں واحد روحانی انسان، واحد مکمل انسان جو کسری انسان نہیں ہے، جو نہ جذباتی انسان ہے، نہ افادی انسان ہے، نہ تخریبی، تجریدی، جنسی یا حیاتیاتی انسان ہے۔ بلکہ ایک مکمل انسان ہے۔ فادر زوسیما مسیحیت کی تجسیم بھی ہے اور کاملیت کا نمونہ بھی۔ ہم اہل برصغیر فادر زوسیما (Zosima) کو ایک سچے صوفی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں مگر فادر میں جو بات دوستوئفسکی سے بہت فرق ہے وہ یہی ہے کہ اسے سچا مسیحی بننے کے لئے کیتھولک، پروٹسٹنٹ، جیسو سٹ، یہودی، مسلم یا کسی کو بھی گالی بکنے کی ضرورت نہیں ہے، جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے اپنے عقیدے کی تائید کے لئے کسی دوسرے عقیدے کی تردید کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوستوئفسکی بہت بڑا ذہن رکھتا تھا اور اس سے بھی بڑا تجربہ۔ اسی لئے وہ خود سے صریحاً مختلف بلکہ متضاد شخصیت فادر زوسیما اپنے قلم سے تخلیق کر سکتا تھا۔ مگر جب سے ہم بھی اجتماعی طور پر جدیدیت کی دوستوئفسکی والی منزل پر پہنچ رہے ہیں، ہم بھی اب بس کسری انسان ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ اب ہم میں وجود کی وہ وحدت، وہ اکائی جو ہم کو مکمل انسان بناتی تھی، بالکل پاش پاش ہو گئی ہے۔ اب ہم جذباتی، عقلی، افادی، حسی، تخریبی، مادی، الغرض اسی نوع کی کسی نہ کسی کسر کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اب ہم ایک وحدت نہیں ہیں، کوئی ایک پرزہ ہیں، اسی لئے خدا سے تعلق کا تجربہ بھی ڈھے گیا ہے۔ اب مذہبی تجربہ نعروں اور تعصبات کی گردان سے تھوڑی دیر کے لئے ابھرتا ہے، پھر ہر دوسرے جذبے کی طرح ماند پڑ جاتا ہے۔
اب ظاہر ہے جذبہ کوئی سا بھی ہو وقتی ہوتا ہی ہے مگر مذہب صرف جذبے کا نام نہیں۔ یہ صرف تعقل بھی نہیں، یہ صرف افادیت بھی نہیں، یہ صرف تصور بھی نہیں، یہ تو پورے وجود کی وحدت ہے اور صرف وجود ہی کیا فرد اور کائنات کی وحدت، انسان اور انسان کی وحدت اور وسیع تر معنوں میں عدم اور وجود کی وحدت بھی ہے۔ خدا کا ایک صفاتی نام الواحد ہے۔ اس میں ”ال“ کلیت کو ظاہر کرتا ہے اور واحد بتا دیتا ہے کہ اس کے سوا کچھ نہیں۔ الاول اور الآخر بھی خدا کے نام ہیں، الظاہر اور الباطن بھی ظاہر Manifest ہے اور باطن Latent اور ساتھ ”ال“ لگا کر اس کی کلیت کا اعلان بھی ہو گیا۔ یعنی جب ظاہر بھی خدا ہے اور باطن بھی خدا ہی ہے تو پھر اس کے سوا ہے کیا؟
کیا اس حقیقت کے مان لینے کے بعد بھی انسان کا اپنا وجود کسی نوع کی ثنویت (Duality) کا شکار رہ سکتا ہے؟ کیا پھر بھی جذباتی/ عقلی/ افادی/ غیر افادی جیسی تقسیم کا وجود ہو سکتا ہے؟ اور اگر تقسیم ہے تو وحدت ہے کہاں؟ مذہبی اور مسلکی تعصبات کا ہر وقت اعلان کرنے والے ہمارے مولوی کے بھیس میں جدیدیت کے سپاہی ذرا اس پر غور کریں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ حق اور باطل کا معرکہ کس شان سے بیان فرماتا ہے مگر پھر یہ اعلان فرما دیتا ہے کہ ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل ہے ہی مٹ جانے کے لئے ہے“۔
یعنی باطل ایک وہم ہے، ایک التباس ہے، ایک دھوکہ ہے، جب باطل پر حق کی نظر پڑے گی تو وہ تو محض اس نظر سے ہی پگھل جائے گا۔ باطل کا یہ سارا تام جھام، یہ سارے کرتب صرف و محض حق کی دی ہوئی حدود کے اندر ہیں۔ شیطان نے بھی اپنے مقاصد کے لئے خدا سے ہی اجازت طلب کی تھی۔ بھلے مخلوق احکام شریعت سے باہر ہو جائے مگر احکام تکوین سے باہر کون ہے؟ مگر ظاہر سی بات ہے کہ خدا پر اتنا ایمان ہو کہ جتنا کہ اس بات پر ہے کہ سورج ہے، چاند ہے، یا میں اور آپ ہیں، تب ہی باطل کے سارے شعبدے مذاق نظر آتے ہیں، یہ سانپ نہیں ڈنڈے اور ڈوریاں ہیں۔ موسیٰؑ جب اپنا عصا پھینکیں گے تو وہ ان سب کو نگل جائے گا۔ باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے موسیٰؑ کو جادوگروں کو برا بھلا کہنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ اللہ پر یقین کے ساتھ عصا پھینکنے کی ضرورت پڑی تھی، ہر وہم کا علاج صرف ایمان ہے۔
اسی لئے اب مذہب بعض کے لئے صرف عقل ہے اور صرف دلیل ہے اور بعض کے لئے صرف جذبہ۔ اسی لئے انٹرنیٹ پر اب مناظرے بھرے پڑے ہیں اور مذہبی کتب پڑھنا بھی ایک تفریح ہے، ایک وقت گزاری ہے۔ اسی لئے مذہب اب بسر کرنے کی نہیں بلکہ لیکچروں میں بولنے، سماجی میڈیا پر شیئر کرنے اور ڈرائنگ روم میں طغرا بنا کر سجانے کی شے ہے۔ ہندو کو دیکھ ہم کو اب یاد آتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں، سنی کو دیکھ کر یاد آتا ہے کہ ہم شیعہ ہیں، بریلوی کو دیکھ کر یاد آتا ہے کہ ہم دیوبندی ہیں، اللہ پر تو توکل نہیں رہا، ہاں سائنس، ٹیکنالوجی، ڈاکٹر، دولت، اسباب وغیرہ پر توکل غیر متزلزل ہے۔ یعنی مذہب بھی اب ایک کسر ہے کل نہیں ہے۔ یہ دراصل دوستوئفسکی کی ہی تو دنیا ہے بس اس میں ”فادر زوسیما“ نہیں ہیں۔


