پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (تیسرا حصہ)
فوج لاہور شہر کے دروازوں پر آ پہنچی اور جواہر سنگھ کو پیغام بھیجا کہ وہ اگر کنور پشورا سنگھ کے قتل کی بابت کچھ کہنا چاہتا ہے تو یہاں پیش ہو، ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہو جائے۔ قلعے کے اندر موجود جواہر سنگھ کی فوج کو بھی یہ پیغام بھیجا کہ اگر اس نے جواہر سنگھ کا ساتھ دیا یا اسے بھاگنے میں مدد دی تو سب کو توپ کے سامنے اڑا دیا جائے گا۔ یہ سن کر جواہر سنگھ کی فوج نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مہارانی جند کور اور جواہر سنگھ نے فوج کی تنخواہ میں اضافے کا تحریری اقرار نامہ بھیجا لیکن فوج نہ مانی۔
21 ستمبر 1845 کو جواہر سنگھ، مہارانی جند کور کو ساتھ لے کر فوج کے پاس آیا۔ ایک ہاتھی پر وہ مہاراجہ دلیپ سنگھ کو گود میں لیے سوار ہوا۔ دوسرے پر مہارانی سوار تھی۔ فوج کو انعام دینے کے لیے بہت سی دولت بھی ساتھ رکھ لی۔ وہ فوج کے قریب پہنچے تو ’پرتھی سنگھ‘ اور ’جواہر مل‘ کے سپاہیوں نے وزیر کے ہاتھی کو گھیر لیا۔ اُس نے بڑی منت سماجت کی۔ لیکن کوئی پیش نہ گئی۔ مہاراجا کو اس کی گود سے کھینچ کر نیچے اتار لیا گیا۔ ’پنجاب کے وزیر‘ جواہر سنگھ کو دو گولیاں ماری گئیں اور سنگین چھبوئی اور کھینچ کر ہاتھی سے نیچے گرا کر تلوار سے سر کاٹ لیا۔
مہارانی اور دلیپ سنگھ کو رات فوج کی نگرانی میں رکھا گیا۔ اگلے دن دلیپ سنگھ کو اس شرط پر فوج نے مہارانی کے حوالے کیا کہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گی۔ فوج نے مہارانی سے معافی مانگی اور آئندہ اس کے ماتحت رہنے کا وچن دیا۔ جواہر سنگھ کے فوج کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد باقی سرداروں کے دلوں میں فوج کا ایسا ڈر بیٹھا کہ پھر کوئی وزیر نہ بنا۔
گلاب سنگھ سے وزیر بننے کے لیے کہا گیا لیکن اس نے یہ درخواست قبول نہ کی۔ پھر اس کے بعد کسی دوسرے سردار کی ’ہاں‘ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بلآخر مہارانی جند کور نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پنچایت کی مدد سے راج کرنے لگی۔ پنچایت کے ارکان میں دیوان دینا ناتھ، بھائی رام سنگھ، مصر لال سنگھ اور فقیر نور دین شامل تھے۔ لیکن نومبر 1845 کے شروع میں جب سکھ انگریزوں سے جنگ کرنے پر مجبور ہو گئے تو راجا لال سنگھ کو وزیر اور تیج سنگھ کو خالصہ فوج کا کمانڈر انچیف بنا دیا گیا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ اور انگریزوں کے درمیان 1809 میں دوستی کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے میں ُپنجاب ’اور‘ برطانوی ہند ’کی حدبندی کی گئی۔
سکھ راج کے پنجاب کی حد ستلج دریا کا شمالی کنارہ اور برٹش راج کے ہندوستان کی حد جمنا مقرر ہوئی۔ درمیانی علاقہ، صوبہ سرہند ’بفر زون‘ قرار دیا گیا۔ جس میں فوجی چھاؤنیاں قائم کرنا ممنوع قرار پایا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کی موت کے بعد انگریزوں نے 1809 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکھ راج کی حد پر فوجی چھاؤنیاں قائم کر کے نقل و حرکت بڑھا دی۔
پنجاب سے جنگ کے لیے برٹش فوج کی تیاریاں سنجیدہ طور پر 1843 میں اس وقت شروع ہوئیں جب نئے گورنر جنرل لارڈ ایلنبرو ( 1842۔ 44 ) نے پنجاب پر قبضے کے لیے فروزپور اور لدھیانہ کی سرحدی چوکیوں پر انگریزی اور ہندوستانی پیدل فوج کی کمک پہنچانی شروع کی۔ کسولی اور شملہ میں نئی چھاؤنیاں بنائیں۔ اس کے علاوہ ایلنبرو نے انبالہ، لدھیانہ اور فروزپور میں 11، 639 فوجی اور 48 توپیں اکٹھی کر لیں۔ ستلج کو پار کرنے کے لیے کشتیوں کا پل بنانے کے لیے کشتیوں کا انتظام شروع کیا۔
جولائی 1844 میں لارڈ ایلنبرو کی جگہ لارڈ ہارڈنگ ( 1844۔ 48 ) کو ہندستان کا گورنر جنرل تعینات کر دیا گیا۔ ہارڈنگ نے سکھوں سے جنگ کرنے کے لیے ستلج سرحد پر اپنی طاقت بڑھانے کا عمل تیز کر دیا۔ کرنل رچمنڈ کی جگہ جنگ باز میجر جارج بریڈفٹّ کو پنجاب میں سیاسی ایجنٹ کے طور پر لگایا۔ کمانڈر انچیف لارڈ گف نے اپنا ہیڈ کارٹر امبالے قائم کر لیا۔ سرحد پر فوجیں اکٹھی کرنے کے علاوہ لدھیانہ ضلعے میں ایک بڑا سپلائی ڈپو بنایا۔
سرحد کی طرف گورنر جنرل کے نومبر 1845 میں ایک دم اگے بڑھنے سے لاہور میں، پنجاب پر حملے کی افواہیں پھیل گئی۔ خالصہ فوج نے انگریزوں کے حملے کے خطرے کو روکنے کی کوشش میں اپنی تیاریاں شروع کر دیں۔
فوجی پنچوں نے وزیر جواہر سنگھ کی موت کے بعد لاہور دربار کے معاملے اپنے ہاتھوں میں لے کر لاہور کو ایک فوجی ریپبلک میں بدل دیا تھا۔ فوجی پنچائتوں کے ایک مضبوط فوجی ریپبلک بننے پر برٹش سرکار بہت گھبرائی۔ اس عمل میں خالصہ فوج اب حقیقتاً ’خالصہ‘ کا کردار دھار چکی تھی۔ جسے انگریزوں نے ”پنچائت نظام کا ایک خطرناک فوجی جمہوریہ“ قرار دیا۔
ہندوستان میں پنجاب ریاست ان چند ریاستوں میں سے ایک تھی جو مغل سلطنت کے زوال بعد ابھی تک انگریزوں کے تسلط سے بچی ہوئی تھی۔ جس کی مضبوط فوج انگریزوں کو للکارنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ انگریز پنجاب پر قبضہ کر کے اسے اپنے برطانوی ہند میں ضم کرنا چاہتے تھے۔ سرحد پر بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت سے پنجاب میں جنگ کے لیے درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ یہ لڑائی لاہور دربار کی طرف سے نہیں بلکہ خودمختار ہو چکی فوج کی خود غرض سرداروں (فوجی افسروں ) جانب سے چھیڑی گئی۔ وزیر جواہر سنگھ کی موت کے بعد فوجی پنچائتوں نے لاہور دربار کے معاملے اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
رنجیت سنگھ کے مضبوط ہاتھوں سے نکل کر پنجاب بے قابو ہو چکا تھا۔ بڑے بڑے سردار اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ اس قتل و غارت میں فوج بھی حصہ لینے لگی۔ مہاراجہ شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ کے مارے جانے کے بعد، ہیرا سنگھ سیدھا فوج کے قدموں میں جا پڑا تھا۔ سندھاوالیوں کو مار کر ہیرا سنگھ ڈوگرا کو وزیر بنانے میں ساری طاقت فوج ہی کی تھی۔ اب جبکہ فوج اور ’فوجی پنچ‘ اپنی قوت جان گئے تھے، ہیرا سنگھ وزیر بننے کے بعد فوج کو اپنے قابو میں نہ رکھ سکا، جسے فوج نے ہی وزیر بنایا تھا۔
اب حکومت کی باگ خالصہ فوج کے ہاتھ میں تھی، مہاراجے یا وزیر کے ہاتھوں میں نہیں۔ جب ہیرا سنگھ نے اپنی مرضی چلانے کی کوشش کی تو اسے مروا کر جواہر سنگھ کو وزیر بنانا دیا گیا اور جب اس نے کام الٹ کیا تو اُسے بھی ہار بلا لیا گیا۔ فوج کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ جواہر سنگھ کے بعد بڑا وزیر (وزیراعظم یا نخست وزیر) کوئی نہیں بننا چاہتا تھا۔ گلاب سنگھ (ڈوگرا) ، تیج سنگھ اور لال سنگھ کسی کا بھی حوصلہ نہ پڑا کہ وہ وزیر بن کر خالصہ فوج کو قابو کر سکیں۔ تو اب ایسی خود مختار اور لڑائی کے لیے ہر دم تیار فوج کو جنگ سے کیسے روکا جا سکتا تھا۔
(جاری ہے )

