انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

لارڈ ہارڈنگ کی یہ خواہش تھی کہ وہ پنجاب کو انگریزی راج میں ملا ہوا دیکھے۔ لیکن بطور گورنر جنرل، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ مارچ 1846 کی صلح میں انگریزوں کے پنجاب میں اپنے قدم جمانے کے لیے اس نے ابتدائی اقدام اٹھائے۔ پنجاب کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج میں ضم…

Read more

انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

اب پنجاب کی باگ لاہور دربار کے ہاتھ میں نہ رہی۔ خالصہ فوج کے ’پنچ‘ اب پنجاب کے اصل حاکم بن چکے تھے۔ جبکہ انگریزوں کے ایجنٹ لال سنگھ اور تیج سنگھ خالصہ فوج کو تباہ کروا کر اپنی مرضی کا راج کرنا چاہتے تھے۔ جب ہیرا سنگھ ڈوگرا وزیر بنا تو اس نے خالصہ…

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (تیسرا حصہ)

جواہر سنگھ، عطر سنگھ کالیاوالا اور شام سنگھ اٹاری والا فوجیں لے کر ہیرا سنگھ ڈوگرا کے پیچھے لپکے۔ انھوں نے لاہور سے 7 میل کے فاصلے پر ہیرا سنگھ کو جا گھیرا۔ کافی خون ریز لڑائی ہوئی۔ ہیرا سنگھ، پنڈت جلاّ، میاں موہن سنگھ، لابھ سنگھ ڈوگرا بہت سے ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ راجا ہیرا سنگھ کے…

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (دوسرا حصہ)

مہاراجا شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ میں رنجش دن بدن بڑھنے لگی۔ دھیان، شیر سنگھ کو ہٹا کر تخت پر کسی اور کو بٹھانا چاہتا تھا جبکہ شیر سنگھ وزیر دھیان سنگھ کا خاتمہ چاہتا تھا۔ دوسری طرف سندھاوالیے سردار لہنا سنگھ اور اجیت سنگھ یہ قسمیں کھائے بیٹھے تھے کہ جب تک وہ…

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار

18 ویں صدی کی دوسری دہائی میں مغل سلطنت آہستہ آہستہ زوال پزیر ہونے لگی۔ اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراشٹر کے مرہٹے ہندوستان میں پھیلنے لگے اور پنجاب میں اٹک تک کے علاقے فتح کر لیے۔

سکھ سردار بھی مرہٹوں کے ساتھ مل گئے اور انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی عملداریاں قائم کر لیں جنھیں ’مسل‘ کہا جاتا۔ انہی مسلوں میں سے ایک ’سکرچریا مسل‘ کا سردار، رنجیت سنگھ تھا۔

Read more

آس ابھی باقی ہے- بھارتی پنجاب سے ایک تازہ کہانی بہت پرانی

دیوار گھڑی پر صبح کے سات بج رہے ہیں۔ تاہم ابھی دل اٹھنے کو نہیں چاہ رہا۔ جسم چور چور ہو رہا ہے گویا اس میں جان ہی نہ ہو۔ ’ہرپَریت‘ کچن میں چائے بنانے کے لیے شاید جا چکی ہے۔ ڈیڈی صحن میں ٹہل رہے ہیں۔ ”پرنس بیٹا! اٹھو سکول جانے کا ٹائم ہو…

Read more

بہترین رفیق

ایک تاجر کے چار دوست تھے۔ وہ ان چاروں دوستوں میں سے چوتھے رفیق کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ اُسے طرح طرح کے تحفوں سے نوازتا، مختلف اقسام کی سوغات اس کے لیے ہر وقت مہیا رکھی جاتیں، سب سے بہترین اشیاء کا انتخاب وہ خاص اِس چوتھے رفیق کے لیے کیا کرتا اور اس کے ساتھ بڑی عزت و احترام سے پیش آتا۔

Read more

اینٹی کرپشن تعویذ

ایک ملک میں ہلا مچا کہ بَھرِشٹاچار بہت پھیل گیا ہے۔

راجا نے ایک دن درباریوں سے کہا: ”پرجا بہت ہلا مچا رہی ہے کہ سب جگہ بَھرِشٹاچار پھیلا ہوا ہے۔ ہمیں تو آج تک کہیں نہیں دِکھا۔ اگر تم لوگوں نے دیکھا ہو تو بتاؤ“۔

درباریوں بے کہا: ”جب حضور کو نہیں دِکھا، تو ہمیں کیسے دِکھ سکتا ہے؟ “

راجا نے کہا: ”نہیں! ایسا نہیں ہے۔ کبھی کبھی جو مجھے نہیں دکھائی دیتا، وہ تمہیں تو دکھائی دیتا ہو گا۔ جیسے مجھے برے سپنے نہیں دِکھتے، پر تمھیں تو دکھائی دیتے ہوں گے۔ “

درباریوں نے کہا: ”جی دکھائی دیتے ہیں۔ ہر وہ تو سپنوں کی بات ہے۔ “

Read more

توہین عدالت اور جج

سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس صاحب نے ملک ریاض کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ پہلے بھی یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ ایک ہزار ارب روپے ادا کر کے تمام مقدمات سے جان چھڑا لیں۔ پھر فرمایا کہ اگر پانچ سو ارب دے دیں تو وہ خود عملدرآمد والے بینچ میں بیٹھ کر ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیں گے۔ پاکستان کی عدالت عظمی کے معزز چیف جسٹس کی یہ پیشکش پاکستان کے نظام عدل سے متعلق سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

Read more

بینائی

دیکھنے کے لیے کسی مہارت و قابلیت کی اور نہ ہی دانائی کی ضرورت ہے۔ پرندے بھی دیکھتے ہیں۔ چوہے، بھیڑیں اور بھیڑیے بھی دیکھتے ہیں۔ انسان بھی دیکھتا ہے۔ انسان کبھی پرندوں کی طرح دیکھتا ہے، کبھی چوہوں کی طرح۔ ان میں سے کچھ بھیڑوں کی طرح تو کچھ بھیڑیوں کی طرح۔ سو دیکھنے کے لیے کسی مہارت کی ضرورت ہے اور نہ ہی دانائی کی۔ یہاں تک کہ انسان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ پرندے ہر شے نقطوں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

ہر نقطہ یا تو باجرے کا دانہ ہے، یا گندم کا، یا ایک مردہ کیڑا، یا ہر وہ شے جو چگنے کے لیے موزوں ہو۔ ہر نقطہ دوسرے سے مختلف۔ لمحے بھی، زندگی ایک نقطے کی مانند ہے۔ یا پھر ایک لمحہ، ہر لمحہ ایک نقطہ ہے، جیسے باجرے کا ایک دانہ یا ہر وہ شے جو انہیں چگنے کے لیے موزوں لگے۔ جب ایک نقطہ تمام ہو گیا تو دوسرا اسی کی مانند چُگے جانے کے لیے تیار۔ پرندے انسان کی طرح دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن انسان شاید پرندوں کی مانند ہو جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Read more