عاشقِ کتاب (افسانہ)

تحریر : ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے بارے میں ہے۔ ***     *** ’مش اسد اللہ‘…

Read more

کرمان کے ایک بچے کا سفرنامہ اصفہان

ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے سفرنامہ اصفہان کے بارے میں ہے۔

قصہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ اُس روز رات ڈھلتے ہی، میری دادی ’بی بی‘ اور میں نے اکبر آغا کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔ اکبر آغا ٹرک ڈرائیور ہیں۔ ان کی بیوی فاطمہ، کچھ دنوں سے بیمار تھی۔ ہم نے کچھ پھل خریدے اور ان کے گھر عیادت کرنے پہنچے۔
ہم کمرے میں بیٹھے تھے اور ہمارے سامنے انگور اور چائے رکھے تھے۔ ہر کوئی باتیں کر رہا تھا۔

اکبر آغا، بندرعباس کے سفر سے لوٹے تھے۔ وہ اس سفر کی روداد سنا رہے تھے۔ رستے کی حالت، وہاں کے لوگوں کے بارے میں، سمندر کا حال احوال، مچھلیوں کے بارے میں، ساحل سمندر کی آب و ہوا کے بارے میں، مسلسل بولنے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور اپنے چھے حواسوں کے ساتھ ان کی باتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ بات کر رہے تھے اور میں اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھ رہا تھا۔ گویا میں اس کمرے میں موجود ہی نہ ہوں۔

Read more

1947 اگست: شیخوپورہ پر کیا بیتی؟

پنجابی لکھاری، شاعر، گائک، کہانی کار، ناول نگار اور سکھ مؤرخ، گیانی سوہن سنگھ سیتل کا جنم 1909 میں ضلع لاہور کی تحصیل قصور کے ایک گاؤں کادی ونڈ میں ہوا۔ ان کی سکھ تاریخ سے متعلق پہلی کتاب ’سکھ راج کیویں گیا‘ کے نام سے 1944 میں چپھی۔ ناولوں میں ’توتاں والا کھوہ‘ اور…

Read more

سچائی اور سوپر سائنس کے بارے میں ایک تاریخی تقریر

”میرے پاکستانیو! میں آج بہت خوش ہوں اس لئے کہ آج میں آپ سے اپنے دل کی وہ بات کرنے والا ہوں۔ جس کو عوام تک پہنچانے کے لیے میں نے تئیس سال محنت کی۔ اور یہ بات پچھلے حکمرانوں کو بھی کرنی نصیب نہیں ہوئی۔ یہ وہ سچ ہے جو آپ سے کسی نے…

Read more

انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

لارڈ ہارڈنگ کی یہ خواہش تھی کہ وہ پنجاب کو انگریزی راج میں ملا ہوا دیکھے۔ لیکن بطور گورنر جنرل، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ مارچ 1846 کی صلح میں انگریزوں کے پنجاب میں اپنے قدم جمانے کے لیے اس نے ابتدائی اقدام اٹھائے۔ پنجاب کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج میں ضم…

Read more

انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

اب پنجاب کی باگ لاہور دربار کے ہاتھ میں نہ رہی۔ خالصہ فوج کے ’پنچ‘ اب پنجاب کے اصل حاکم بن چکے تھے۔ جبکہ انگریزوں کے ایجنٹ لال سنگھ اور تیج سنگھ خالصہ فوج کو تباہ کروا کر اپنی مرضی کا راج کرنا چاہتے تھے۔ جب ہیرا سنگھ ڈوگرا وزیر بنا تو اس نے خالصہ…

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (تیسرا حصہ)

جواہر سنگھ، عطر سنگھ کالیاوالا اور شام سنگھ اٹاری والا فوجیں لے کر ہیرا سنگھ ڈوگرا کے پیچھے لپکے۔ انھوں نے لاہور سے 7 میل کے فاصلے پر ہیرا سنگھ کو جا گھیرا۔ کافی خون ریز لڑائی ہوئی۔ ہیرا سنگھ، پنڈت جلاّ، میاں موہن سنگھ، لابھ سنگھ ڈوگرا بہت سے ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ راجا ہیرا سنگھ کے…

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (دوسرا حصہ)

مہاراجا شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ میں رنجش دن بدن بڑھنے لگی۔ دھیان، شیر سنگھ کو ہٹا کر تخت پر کسی اور کو بٹھانا چاہتا تھا جبکہ شیر سنگھ وزیر دھیان سنگھ کا خاتمہ چاہتا تھا۔ دوسری طرف سندھاوالیے سردار لہنا سنگھ اور اجیت سنگھ یہ قسمیں کھائے بیٹھے تھے کہ جب تک وہ…

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار

18 ویں صدی کی دوسری دہائی میں مغل سلطنت آہستہ آہستہ زوال پزیر ہونے لگی۔ اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراشٹر کے مرہٹے ہندوستان میں پھیلنے لگے اور پنجاب میں اٹک تک کے علاقے فتح کر لیے۔

سکھ سردار بھی مرہٹوں کے ساتھ مل گئے اور انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی عملداریاں قائم کر لیں جنھیں ’مسل‘ کہا جاتا۔ انہی مسلوں میں سے ایک ’سکرچریا مسل‘ کا سردار، رنجیت سنگھ تھا۔

Read more

آس ابھی باقی ہے- بھارتی پنجاب سے ایک تازہ کہانی بہت پرانی

دیوار گھڑی پر صبح کے سات بج رہے ہیں۔ تاہم ابھی دل اٹھنے کو نہیں چاہ رہا۔ جسم چور چور ہو رہا ہے گویا اس میں جان ہی نہ ہو۔ ’ہرپَریت‘ کچن میں چائے بنانے کے لیے شاید جا چکی ہے۔ ڈیڈی صحن میں ٹہل رہے ہیں۔ ”پرنس بیٹا! اٹھو سکول جانے کا ٹائم ہو…

Read more