پیوند لگی شلواریں

تحریر: رسول پرویزی ترجمہ: عارف ظہیر بھٹی غم و خوشی کا باہم مسابقہ رہتا ہے۔ سکول کا صحن ہنسی اور رونے میں غرق تھا۔ جو شاگرد سکول کے دالان سے گزرتا، اس کا چہرہ اترا ہوا ہوتا۔ لیکن جیسے ہی صحن میں پہنچتا بچوں کی خوشی کا ایک ریلا اسے گھیر لیتا۔ تب وہ بھی باقی بچوں کے طرح ہنسنے لگتا۔ اس ہنسی کا سبب لباس تھا۔ ماجرا کیا تھا؟ ہیڈماسٹر آغا نے سو بار کہا تھا کہ پینٹ کوٹ

Read more

ہیڈماسٹر: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی ( 2 )

”آپ نے پٹائی کر لی ہے۔ اب مزید کس لیے کھڑا رہوں؟“ ”تم لکھاری بننا چاہتے ہو۔ بتاؤ تاکہ مجھے بھی پتا چلے کہ کس موقع پر گالی لکھ کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں؟“ ”جہاں تک میں جانتا ہوں۔ کہانیوں میں گالی لکھتے ہیں۔ وہ بھی ہر طرح کی نہیں۔ ”مثلاً؟“ ”مثلاً۔ بعض گالیاں نازیبا نہیں ہوتیں۔ اسے کہانی کے کردار کی زبانی لکھا جاتا ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کی گھریلو تربیت نہیں

Read more

ہیڈماسٹر: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی (1)

بچوں نے کلاس کو سر پہ اٹھا رکھا تھا کہ ہیڈ ماسٹر آغا نے غصے سے بھرا اپنا سر اندر کر کے پوچھا: ”کیا مسئلہ ہے گوسالوں؟“ وہ ہمیشہ کی طرح ایک چھڑی اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور بالکل شمر کی طرح ناراحت اور غصے میں تھے۔ جیسے ہی ان کی آواز کلاس میں ابھری، بچے جو بلیک بورڈ اور کلاس کے اندر ادھر ادھر کھڑے تھے، چوہوں کی طرح پھدک کر اپنی اپنی جگہ پر جا بیٹھے۔

Read more

تسبیح: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

خدا ریاضی کے ہر معلم کے ماں باپ کو، بلا استثنا، معاف فرمائے۔ اگر وہ اس دنیا سے جا چکے ہیں تو خدا کا نور ان کی قبروں پر برسے۔ اگر بقید حیات ہیں اور سانس لیتے ہیں، تو خدا ان کی عمر اور عزت میں اضافہ فرمائے۔ ہر ممکن طریقے، خوش زبانی، مہربانی، نصیحت اور ملائمت، ڈانٹ ڈپٹ، سخت کلامی، کانوں اور گردنوں پہ تھپڑ، لکڑی کے فٹ سے ہتھیلیوں پر ضربوں، غرض یہ کہ ہر ممکن طریقے سے

Read more

آرزوئیں۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

ایک وقت تھا کہ میں بہت ’سر بہ زیر‘ رہتا تھا۔ گلیوں اور سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے اگر کوئی اونٹ بھی اپنی بڑی جسامت کے ساتھ، میرے قریب سے گزرتا تو میری آنکھیں اسے نہ دیکھ پاتی تھیں کیوں کہ میرا سر جھکا ہوا ہوتا تھا۔ جب میں گھر پہنچتا تو گردن کے پچھلی جانب کی رگیں اکڑ چکیں ہوتیں اور ان میں درد ہونے لگتا۔ میں گردن کی اچھی طرح سے مالش کرتا تاکہ رگوں میں خون گردش کرے اور گردن کو تھوڑا دائیں بائیں کر سکوں۔

بی بی نے بہت سمجھایا، اس بارے میں کتنی نصحیتیں کیں۔ کس قدر ملامت اور سرزنش کی تھی لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے یہ کام نہ چھوڑا۔ عادت ہو چکی تھی کہ سر جھکاؤ اور راہ چلتے وقت ایک سے ڈیڑھ میٹر سے زیادہ دور نہ دیکھو۔ بعض لوگوں نے مجھے جب اس حالت میں دیکھا تھا تو انہیں میری اس حالت پر بہت رحم آیا۔ انھوں نے سمجھا کہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے۔ بی بی کو اس بارے میں فکر کرنی چاہیے۔ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔

Read more

سماوار: ایران سے آئی کہانی جس سے محبت کی بھاپ اٹھتی ہے

کہانی: ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی  بی بی اور کچھ ہمسائیوں نے پیسے اکٹھے کیے، تا کہ وہ طاہرہ خانم کی بیٹی کے لیے ایک عمدہ اور دیدہ زیب تحفہ خریدیں۔ طاہرہ خانم کی بیٹی کی شادی ہو رہی تھی۔ ہمیں بھی دعوت پر بلایا گیا تھا۔ یہ اس کا حق تھا کہ اس کے لیے کوئی عمدہ اور مناسب چیز لے کر جائیں۔ بی بی، جس نے ایک عمر گزار کر اپنے بال سفید کیے تھے۔ وہ اپنی

Read more

مجید نے دوست کی دعوت کی۔ ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے بارے میں ہے۔
۔

تین چار ڈول پانی کنویں سے نکالا اور دیوار کے ساتھ بنے ہوئے حوض میں ڈال دیا۔ اپنے کپڑے اتارے اور تھوڑا تھوڑا کر کے، حوض میں سے پانی لے کر اپنے سر اور کندھوں پر ڈالا۔ یہ تازہ پانی صاف، شفاف اور ٹھنڈا تھا اور اس جھلسا دینے والے اس گرمی کے موسم میں خوشگوار لگ رہا تھا۔ جیسے ہی ٹھنڈا پانی میری جلد پر پڑتا تو کپکپی کی ایک لہر سی اٹھتی۔ لیکن پھر کچھ ہی دیر میں جسم عادی ہو گیا اور مجھے لطف بھی آنے لگا۔ بی بی بھی صابن اور تولیہ میرے قریب ہی رکھ گئی۔ میں نہا دھو کر اور صاف ستھرا ہو کر راحت محسوس کرنے لگا۔

Read more

کیا کرونا خدا کی آزمائش ہے؟ جناب جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر

سوال: کرونا وائرس سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں دو رویے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک یہ کہ جو مذہبی لوگ ہیں، وہ اسے خدا کی آزمائش قرار دے کر لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ اور جو غیر مذہبی لوگ ہیں وہ اس کا سائنسی طور پہ یا اس کا جو (Cure) ہے اسے تلاش کرنے میں محنت صرف کر رہے ہیں۔ تو اس موقعے پر جب اس طرح کی

Read more

مجید نے مضمون لکھا: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کی مضمون نگاری کے بارے میں ہے۔

٭٭٭ ٭٭٭
ایران کے سکولوں میں ایک پیریڈ نگارش یا انشا کا ہوتا ہے جس میں نثر لکھنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔
اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بننا چاہتا۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ میں مضمون نگاری اچھی کر لیتا تھا۔ خدا شاہد ہے کہ صرف اس کام میں میں برا نہیں تھا ورنہ دیگر کوئی چیز ایسی قابل ذکر نہیں تھی جس کی نشاندہی کر سکوں۔

Read more

میں اب جھوٹ نہیں بولتا (افسانہ)۔

لکھاری: سمرن دھالیوال پنجابی سے اردو: عارف بھٹی ( 8 اگست 1986 کو مشرقی پنجاب کے ضلع ترن تارن کے سرحدی قصبے ’پٹّی‘ میں جنمے سمرن دھالیوال کا شمار پنجابی کے ابھرتے ہوئے کہانی کاروں میں ہوتا ہے۔ انہیں ان کی کتاب ’اُس پَل‘ پر 2016 میں کینیڈا کے معتبر ادبی ایوارڈ ڈھاھاں سی نوازا گیا۔ جبکہ کتاب ’آس اجے باقی ہے‘ پر ہندوستان کے ’ساہتیہ اکیڈمی یُوا پُرسکار‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ) سناؤ بھائی صاحب! کیا

Read more

قومی ادارہ براے فروغ منافقت

عالمی سطح پر اپنے مطالبات کو احتجاج کی صورت میں پیش کر کے انھیں منوانے کی روش روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ معاشرے کا ہر طبقہ آئے روز اپنے اپنے مطالبات لے کر سڑکوں، گزرگاہوں اور چوراہوں کا رخ کرتا نظر آتا ہے۔ ان میں معاشرے کے کوئی سے بھی دو طبقات کے مطالبات میں آپس میں کبھی بھی ہم آہنگی نہیں پائی گئی۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام طبقات ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر، اپنے

Read more

عاشقِ کتاب (افسانہ)

تحریر : ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے بارے میں ہے۔ ***     *** ’مش اسد اللہ‘ نے کتاب میں سے ایک صفحہ پھاڑا۔ صفحے کو لپیٹ کر ایک کاغذی لفافے کی شکل دی۔ اس کے اندر تمباکو ڈالا، ترازو میں رکھا،

Read more

کرمان کے ایک بچے کا سفرنامہ اصفہان

ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے سفرنامہ اصفہان کے بارے میں ہے۔

قصہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ اُس روز رات ڈھلتے ہی، میری دادی ’بی بی‘ اور میں نے اکبر آغا کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔ اکبر آغا ٹرک ڈرائیور ہیں۔ ان کی بیوی فاطمہ، کچھ دنوں سے بیمار تھی۔ ہم نے کچھ پھل خریدے اور ان کے گھر عیادت کرنے پہنچے۔
ہم کمرے میں بیٹھے تھے اور ہمارے سامنے انگور اور چائے رکھے تھے۔ ہر کوئی باتیں کر رہا تھا۔

اکبر آغا، بندرعباس کے سفر سے لوٹے تھے۔ وہ اس سفر کی روداد سنا رہے تھے۔ رستے کی حالت، وہاں کے لوگوں کے بارے میں، سمندر کا حال احوال، مچھلیوں کے بارے میں، ساحل سمندر کی آب و ہوا کے بارے میں، مسلسل بولنے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور اپنے چھے حواسوں کے ساتھ ان کی باتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ بات کر رہے تھے اور میں اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھ رہا تھا۔ گویا میں اس کمرے میں موجود ہی نہ ہوں۔

Read more

1947 اگست: شیخوپورہ پر کیا بیتی؟

پنجابی لکھاری، شاعر، گائک، کہانی کار، ناول نگار اور سکھ مؤرخ، گیانی سوہن سنگھ سیتل کا جنم 1909 میں ضلع لاہور کی تحصیل قصور کے ایک گاؤں کادی ونڈ میں ہوا۔ ان کی سکھ تاریخ سے متعلق پہلی کتاب ’سکھ راج کیویں گیا‘ کے نام سے 1944 میں چپھی۔ ناولوں میں ’توتاں والا کھوہ‘ اور ’جگ بدل گیا‘ مشہور ہوئے۔ ناول ’جگ بدل گیا‘ کو 1974 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔ ان کی ایک کتاب ’پنجاب دا اجاڑہ‘ کے نام

Read more

سچائی اور سوپر سائنس کے بارے میں ایک تاریخی تقریر

”میرے پاکستانیو! میں آج بہت خوش ہوں اس لئے کہ آج میں آپ سے اپنے دل کی وہ بات کرنے والا ہوں۔ جس کو عوام تک پہنچانے کے لیے میں نے تئیس سال محنت کی۔ اور یہ بات پچھلے حکمرانوں کو بھی کرنی نصیب نہیں ہوئی۔ یہ وہ سچ ہے جو آپ سے کسی نے کبھی نہیں بولا۔ کیوں نہیں بولا، اس لیے کہ میرے پاکستانیو، آپ کے کان یہ بات سننے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں تھے۔ آج

Read more

انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

لارڈ ہارڈنگ کی یہ خواہش تھی کہ وہ پنجاب کو انگریزی راج میں ملا ہوا دیکھے۔ لیکن بطور گورنر جنرل، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ مارچ 1846 کی صلح میں انگریزوں کے پنجاب میں اپنے قدم جمانے کے لیے اس نے ابتدائی اقدام اٹھائے۔ پنجاب کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج میں ضم کر لینا، انگریزوں کی طاقت سی باہر تھا۔ انھوں نے اس مراد کو پانے کے لیے دھیرے دھیرے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا فیصلہ

Read more

انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

اب پنجاب کی باگ لاہور دربار کے ہاتھ میں نہ رہی۔ خالصہ فوج کے ’پنچ‘ اب پنجاب کے اصل حاکم بن چکے تھے۔ جبکہ انگریزوں کے ایجنٹ لال سنگھ اور تیج سنگھ خالصہ فوج کو تباہ کروا کر اپنی مرضی کا راج کرنا چاہتے تھے۔ جب ہیرا سنگھ ڈوگرا وزیر بنا تو اس نے خالصہ فوج کو بھڑکایا کہ وہ انگریزوں پر حملہ کر دے۔ اس سے انگریزوں میں ڈر پیدا ہو گیا۔ وہ پہلے ہی پنجاب کے حاکموں کی

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (تیسرا حصہ)

جواہر سنگھ، عطر سنگھ کالیاوالا اور شام سنگھ اٹاری والا فوجیں لے کر ہیرا سنگھ ڈوگرا کے پیچھے لپکے۔ انھوں نے لاہور سے 7 میل کے فاصلے پر ہیرا سنگھ کو جا گھیرا۔ کافی خون ریز لڑائی ہوئی۔ ہیرا سنگھ، پنڈت جلاّ، میاں موہن سنگھ، لابھ سنگھ ڈوگرا بہت سے ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ راجا ہیرا سنگھ کے مرنے کے بعد مہارانی جند کور نے اپنے بڑے بھائی جواہر سنگھ کو پنجاب کا وزیر بنا۔ جموں کے گورنر راجا گلاب سنگھ نے مالیہ نہیں

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (دوسرا حصہ)

مہاراجا شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ میں رنجش دن بدن بڑھنے لگی۔ دھیان، شیر سنگھ کو ہٹا کر تخت پر کسی اور کو بٹھانا چاہتا تھا جبکہ شیر سنگھ وزیر دھیان سنگھ کا خاتمہ چاہتا تھا۔ دوسری طرف سندھاوالیے سردار لہنا سنگھ اور اجیت سنگھ یہ قسمیں کھائے بیٹھے تھے کہ جب تک وہ مہاراجا شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ کا خاتمہ نہیں کر لیتے تب تک دائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھائیں گے۔ ایک دن دھیان سنگھ

Read more

پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار

18 ویں صدی کی دوسری دہائی میں مغل سلطنت آہستہ آہستہ زوال پزیر ہونے لگی۔ اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراشٹر کے مرہٹے ہندوستان میں پھیلنے لگے اور پنجاب میں اٹک تک کے علاقے فتح کر لیے۔

سکھ سردار بھی مرہٹوں کے ساتھ مل گئے اور انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی عملداریاں قائم کر لیں جنھیں ’مسل‘ کہا جاتا۔ انہی مسلوں میں سے ایک ’سکرچریا مسل‘ کا سردار، رنجیت سنگھ تھا۔

Read more

آس ابھی باقی ہے- بھارتی پنجاب سے ایک تازہ کہانی بہت پرانی

دیوار گھڑی پر صبح کے سات بج رہے ہیں۔ تاہم ابھی دل اٹھنے کو نہیں چاہ رہا۔ جسم چور چور ہو رہا ہے گویا اس میں جان ہی نہ ہو۔ ’ہرپَریت‘ کچن میں چائے بنانے کے لیے شاید جا چکی ہے۔ ڈیڈی صحن میں ٹہل رہے ہیں۔ ”پرنس بیٹا! اٹھو سکول جانے کا ٹائم ہو گیا ہے۔ “ ہرپریت کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سکول سے مجھے اپنا سکول یاد آگیا ہے۔ ’سن سٹار پبلک سکول‘ ۔ سکول نہیں قیدخانہ۔

Read more

بہترین رفیق

ایک تاجر کے چار دوست تھے۔ وہ ان چاروں دوستوں میں سے چوتھے رفیق کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ اُسے طرح طرح کے تحفوں سے نوازتا، مختلف اقسام کی سوغات اس کے لیے ہر وقت مہیا رکھی جاتیں، سب سے بہترین اشیاء کا انتخاب وہ خاص اِس چوتھے رفیق کے لیے کیا کرتا اور اس کے ساتھ بڑی عزت و احترام سے پیش آتا۔

Read more

اینٹی کرپشن تعویذ

ایک ملک میں ہلا مچا کہ بَھرِشٹاچار بہت پھیل گیا ہے۔

راجا نے ایک دن درباریوں سے کہا: ”پرجا بہت ہلا مچا رہی ہے کہ سب جگہ بَھرِشٹاچار پھیلا ہوا ہے۔ ہمیں تو آج تک کہیں نہیں دِکھا۔ اگر تم لوگوں نے دیکھا ہو تو بتاؤ“۔

درباریوں بے کہا: ”جب حضور کو نہیں دِکھا، تو ہمیں کیسے دِکھ سکتا ہے؟ “

راجا نے کہا: ”نہیں! ایسا نہیں ہے۔ کبھی کبھی جو مجھے نہیں دکھائی دیتا، وہ تمہیں تو دکھائی دیتا ہو گا۔ جیسے مجھے برے سپنے نہیں دِکھتے، پر تمھیں تو دکھائی دیتے ہوں گے۔ “

درباریوں نے کہا: ”جی دکھائی دیتے ہیں۔ ہر وہ تو سپنوں کی بات ہے۔ “

Read more

توہین عدالت اور جج

سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس صاحب نے ملک ریاض کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ پہلے بھی یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ ایک ہزار ارب روپے ادا کر کے تمام مقدمات سے جان چھڑا لیں۔ پھر فرمایا کہ اگر پانچ سو ارب دے دیں تو وہ خود عملدرآمد والے بینچ میں بیٹھ کر ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیں گے۔ پاکستان کی عدالت عظمی کے معزز چیف جسٹس کی یہ پیشکش پاکستان کے نظام عدل سے متعلق سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

Read more

بینائی

دیکھنے کے لیے کسی مہارت و قابلیت کی اور نہ ہی دانائی کی ضرورت ہے۔ پرندے بھی دیکھتے ہیں۔ چوہے، بھیڑیں اور بھیڑیے بھی دیکھتے ہیں۔ انسان بھی دیکھتا ہے۔ انسان کبھی پرندوں کی طرح دیکھتا ہے، کبھی چوہوں کی طرح۔ ان میں سے کچھ بھیڑوں کی طرح تو کچھ بھیڑیوں کی طرح۔ سو دیکھنے کے لیے کسی مہارت کی ضرورت ہے اور نہ ہی دانائی کی۔ یہاں تک کہ انسان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ پرندے ہر شے نقطوں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

ہر نقطہ یا تو باجرے کا دانہ ہے، یا گندم کا، یا ایک مردہ کیڑا، یا ہر وہ شے جو چگنے کے لیے موزوں ہو۔ ہر نقطہ دوسرے سے مختلف۔ لمحے بھی، زندگی ایک نقطے کی مانند ہے۔ یا پھر ایک لمحہ، ہر لمحہ ایک نقطہ ہے، جیسے باجرے کا ایک دانہ یا ہر وہ شے جو انہیں چگنے کے لیے موزوں لگے۔ جب ایک نقطہ تمام ہو گیا تو دوسرا اسی کی مانند چُگے جانے کے لیے تیار۔ پرندے انسان کی طرح دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن انسان شاید پرندوں کی مانند ہو جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Read more