وزیراعظم سنبھل جائیں، پھر آمریت کا خطرہ ہے: شاہد خاقان عباسی


سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے عمران خان کو خبردار کیا ہے کہ وزیر اعظم سنبھل جائیں، نہ سنبھلے تو سیاست پیچھے رہ جائے گی، عوام آگے ہوں گے، ملک میں پھر آمریت کا خطرہ ہے۔

نارووال میں پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نون لیگ میں نوازشریف ہوں یا کوئی اور، سب کا بیانیہ ایک ہی ہے، پارٹی میں نہ کوئی گروپ بندی ہے اور نہ ہوسکتی ہے، عمران خان خود بتائیں گے کہ ان سےکون این آر او مانگ رہا ہے، این آر مانگنے اور دینے والے دونوں پر لعنت ہے۔

شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کوترقی دینی ہے تو انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ضروری ہے، عوام نے ہر بار بیلٹ باکس پر انتہا پسندی کی نفی کی ہے، اگرسیاسی لیڈر کی زبان اور لہجہ درست نہیں ہو گا تو ملک ترقی نہیں کر سکے گا، فوج سرحدوں پر دشمنوں کا مقابلہ کرتی ہے، ہمیں ملک کے اندر اپنی صفوں میں دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے، تفریق اور گالم گلوچ سے ملک ترقی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ آج یہاں جمع ہونےکامقصد پاکستان کی ترقی اور سالمیت ہے، ایک سال پہلے احسن اقبال پر ہونے والا حملہ اس مقصد پر حملہ تھا جس کے لیے پاکستان وجود میں آیا، انتہا پسندی اسلام کا پیغام نہیں، اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی جگہ نہیں، اسلام میں نہتے لوگوں پر حملے کی کوئی مثال نہیں، اسلام خواتین اور بچوں پر حملے کو کبھی قبول نہیں کرتا، کوئی مذہب انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دیتا، ہم نے ان طاقتوں کوشکست دینی ہے جوپاکستان کی ترقی نہیں چاہتیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی ہم آہنگی اور یکجہتی وقت کی ضرورت ہے۔ کئی بار کہا ہے کہ احتساب کرنا ہے کر لیں، عمران خان کا ایک وزیر دوائیوں کے پیسے کھا کر بھاگ گیا۔ عمران خان سن لیں ہمارا احتساب کریں گے تو ہم ان کا بھی احتساب کریں گے۔ مسلم لیگ نون ایک جماعت ہے، دھڑے بندی کی قیاس آرئیاں کرنا چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی خواہش تھی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذمہ داری کسی اور کو دیں، عمران خان، شاہ محمود، پیپلز پارٹی نے شہباز شریف پر اعتماد کیا، اگر یہ لوگ چاہتے ہیں تو شہباز شریف یہ عہدہ رکھ لیں گے، نون لیگ میں کوئی گروپ بندی نہیں، نواز شریف سمیت پوری پارٹی کا بیانیہ ایک ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہباز شریف ضرور واپس آئیں گے، اپنے خدشات دور کر لیں۔ وہ ہفتے دس دن میں واپس آجائیں گے۔ پاکستان آئین کےمطابق چلنا چاہیے۔ ہمارا بیانیہ ہے کہ آئین و قانون کے تحت مسائل حل ہوں۔

Facebook Comments HS