رمضان ٹرانسمیشن اور شیطانی ڈبہ


رمضان کی آمد آمد ہے۔ رحمتوں، برکتوں کا وہ مہینا، جس میں عبادات عروج پر ہوتی ہیں تو رب کی عنایات بھی۔ رب کی رحمت جو ہمیشہ اپنے بندوں پر رہتی ہی ہے، مگر اس ماہِ مبارک کی برکت سے رب کی رحمت سے ہر خاص و عام مستفید ہوتا ہے۔ اس میں نیک و گنہ گار کی تخصیص نہیں۔ اس کی رحمت سب کے لئے یکساں۔ ایک مسلمان پورے گیارہ مہینے اس ماہ کے انتظار میں رہتا ہے۔ کہ کب یہ ماہِ مبارک آئے اور کب اس پر رب کی بے شمار رحمتوں کی عنایات ہوں۔

کبھی عالم تھا کہ اس ماہ میں شاید ہی کوئی ہاتھ ایسا نظر آتا ہو جس میں تسبیح نہ ہوتی ہو۔ ان گنت نوافل ادا کیے جاتے، سی پارے دن میں کتنی ہی بار پڑھے جاتے۔ بس ہر ایک کو لالچ ہوتا کہ جتنا ممکن ہو سکے وہ عبادات کر کے رب کی رحمتیں سمیٹ لے۔ رب کو راضی کر لے۔ اپنے گناہ بخشوا لے۔ مگر کچھ عرصہ ہوا کہ ان عبادات کے انہماک میں کمی آ چکی ہے۔ اب عبادات پہلے کی طرح نہیں رہیں۔ رمضان آنے سے ایک ماہ پہلے ہی شیطان رمضان میں انسان کو جکڑنے کے لئے تیاری شروع کر دیتا ہے۔

جی ہاں وہی شیطانی ڈبا جس کا ایک کلک دنیا ادھر سے ادھر گھما دیتا ہے۔ رمضان میں ایک شیطان تو جکڑ دیا جاتا ہے مگر ہزاروں شیطان ٹی وی چینل و اینکر کی صورت کھل جاتے ہیں۔ میرا اشارہ رمضان ٹرانسمیشن کی طرف ہے۔ مجھے پتا ہے کہ بہت سارے نہیں اکثریت میرے ساتھ اتفاق نہیں کرے گی۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر عوام کو مذہب سے دور کیا جا رہا ہے۔ یہ قابلِ مذمت ہے لیکن کوئی آواز نہیں اٹھتی۔

ایک دو بجے رمضان ٹرانسمیشن کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جسے نام تو رمضان کا دیا جاتا ہے مگر رمضان کے نام پر چینل اپنا پروگرام بیچتا ہے۔ پیسا بناتا ہے پیسا کماتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ جید علمائے کرام بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ کہ رمضان کی روح عبادات ہیں۔ اپنے دین سے متعلق آگاہی اور اس پرعمل پیرا ہونا ہی اصل مقصد ہے۔ رمضان کا ایک مہینا ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نے باقی کے گیارہ مہینے کیسے گزارنے ہیں۔ یہ ہماری تربیت کا مہینا ہے۔

لیکن ر مضان ٹرانسمیشن جو دو بجے شروع ہوتی ہیں تو اس میں دین سے متعلق سیگمنٹ زیادہ سے زیادہ ڈیڑہ گھنٹا ہوتے ہیں۔ باقی کے ساڑھے چار گھنٹے کس کھاتے میں جاتے ہیں۔ بیت بازی، تقریری مقابلے، تصاویری مقابلے اور پھر گفٹ بانٹنے کے نام پر ہلڑ بازی سب رمضان کے تقدس کو پامال کرتا ہی۔ سوال و جواب کے سیگمنٹ میں شاید ہی کوئی سوال دین سے متعلق ہوتا ہو تو پھر دین کے نام پر پرگرام بیچتے شرم نہیں آتی۔ عوام بھی رمضان کے تقدس کو بھول کر ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھ جاتے ہیں۔

ظاہر ہے جب تسبیح کی جگہ ہاتھ میں ٹی وی ریموٹ ہو تو عبادت تو نہیں ہو سکتیں۔ مجھے تو حیرت ان پر ہے جو اپنے سارے کام چھوڑ کر ٹرانسمیشن میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جو لوگ ایک بجے آ کر بیٹھ جاتے ہیں، وہ کتنی عبادت کر پاتے ہیں؟ کتنے نوافل، تسبیحات کر پاتے ہیں؟ یہی احوال گھروں میں ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھی خواتین کا ہے۔ جو سارے کام چھوڑ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتی ہیں اور اسی چکر میں افطاری کی تیاری تک کو نظر انداز کر جاتی ہیں۔ ٹھیک ہے نماز، قرآن پڑھنا، عبادت کرنا کسی بھی انسان کا سراسر ذاتی معاملہ ہے اور کسی بھی انسان کو اس کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے نہ کسی کو مجبور کرنے کا حکم ہے۔

اکثر چینل پر مرد و زن مل کر اس ٹرانسمیشن کو چلاتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر ہی کوفت کا احساس ہوتا ہے۔ حیرت بھی ہوتی ہے اور دکھ بھی۔ علمائے کرام جو دین کے محافظ ہیں اور جنھیں انبیا کے وارث قرار دیا گیا ہے وہ بھی اپنے ساتھ بہٹھی خواتین کو اسلام کی اصل تعلیم دینے سے قاصر نظر آتے ہیں اور یہ کوئی بھی عام مولوی نہیں ہوتے بلکہ نہایت وسیع علم رکھنے والے مفتی صاحبان ہوتے ہیں جو حاکمِ شہر پر فتویٰ لگائیں تو وہ بھی نہ بچ سکے۔ وہی مفتی صاحبان اپنے پاس بیٹھے لوگوں کو دین کی اصل روح سے متعارف کروانے سے عاجز نظر آتے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھی پروگرام کو کنڈکٹ کرتی خاتون خود کو مناسب طریقے سے ڈھانپ بھی نہیں پاتی۔

دُپٹے کا زرا سا کونا سر کے سب سے آخر میں ٹکائے ہوتی ہیں کہ دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے سرپہ دُپٹا ٹکا کر احسان کیا گیا ہو۔ اور پھر بہت معذرت کے ساتھ جو خواتین نعت پڑھنے آتی ہیں ان کے شانے تک نہیں ڈھکے ہوتے۔ افسوس کہ مصطفیٰ کا ذکر ہو اور ایسی بے ادبی کے ساتھ۔ خدا کے لئے نعت کا تقدس، نعت کا ادب تو بحال رکھیں۔ اور پھر حضرات جو بیان تو نبی کی شان کر رہے ہوتے ہیں لیکن ٹانگ پر ٹانگ جمائے یوں بات ہوتی ہے جیسے کوئی عام سی ہستی ہو۔

کوئی بہت ہی عام انسان ہو بات نبی کی شان کی ہو زبان پر ذکرِ مصطفیٰ ہو اور انداز ایسا عامیانہ۔ نبی کی شان کا جیسا تقاضا ہے، بات کرنے کے لئے اپنے انداز کو تو ویسا بنا لینا چاہیے۔ تھوڑی عاجزی تو ہو ان پروگراموں میں بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں چاہے نا دانستہ طور پر ہی سہی۔ ایک معروف اینکر کے بین ہونے پر مجھے بے حد خوشی ہے کہ اس رمضان ان کی ایکٹنگ سے جان چھوٹے گی۔ وہ ایک اچھے مقرر، اچھے سیاستدان، چرب زبانی میں ماہر تو ہو سکتے ہیں لیکن مذہب میں اداکاری کے جوہر استغفراللہ۔

اگر رمضان ٹرانسمیشن بہت ضروری ہی ہے تو اس کا دورانیہ کم ہو۔ مذہب سے متعلق بات ہو روزہ کی فضیلت پہ بات ہو نہ کہ روزے کے نام پر اپنی دُکان داری چمکائی جائے۔ گیارہ ماہ بہت ہوتے ہیں اس دنیا داری و دُکان داری کے لئے۔ یہ حرمت والا مہینا ہے، خدا کے لئے اس کی حرمت برقرار رہنے دیں۔ اگر لوگوں میں خوشیاں بانٹنی ہیں، اس مہینے کی نسبت سے لوگوں کی تحائف کے ذریعے مدد ہی کرنی ہے، تو ایسی بہت ساری بستیاں موجود ہیں جن میں جا کر حق دار کو ان کا حق پہنچایا جا سکتا ہے لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔

مذہب کے نام پر اس ہنگامہ فنگامہ کو بند کیا جانا چاہیے۔ شو بز کے وہ لوگ جو دین سکھانے ہمیں آتے ہیں پہلے اپنے عمل سے خود اس پر عمل پیرا ہو کر دکھائیں تا کہ ان کو فالو کرنے والے مثبت طریقے سے دین کو سمجھیں۔ یہ نہیں کہ سال کے گیارہ مہینے شیطان کا روپ دھارنے والے شیطانی احکامات کی پیروی کرنے والے تھوڑے چھپے زیادہ ننگے رمضان کے آتے ہی شیطان ہی کے آلہ کار بن جائیں اور ہمیں اپنی مرضی کا دین سکھاتے پھریں اور ہم آدھے تیتر آدھے بٹیر بن کے رہ جائیں، کہ کام تو ہمارے بھی کچھ خاص اچھے نہیں ہوتے تو جب سکھانے والے بھی ویسے ہی ہوں تو پھر بات ہی ختم۔

یہ کالم لکھنے کا مقصد حکومت کی توجہ اور مفتیانِ کرام کی توجہ اس جانب دلانا ہے کہ خدا کے لئے رمضان کے تقدس کو بحال رکھنے کے لئے اقدامات کیے جائیں، نا کہ رمضان کو تفریحی مہینا بنا کر پیش کیا جائے۔ اور دین سکھانے کے لئے دین کی ترویج کے لئے اسی شعبے سے منسلک لوگوں کو ہائر کیا جائے نا کہ ہر ایرے غیرے کو اسلام کا نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔

Facebook Comments HS