سرحد کھل گئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانہ بیت گیا، بال سفید ہو چکے اورچہرے پر بڑھاپے کی جھریاں ابھر آئیں، مگر وہ کچَی سڑک آج بھی آسیب کی طرح ذہن سے چپکی ہوئی ہے جس پرامی جان دیوانہ وار دوڑ رہی تھیں۔ ان کی پوری زندگی کی متاع وہ ٹاٹ کی بوری تھی جو انہوں نے سر پر اٹھا رکھی تھی۔ چلتے وقت جو کچھ ان کے ہاتھ پڑا، وہ انہوں نے بوری میں بھر لیا تھا۔ ایک چمٹا، ایک پھونکنی، ایلومینم کی کچھ دیگچیاں جو سال ہا سال کے استعمال سے سیاہ ہو چکی تھیں اور بس۔

وہ بار بار رک کر پلٹتیں اور مجھے آواز دیتیں۔ ”بیٹے! آپ ذرا تیز چلیں“۔ امی جان مجھے ہمیشہ ”آپ“ کہہ کرمخاطب کیا کرتی تھیں۔ اب مزید دوڑنے کی طاقت مجھ میں نہیں تھی۔ میری عمر ہی کیا تھی، یہی کوئی چار پانچ سال۔ ”امی جان! آپ زرا آہستہ چلیں“۔ مگر وہ پھر دوڑنا شروع کر دیتیں۔ ان کا سیاہ برقع مٹی سے اَٹ چکا تھا، مگر نقاب اب بھی چہرے سے نہیں ہٹا تھا۔ میں کبھی اس ناشتے دان کوسنبھالتا جو چلتے وقت کھانے سے بھرا ہوا تھا، مگراب خالی ہو چکا تھا، اور کبھی امی جان کی جوتیوں کو سنبھالتا جو میں نے بغل میں دبا رکھی تھیں۔ جب امی جان کے پاؤں سوج گئے تو انہوں نے اپنی جوتیاں اتار کر میرے حوالے کر دی تھیں اوراب ننگے پاؤں ہی چل رہی تھیں۔

ہمارے ارد گرد لوگوں کا سیلاب تھا۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے۔ سروں پر گٹھریاں، بغلوں میں پوٹلیاں، گودوں میں شیر خوار بچّے۔ ہر ایک کی نظریں سامنے تھیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ لوگ برابرسے گزرتے رہے اورمیں سوچتا رہا کہ کہیں ہم پیچھے نہ رہ جائیں۔ اگر امی جان بھی سب کے ساتھ آگے بڑھ جاتیں تو اچھا ہوتا، مگروہ بار بار رک کر میرا انتظار کرتیں۔ میں بار بار مڑ کر دیکھتا کہ شاید ابّا جان پیچھے آ رہے ہوں، مگر ان کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ بھگ دڑ میں وہ ہم سے بچھڑ گئے تھے۔

ہم نے کئی دن ایک چٹیل میدان میں گزارے تھے جہاں ہزاروں لوگوں نے پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ ہر روز نئے قافلے آ رہے تھے اور جسے جہاں زمین کا کوئی خالی ٹکڑا نظر آتا وہیں بیٹھ جاتا۔ سرحد بند ہو چکی تھی، آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس پلٹنے کی کسی میں سکت نہیں تھی۔ دُپہر کی جھلسا دینے والی لو کے تھپیڑوں سے اڑنے والی گَرد کی کرکراہٹ تو دانتوں پر زبان مَلنے سے دور ہو جاتی، مگر پیاس بجھانے کے لئے دور سامنے لگے ہوئے نل کا سہارا لینا پڑتا جس پر ہر وقت سیکڑوں لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔

ابا جان نے کہیں سے چار ڈنڈے لا کر ٹھونک دیے تھے جن پر ایک چادر تان دی تھی۔ اب وہی ہمارا گھر تھا۔ کسی نے ایک ٹوٹی پھوٹی بالٹی لا کر ابا جان کو دے دی، جسے لے کر وہ نل سے پانی لینے کے لئے چل دیے۔ میں دور تک انہیں دیکھتا رہا۔ امی جان آنکھیں بند کیے لیٹی تھیں۔ وہ دیر تک مجھے پنکھا جھلتی رہی تھیں، مگر آہستہ آہستہ ان کا ہاتھ رک گیا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ انہیں نیند آگئی ہے۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ سامنے ابا جان لوگوں کے جمگھٹے میں شاید آگے تک بڑھ گئے تھے۔ غالباً نل تک پہنچ چکے تھے۔

اچانک کہیں سے آواز آئی، ”سر حد کھل گئی ہے!“
نزدیک ہی کسی نے پوچھا، ”کیا کہا، سر حد کھل گئی ہے؟“
”ہاں، سر حد کھل گئی ہے!“
ہر طرف سے ایک ہی آواز آ رہی تھی، ”سر حد کھل گئی ہے! سر حد کھل گئی ہے!“

اونگھتے ہوئے ذہنوں کو ایک جھٹکا سا لگا، ”سر حد کھل گئی ہے!“ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔ گٹھریاں سروں پر پہنچ گئیں، پوٹلیاں بغلوں میں آ گئیں اور بچّوں کو گودوں میں اٹھا لیا گیا۔ ”سر حد کھل گئی ہے! “ ایک جم غفیر تھا۔ امی جان ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں، مگر ابا جان کا کہیں پتا نہیں تھا۔

سر حد ابھی تین میل دور تھی۔ وہ تین میل، جن پر امی جان اپنے سوجے ہوئے پیروں سے دوڑ رہی تھیں، میری زندگی کے طویل ترین تین میل تھے جو کسی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔ آخر کار اڑتی ہوئی گَرد کے پیچھے بسوں کی ایک قطار نظر آئی۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکیل کر بسوں میں چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ رضا کار ادھر ادھر دوڑ تے پھر رہے تھے۔ ”زرا صبر سے، زرا صبر سے، ہر ایک کو جگہ ملے گی“۔ وہ مجمِع کو جتنا قابو میں کرنے کی کوشش کرتے، لوگ اتنے ہی بے قابو ہو رہے تھے۔

صبر کسے تھا؟ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ اس افراتفری میں میں بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ امی جان ایک بس کے بالکل قریب پہنچ چکی تھیں۔ میں نے بہت کوشش کی مگر کسی نہ کسی ریلے کے دھکوں سے پیچھے ہی ہٹتا گیا۔ میں نے چاہا کہ امی جان بس میں چڑھ جائیں۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اپنے سر سے برتنوں کی بوری پھینک کر لوگوں کو دھکیلتی ہوئی میری طرف بڑھیں، مگر بار بار لوگ درمیان میں آ جاتے اور وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتیں۔

میرے اور ان کے درمیان فاصلہ کسی طرح کم ہی نہ ہونے پاتا تھا۔ آخر کار وہ اچانک میرے سامنے آ گئیں اور جھک کر مجھے گود میں اٹھا لیا۔ ناشتے دان نہ جانے کہاں گر گیا تھا، مگر ان کی جوتیاں اب بھی میرے ہاتھ میں تھیں۔ ہر بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ لوگ چھتوں پر بیٹھے ہوئے تھے، دروازوں میں لٹکے ہوئے تھے، جس کو جہاں لٹکنے کا موقع ملا وہیں لٹک گیا۔

جب بس نے چلنا شروع کیا تو رات ہو چکی تھی۔ راستے میں کہیں کہیں کوئی روشنی ٹمٹماتی نظرآ جاتی تھی۔ آخر کار بس ایک عمارت کے سامنے رکی۔ یہ کوئی ریلوے اسٹیشن تھا۔ پیچھے سے کسی نے کہا، ”ہم لاہورپہنچ گئے ہیں۔“ امی جان بس سے اتریں تو انہوں نے مجھے پھر گود میں اٹھا لیا۔ میں ضد کر کے ان کی گود سے اتر گیا۔ اب میں کوئی اتنا چھوٹا تو تھا نہیں کہ وہ مجھے گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتیں، اور پھر ان کے پاؤں بھی سوجے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے گود سے اتار تو دیا مگر میرا بازو اتنی مضبوطی سے پکڑے رکھا کہ دکھنے لگا۔ میرے دوسرے ہاتھ میں اپنی جوتیاں دیکھ کر کہنے لگیں، ”بیٹے، انہیں یہیں پھینک دیں“، مگر میں نے انہیں اس طرح تھام رکھا تھا جیسے میری ساری دولت میرے ہاتھ میں ہو۔

پلیٹ فارم پر لوگوں کا ازدحام تھا۔ وہاں ہماری پوری رات گزر گئی۔ جب کوئی ٹرین آ کر رکتی تو افراتفری مچ جاتی۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکیل کر چڑھنے کی کوشش کرتے۔ امی جان کو کیا معلوم تھا کہ کہاں جانا تھا اور کون سی ٹرین لینی تھی۔ رات بھر میں سیکڑوں لوگ جا چکے تھے مگر ان سے زیادہ آئے جا رہے تھے۔ کہیں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ اچانک دور سے مجھے ابا جان نظر آئے جو مجمِع کو چیرتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ ان کی نظریں ادھر ادھر دوڑ رہی تھیں۔

آخر انہوں نے مجھے دیکھ ہی لیا اور لوگوں کو دھکیلتے ہوئے پہنچ گئے۔ امی جان انہیں دیکھ کر کھڑی ہو گئیں۔ ”کہاں رہ گئے تھے آپ؟“ وہ نقاب کے پیچھے سے بولیں۔ ابا جان نے گویا سنا ہی نہیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر مجھے اٹھایا اور سینے سے چمٹا لیا۔ وہ زار قطار تھے اور ہچکیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ ان کی ڈاڑھی آنسوؤں سے تَر تھی۔ ان کی آنکھیں رو رہی تھیں مگر پورا جسم ہنسی سے تھرتھرا رہا تھا۔

”ابا جان، ہم گھر کب پہنچیں گے؟“ میں نے نیند سے بوجھل آنکھوں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
انہوں نے ایک بار پھر مجھے چمٹا لیا اور سامنے ہاتھ لہراکر بولے، ”بیٹے تم گھر کی بات کرتے ہو، میں تمہیں پورا ملک دے رہا ہوں۔“
میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو بولے، ”ارے بیٹا یہ پاکستان ہے، پاکستان!“ ان کی آواز گلے میں رندھ کر رہ گئی۔

(Adapted from my book ”Tales From Birehra“)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •