ہڑپہ کے کھنڈرات کی بدحالی سے ہم نے عبرت نہ پکڑی
انور مسعود صاحب نے اس اجڑے دیار کے بارے میں بالکل بجا فرمایا ہے کچھ گرمی کی شدت اور کڑکتی دھوپ اور ہڑپہ کے کھنڈرات گئے۔ ہڑپہ جانے سے ایک رات قبل دوستوں میں نے دوستوں سے رائے لی کہ صبح کیا پہن کر جانا چاہیے تو اکثریت نے شلوار قمیض کا کہا تو میں نے مان لیا۔ میری نفسیات میں یہ چیز بڑی کثرت سے شامل ہے کہ جب بھی میں نے کسی نئی جگہ جانا ہوتا ہے تو میں بڑے تجسس میں مبتلا ہوجاتا ہوں اسی تجسس نے مجھے اس رات سونے نہیں دیا خیر صبح کے چار بج رہے تھے اور مجلس کی طرف سے روانہ ہونے کا جو وقت دیا گیا تھا اس میں دو گھنٹے باقی تھے اور نیند اس قدر شدت سے آرہی تھی کہ دل کرتا تھا سو جاوں لیکن یہ بھی خدشہ تھا کہ اگر سو گیا تو کم از کم چار سے پانچ گھنٹے بعد آنکھ کھلے گی جس کے باعث میں نے یہ ارادہ ترک کیا اور جن لوگوں نے ہمارے ساتھ اس دورے پہ جانا تھا ان کو فون کالز کر کے اٹھانا شروع کر دیا۔
ساہیوال سے چھبیس کلومیٹر دور ہڑپہ کے کھنڈرات میں پہنچے۔ طلبہ کو بس سے اترتے ہی اکٹھا کیا گیا اور کہا گیا کہ دو بجے آپ کو کھانا دیا جائے گا اس سے پہلے آپ خوب گھوم پھر لیں اور ایک بات یاد رہے کہ آپ نے گروپس کی شکل میں رہنا اور دو افراد کی تو بالکل اجازت نہیں۔
خیر طلبہ مختلف گروہوں کی شکل میں ان کھنڈرات کو دیکھنے لگے۔ میں بھی اپنے گروپ کے ساتھ چل دیا۔ حقیقت میں تو میں وہاں موجود تھا لیکن جب میں ان آثار قدیمہ کو دیکھتا تھا تو تخیل کی دنیا میں میں 5000 سال قبل چلا گیا اور دیکھا کہ کتنی ترقی یافتہ تہذیب تھی وہاں موجود ان کی ہاوسنگ سٹائل، نکاسی کا ایسا نظام کہ نالیاں اوپر سے ڈھکی ہوئی اور وہ شہر مختلف بلاکس کی شکل میں آباد تھا جس میں ایک طرف امیر طبقہ اور دوسری جانب غریب طبقے کے گھروں کے آثار موجود ہیں اور ایک طرف مزدور طبقے کے گھر اور ورکشاپس کے آثار ہیں۔
انگریز نے ریسرچ کے بعد بلاکس کو انگریزی حروف سے نام دے دیے ہیں۔ اس تہذیب کو دیکھ کر انسان کی عقل ڈھنگ رہ جاتی ہے کہ پانچ ہزار سال قبل وہ لوگ اس قدر تہذیب یافتہ تھے عورتیں زیور پہنتیں تھیں بیل گاڑی کا تصور تھا برتنوں پر موجود نقش نگاری اس بات کی گواہ ہے کہ اس وقت جانور بھی تھے کیونکہ ان کے سقوں پر بھی جانوروں کی تصاویر ملتی ہیں۔ خیر وہاں موجود محکمہ آثار قدیمہ کے ہر بورڈ پہ کسی نہ کسی گورے کا نام لکھا ہوا تھا۔
میں نے سوچا کہ ہم نے تو یہ کھنڈرات صرف تصویریں بنانے کے لیے رکھے ہوئے ہیں ریسرچ تو اہل مغرب کا کام ہے۔ خیر وہاں کی آب و ہوا چیخ چیخ کر یہ کہہ رہی تھی کہ یہاں بھی آپ کے جیسے انسان تھے جو باکل فنا ہوگئے ان سے عبرت حاصل کرو مگر عبرت کہاں وہی انور مسعود کے شعر کے مطابق کہ عبرت کی ایک چھٹانک بھی برآمد نہیں ہوئی جبکہ قدیم کلچر منوں کے حساب سے نکلا ہے۔ خیر دو بجے ہم سب نے مل کر کھانا کھایا اس کے بعد بھی کچھ لوگ پھر کھنڈارت میں چلے گئے مگر ہم نے وہاں موجود ہڑپہ میوزیم دیکھا جس میں موجود قدیم آثار انسان کو حیران کر دیتے ہیں مگر آپ کو زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ نے عبرت تو پکڑنی نہیں۔


