ایک گم نام وادی (وادی الائی)۔

وادی الائی ہماری منزل تھی جس کا شاید آپ نے پہلے نام بھی نہیں سنا کوگا۔ ہم اسلام آباد سے حویلیاں تک موٹروے جبکہ آگے قومی شاہراہ سے ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے ہوتے ہوئے بٹگرام پہنچے۔ لاری نے ہمیں بٹگرام کے لاری اڈے پہ اتارا جہاں قطار در قطار ویگنیں کھڑی تھیں۔ ہم نے الائی جانا تھا جہاں ہم سابقہ ایم پی اے (جمیعت علمائے اسلام ) شاہ حسین خان کے مہمان تھے۔ مغرب کا وقت تھا اور ہم

Read more

ہوسٹل کی زندگی اور رمضان

2019 کا ماہ رمضان، لاہور میں میرا تیسرا رمضان ہے۔ 2017 میں انٹر کے امتحانات کے بعد انجیئنرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے حصول کی خاطر انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے میں نے لاہور کا رخ کیا۔ اس دن رمضان المبارک کا پہلا روزہ تھا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور ہم لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ بس ڈسکہ سے گوجرانوالہ کی جانب رواں دواں تھی کہ مجھے نیند کے جھٹکے لگنے لگے۔ میرے رفیق نے مجھے لاہور تک سونے نہیں دیا۔ وہ بڑا محتاط تھا کیونکہ وہ پہلے ہی بس میں ایک دفعہ جیب کٹوا چکا تھا۔لگ بھگ تین گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد ہم جنرل بس سٹینڈ بادامی باغ لاہور پہنچ گئے۔ بھوک شدت اختیار کر چکی تھی ادھر ادھر دیکھا تو رمضان کی وجہ سے سارے ریستوراں بند تھے، سوائے ایک کے جو جنرل بس سٹینڈ کی مرکزی عمارت میں واقع ہے۔

Read more

ہڑپہ کے کھنڈرات کی بدحالی سے ہم نے عبرت نہ پکڑی

انور مسعود صاحب نے اس اجڑے دیار کے بارے میں بالکل بجا فرمایا ہے کچھ گرمی کی شدت اور کڑکتی دھوپ اور ہڑپہ کے کھنڈرات گئے۔ ہڑپہ جانے سے ایک رات قبل دوستوں میں نے دوستوں سے رائے لی کہ صبح کیا پہن کر جانا چاہیے تو اکثریت نے شلوار قمیض کا کہا تو میں نے مان لیا۔ میری نفسیات میں یہ چیز بڑی کثرت سے شامل ہے کہ جب بھی میں نے کسی نئی جگہ جانا ہوتا ہے تو میں بڑے تجسس میں مبتلا ہوجاتا ہوں اسی تجسس نے مجھے اس رات سونے نہیں دیا خیر صبح کے چار بج رہے تھے اور مجلس کی طرف سے روانہ ہونے کا جو وقت دیا گیا تھا اس میں دو گھنٹے باقی تھے اور نیند اس قدر شدت سے آرہی تھی کہ دل کرتا تھا سو جاوں لیکن یہ بھی خدشہ تھا کہ اگر سو گیا تو کم از کم چار سے پانچ گھنٹے بعد آنکھ کھلے گی جس کے باعث میں نے یہ ارادہ ترک کیا اور جن لوگوں نے ہمارے ساتھ اس دورے پہ جانا تھا ان کو فون کالز کر کے اٹھانا شروع کر دیا۔

Read more

اس شعبے میں نہ آنا باقی جہاں مرضی چلے جاؤ

گزشتہ ماہ جب ہم میو ہسپتال کے شعبہ حادثات میں ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے کہ اچانک دو نو جوان کیمرہ اور مائک کے ساتھ وارد ہوئے۔ انھوں نے جلدی سے کیمرے کی ترتیب لگائی اور رپورٹنگ کے لیے تیار ہو گئے۔ یہ تقریبا رات آٹھ بجے کا وقت تھا کچھ دیر وہ وہاں کھڑے رہے اور پھر کچھ کیے بغیر سامان بند کرنے لگے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ مقامی چینل کی ایک رپورٹ کے حصول کی خاطر آئے تھے جو کہ آج نہیں دکھائی گئی۔ میں ان سے مخاطب ہوا اور پوچھا آپ اس شعبہ سے کب سے وابستہ ہیں کہنے لگے پچھلے دو سال سے میں نے کہ ہم بھی صحافت کے طالب علم ہیں اور اسی شعبہ میں آنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر ایک عجیب اور طنزیہ مسکراہت دیکھی اور پھر وہ کہنے لگے بھائی اگر ہماری مانو تو اس شعبے میں نہ آنا باقی جہاں مرضی چلے جاؤ۔

اس طرح دو برس پہلے جب میں چونڈہ میں مقیم تھا کہ فوجی دستے مشقوں کے لیے نکلے اور انھوں نے کئی جگہ کیمپ لگائے۔ ہر بندہ ان کو بڑے شوق سے دیکھنے جاتا ہم بھی دستوں کے ساتھ نکل پڑے۔ پہلے پہل تو ہم نے ٹینکوں کا معائنہ کیا پھر ہماری سپاہیوں سے گپ شپ ہونے لگی۔ ہم میں سے کئی طلبہ نے کہ ہم بھی فوج میں آنا چاہتے ہیں تو سپاہیوں نے بھی میو ہسپتال والے نوجوانوں جیسا مشورہ دیا۔

Read more

جو کرنا میرے اللہ نے کرنا

میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے ایک بیٹا اپنے باپ کی عظمت بیان کر سکے ہاں البتہ میں ان کے ساتھ گزرے بیس سالوں کے چند واقعات اور یادیں قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔ معمولات زندگی میں ذرا بھر خلل آیا اور زندگی کا پیہ پھر اسی رفتار سے دوڑنے لگا۔ لیکن جب ابا جان کی یاد ذہن میں شور مچاتی ہے تو دل خون کے آنسو رونے لگ جاتا ہے اور جب خیال آتا ہے کہ میں کبھی

Read more

نئے پاکستان کے نئے دیہات

لاہور اور مادر علمی کی چہل پہل سے دُور جب بھی میں اپنے گاوں آیا، تو اپنے آپ کو دنیا کی برق کی سی رفتار سے چند قدم دُور پایا۔ اس خوش قسمت گاوں کی ترقی کا اندازہ یہاں سے لگا لیں، کہ اس کی چار سو سالہ تاریخ میں آج تک کسی نے اخبار تک نہیں لگوایا۔ البتہ ٹیلی ویژن ہر گھر میں موجود ہے، لیکن ان پر ملک کے حالات و واقعات دیکھنے سے زیادہ انڈیا کے ڈرامے

Read more