ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ کے ناول اے تحیّر عشق کا ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقصد اس تعارف کا یہ بتانا ہے کہ یہ ناول کس مزاج کی کتاب ہے۔ اس میں کیا کچھ ہے بلکہ یہ بھی کہ کیا کچھ نہیں ہے اور یہ جاننے کے بعد اگر یہ کتاب آپ کے ذوق پر پوری اترے تو خریدیں، پڑھیں اور محظوظ ہوں ورنہ مصنف کو داد ضرور دیں کہ اس زمانے میں جس میں توجہ کا دورانیہ گھٹ کر منٹوں میں ناپا جانے لگا ہے انہوں نے نہ صرف ناول جیسا ضخیم ادب تخلیق کرنے کی ہمت کی بلکہ اس کی تشہیر کی جرأت بھی کر رہے ہیں۔ ویسے اگر آپ میری رائے مانیں تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ ایسی کتابیں شاذونادر ہی لکھی جاتی ہیں۔

جیسا رکھ رکھاؤ، سبھاؤ، حُسنِ اخلاق، عجزوانکسار رفیع مصطفیٰ کی دل آویز شخصیت میں ہے کچھ ایسا ہی انداز آپ کو اس کتاب میں بھی ملے گا۔ دور کیوں جائیں عنوان ہی لے لیں اے تحّیرِعشق۔ اس میں عشق جیسی شوخ اور ہیجان انگیز غیر شرعی کیفیت کو ڈائریکٹ نہیں بلکہ احتیاطاً اس کے تحّیرکومخاطب کیا گیا ہے ِ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ جس قسم کے دو تین عشق اس ناول میں آپ کو ملیں گے ان کو پڑھ کر آپ کو تحیّر ہی ہوگا کہ ایسے بھی عشق ہوتے تھے بڑے حجابی، نقابی دھیمے دھیمے ہلکی آنچ پر پکتے ہوئے نہ کچے، نہ پوری طرح گلے، نرم گرم بلکہ کُن کُنے سے عشق۔ میرے نکتہء نظر سے تو اس معاملے میں مصنف نے واقعی حقیقت پسندی سے کام لیا ہے ہم جیسوں کی اکثریت جس قسم کے عشق میں مبتلا ہوتی رہی ہے وہ ایسے ہی ہوتے تھے ہمارا موٹو بقول شاعریہ ہوتا تھا کہ

نہ میں کوہ کن ہوں نہ میں قیس ہوں مجھے اپنی جان عزیز ہے

اور جان کیوں نہ عزیز ہوتی۔ لٹے پٹے، خانماں برباد خاندانوں کی بحالی کی ذمہ داری اسی ناتواں نسل کے کاندھوں پر پڑی جو تقسیم کے زمانے میں جوان ہوئی۔ اس سینڈوچ نسل نے نہ صرف اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بہتر بنانے کی جدوجہد کی بلکہ اپنے والدین کی بھی حیثیت بہتر بنانے میں اپنی جان کھپائی۔ اس ناول کی بیونت اسی دو رنگے دھاگہ سے ہوئی ہے اور پھر شگفتہ اور بذلہ سنجی میں ڈوبی عام فہم زبان نے اس کے پیرہن میں کیا کیا خوب صورت پھول پتے کاڑھے ہیں۔

جگہ جگہ جزیات نویسی کی رنگ برنگی سلائی تو مصنف نے ایسی کی ہے کہ ان کو اس میدان کا اکلوتا جانباز کہنے کو جی چاہتا ہے پہلے باب میں ماموں جان کا روزہ پڑھیں اور ان کے عمیق مشاہدے کی داد دیں صرف افطاری کے دسترخوان پر پکوانوں کی فہرست ہی دیکھ لیں۔ پکوڑے، برولے، چاٹ، دہی بڑے، تلی ہوئی چنے کی بکھرما دال، اس پر ہری مرچ، پودینے اور ٹماٹرکی تہہ، شربت اور نہ جانے کیا کیا، اس طرح کی منظر کشی سے یہ کتاب بھری پڑی ہے اور صحیح معنوں میں یہی بات اس ناول کی کہانی میں جان بھی ڈالتی ہے۔

اگر آپ کو پاکستان بننے سے ذرا پہلے اور کچھ سال بعد تک کے دور کی روزمرہ کی زندگی دیکھنے کی خواہش ہوتو یہ کتاب ٹائم مشین کا کام دے گی کیونکہ اس دور کی ایسی ماہرانہ عکاسی کی گئی ہے کہ آپ کو بالکل ایسا لگے گا کہ آپ اُس گم گشتہ دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں ریڈیوپاکستان کراچی کا مشہور پروگرام حامد میاں کے ہاں ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا، مرد و زن میں یکساں مقبول واحد فیس کریم تبت سنو کا استعمال ہوا کرتا تھا۔ جاسوسی ادب کے بادشاہ ابن صفی کے ناول کا بے تابی سے انتظار رہا کرتا تھا، احمد رشدی کا گایا ہوا گیت بندر روڈ سے کیماڑی ٹاپ آف دی چارٹ گانا شمار ہوتا تھا، نیو میجسٹک سنیما میں صبیحہ اور سنتوش کی فلمیں چلتی تھیں، دو پیسے کا ہرا دھنیہ، ایک آنے سیر پیاز، ایک روپے سیر بکری کا گوشت، آٹھ آنے سیر گائے کے گوشت کا ذکر یہاں موجود ہے اوراس طرح کی سینکڑوں یادوں کو ایک دلچسپ کہانی کے پیرائے میں محفوظ کرکے مصنف نے اس کتاب کو ناول کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے ماحول کی ایک ریفرنس بک بھی بنا دیا ہے اسی وجہ سے میں نے تو اپنی کتابوں کی الماری میں اس کتاب کو ناولوں اور ریفرنس والی کتابوں کے درمیان رکھ دیا ہے۔

ایک خاص بات اس کہانی میں مصنف اور ناول کے مرکزی کردار میں مماثلت ہے، کوششِ بسیار کے باوجود کچھ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی کیفیت پھر بھی باقی ہے لاکھ کہیں کہ نہیں ہیں پر ہیں چلیں مصننف کی درخواست مان لیتے ہیں کہ یہ اُن کی سوانح حیات نہیں ہے مگر یہ بات ماننے والی ہے کہ اگر مصنف نے کبھی اپنی آپ بیتی لکھی اور ان سب کارناموں اور حالات کا تذکرہ کیا جن سے وہ خود گزرے ہیں تو اس پر فکشن کا شک ہو نہ ہو ان کی اچیومنٹ پر تحیّرعشق سے زیادہ تحیّر ہونے کا امکان ہے اور پھر اس سوانح میں جنوں بھی ہوگا اور پری بھی ہوگی بائی دی وے میرے صاحب زادے جن کی اردو اب آخری دموں پر ہے وہ اس ناول کا فرنٹ پیج دیکھ کر کہنے لگے کہ ابو یہ آپ کب سے جنوں اور پریوں کی کہانیاں پڑھنے لگے ہیں اب میں اُن سے کیا بتاتا کہ بیٹا جن اور پری تو دور کی بات ہے اس کتاب میں تو کوئی انسان بھی ایسا ویسا نہیں ہے سب شریف لوگ ہیں۔

مصنف کو شاید اس کمی کا احساس تھا چنانچہ انہوں نے ضرورت ایک مکے بازی کا سین اور ایک جنسی کجروی کا تذکرہ ڈال ہی دیا تاکہ سند رہے اور معترضوں کا منہ بند کیا جاسکے۔ کامیڈی کے رسیا ان کے پنجابی اور سندھی زبان کے مکالموں سے لطف اٹھا سکتے ہیں اور وہ لوگ جنہیں ٹریجڈی کی کمی محسوس ہو وہ غفورن خالہ کا قصہ ضرور پڑھیں جن کے تین کے تین جوان بیٹے فسادات کی نذر ہوگئے اور جن کا انتظار دکھیاری ماں نے ٹاٹ کے پردے کے پیچھے بیٹھ کرعمر بھر کیا۔

اس کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے اوراگر کچھ نہیں ہے تو کوئی تلخی نہیں ہے، کوئی متنازع بات نہیں ہے، کسی کو مورد الزام نہیں ٹہرایا گیا ہے، حالانکہ یہ کتاب تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ہے جس زمانے میں آپس میں تلخیاں اور الزام تراشیاں شدید ترین ہوا کرتی تھیں،

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ کتاب تجریدیت اور علامتی انداز سے پاک ہے ایک آدھ جگہ مجھے اس بیماری کے انفیکشن کا شک ہوا تھا مگر مصنف کی کلینکل تحریر نے اینٹی بایوٹک کا کام کیا جس کی وجہ سے یہ صحت مند ناول انتہائی سلیس اور ریڈیبل ہوگیا ہے میرا دعویٰ ہے کہ اگر آپ نے اس کتاب کو فرصت اور اطمینان سے پڑھنا شروع کیا تو یہ کتاب آپ سے چپک جائے گی۔ بہترہوگا کہ کتاب کے شروع میں یہ وارننگ لگا دی جائے کہ اس کتاب کے پڑھنے کے نتیجے میں آپ کے کسی اہم کام میں حرج کا مصنف ذمہ دار نہیں ہوگا۔ (Readers ’Discretion Advised)

https://www۔ dawn۔ com/news/ 1478874

https://www۔ humsub۔ com۔ pk/ 233867 /khalid۔ sohail۔ 199 / 2 /

https://www۔ humsub۔ com۔ pk/ 234255 /dr۔ rafi۔ mustafa۔ 3 /

https://www۔ humsub۔ com۔ pk/ 234767 /khawaja۔ zubair۔ 3 /

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید حسین حیدر کی دیگر تحریریں
سید حسین حیدر کی دیگر تحریریں