مادام، عمران خاں کیا پیسے مانگنے آیا ہے؟


یہ میرا چینی ڈرائیور تھا۔ جس نے اپنے پتلے ہونٹوں اور تکونی آنکھوں میں شرارت نما پھیلے طنز سے مجھے دیکھتے ہوئے یہ جملہ بولا تھا۔ گاڑی کے ادھ کھلے دروازے پر دھرا ہاتھ اُس وقت اک ذرا لرزا ضرور تھا۔ جی بھی میرا اُسے ایک زور دار اور کرارا سا جھانپڑ لگانے کو چاہا تھا۔ مگر سچائی سے جملے میں چھلکتی حقیقت نما تلخی کا تجزیہ کروں تو گویا مجھ پاکستانی کو میری اوقات یاد دلانے کی ایک معصومانہ یا عیارانہ کوشش تھی جس کے پس منظر میں ایک ارب تیس کروڑ قوم میں سے ایک ارب کی سوچ کی جھلک تو ضرور تھی۔ صورت تو قہر درویش برجانِ درویش والی تھی۔ تاہم دھیمی سی مسکراہٹ جس میں شرمندگی، خجالت اور کچھ دکھ بھرے جذبات کے رنگ تھے ہونٹوں پر سجائی۔ گاڑی میں بیٹھی اور دھیرے سے بولی۔

”ارے نہیں تو وہ تو تمہارے صدر شی چن پنگ اور وزیر اعظم لی کھ چیانگ سے باہمی دلچسپی، سٹریٹیجک تعاون اور کچھ اقتصادی مسائل کے حل، مشورے اور مدد کے لیے آیا ہے۔ باہر نومبر 2018 کے ابتدائی دنوں کی دھوپ اور تیز ہواؤں کا بیجنگ کی فضاؤں میں زور تھا اور میرا جی دھاڑیں مار مار کر رونے کو چاہ رہا تھا۔

یہ پُروقار سی خاتون ثمینہ محی الدین تھی جسے میں نے اِس پارک میں اپنے دس گیارہ سالہ بچے کے ساتھ واک کرتے دیکھ کر سرعت سے اس کی طرف قدم اٹھائے تھے کہ مجھے پاکستانی دِکھی تھی۔ واقعی وہ کِسی پاکستانی بزنس مین کی بیوی تھی جو جینگو امن وائے کے اِس پوش ایریا میں رہتی تھی۔ بچے کے سکول بارے پتہ چلا کہ پاکستان ایمبیسی کے اسکول میں پانچویں درجے میں پڑھ رہا ہے۔ معیار بارے میرے سوال پر طنزیہ انداز میں بولی۔ جیسے ملک زوال پذیر اور ملکی لوگ احساس سودوزیاں سے عاری ہیں تو بس ایسے ہی سکول، سفارت خانہ اور سفارت کار ہیں۔ چند لمحوں کی ہیلو ہائے میں ہی درد دل کا یوں پھٹ کر باہر آجانا گویا خاتون کا حساس اور وطن پرست ہونے کی دلیل تھی۔

سچی بات ہے میرے ہاتھ گویا بٹیرا لگنے والی بات ہوگئی تھی۔ میں بیٹی کے رویے سے قدرے دل برداشتہ سی تھی کہ 23 مارچ کے پاکستانی سفارت خانے کے پروگرام میں وہ مجھے یہ کہتے ہوئے کہ آپ لمبے سفر سے تھکی ہوئی ہیں قصداً ساتھ لے کر نہیں گئی کہ جانتی تھی ماں نے وہاں پُوچھ گچھ کے اپنے لُچ تلنے لگ جانے ہیں۔ سفارتی ایٹی کیٹس کو گولی مارنی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اور ویسا کیوں نہیں ہے۔ جیسے سوال اٹھانے ہیں۔ یہ میاں بیوی کے لیے شرمندگی والی بات ہونی تھی۔

اب ایسے میں ثمینہ کو ہاتھ سے تھام کر بینچ پر بیٹھنا میرے لیے کتنا اہم تھا۔ باتیں شروع ہوگئیں۔ چین کی پاکستانی ایمبیسی دنیا کے ہر ملک میں قائم پاکستانی ایمبیسی سے بڑی ہے۔ Zong Zhimenwai Da Lie کا علاقہ جس میں ایمبسی کی جگہ اور عمارت ہے۔ بیجنگ کا مہنگا ترین کمرشل ایریا ہے۔ پہلے تو اس کے رقبے کی وسعت لالچی حکمرانوں کو کھلی۔ کوئی آٹھ دس کنال کا ٹکڑا ہمارے ملک کے عالمی شہرت یافتہ مسٹر ٹین پرسنٹ نے ایک اسلامی ملک کو بخش دیا۔

Pakistan embassy in Beijing

اندرخانے کیا طے ہوا؟ ڈیل کتنے میں ہوئی؟ کچھ علم نہیں۔ انیسویں ( 19 ) ، بیسویں ( 20 ) اور اکسیویں ( 21 ) گریڈ کے ڈپلومیٹ اردگرد کے قریبی پوش علاقوں میں رہتے ہیں جس کے ایک لگژری فلیٹ کا کرایہ کوئی پانچ چھ لاکھ پاکستانی روپے بنتا ہے۔ چین میں ورٹیکل ڈیزائن پر عمارتیں بنائی جاتی ہیں۔ صرف دو کنال کے رقبے پر تیس منزلہ عمارت پوری ایمبسی کے عملے کو سمیٹ سکتی تھی۔ کروڑوں روپے کا کرایے کی مد میں یہ خرچہ بچایا جاسکتا تھا۔ مگر بات تو یہ ہے کہ ایسا دماغ و دل کہاں سے لایا جائے جو اِن پہلوؤں پر سوچے۔ یہاں تو جو آتا ہے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل کرتا ہے۔

اِن ہائی پروفائل افسران کی نخریلی اور کاہل بیویوں کو شاپنگ کرنے، گھروں کو سجانے، ڈنر پارٹیاں کرنے اور شو بازیوں کے سوا کوئی کام ہی نہیں۔

ایسا ہابڑہ ہے ہماری اِن عورتوں کو کہ ابھی بچیاں بالشت بھر کی ہیں اور اُن کے داجوں کے لیے شنگھائی کی رضائیاں بھی بنوالو، ڈنر سیٹ خرید لو۔ واپسی پر کنٹینر تو پھر بُک ہوتے ہیں۔ بلا سے سامان قیمت خرید سے بڑھ جائے۔

اِن کی پارٹیوں میں میرا بہت آنا جانا ہے۔ جی بہت چاہتا ہے کہوں کہ آخر آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ ہمیں ان کے ساتھ دوستی اور افہام و تفہیم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری ڈپلومیٹس کی ڈنر پارٹیوں میں متعلقہ شعبوں کے چینی لوگوں کی موجودگی اہم ہے۔ یہ ملنا جلنا، یہ تعلقات، یہ رابطے سفارت کاری کے اہم گُر ہیں۔ جس میں پڑ کر ہم دوہرے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کی فنی مہارت اور کاروباری گُروں سے اپنی بزنس کلاس کی تربیت اور ان کے لیے مراعات حاصل کرنے کے ساتھ اُن کے کلچر و تہذیب سے واقفیت اور اپنی ثقافت و کلچر سے انہیں روشناس کروانے کا سنہری موقع حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارے اکثر ڈپلومیٹس اول تو چینی ڈھنگ سے بول ہی نہیں سکتے۔ جو بولتے ہیں وہ بھی دال دلیے کی حد تک۔

ان میں سے اکثر خواتین تعلیم یافتہ ہیں۔ سبجیکٹ سپیشلسٹ ہیں۔ اعزازی طور پر سکول میں پڑھا سکتی ہیں۔ پانچویں درجے میں پڑھنے والے بچے کی انگریزی اور سوشل سڈیز کی ٹیچر کا تلفظ درست نہیں۔ او لیول میں پڑھنے والے بچوں کے آئے دن استاد بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی اس سکول کا بین الاقوامی معیار تھا۔ اس میں یورپی ممالک کے بچے بھی پڑھتے تھے۔ 1960 میں اس کا افتتاح چواین لائی نے پاک چائنا فرینڈ شپ کے تحت کیا تھا۔ نالائقی دیکھیے کہ اسے چینی حکومت سے منظور کروانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔

میں سانس روکے بیٹھی سُنتی تھی۔ میرا تو اپنا پھانڈہ (برتن) بھی ایسا ہی نکلا تھا۔

بیجنگ ایرپورٹ پر بیٹی کو ضرورت سے کچھ زیادہ سمارٹ یا دوسرے لفظوں میں کمزور دیکھ کر میں پریشان ہو اٹھی تھی۔ بار بار میرے اِس سوال پر کہ تم ٹھیک ہو۔ ہاں ہاں امّاں بالکل ٹھیک ہوں پر میری تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ میرے چھوٹے نواسے نے شرارت آمیز نظروں سے ماں کو دیکھتے ہوئے مجھے کہا۔

”ارے نانو آپ تو یونہی پریشان ہورہی ہیں۔ ماما اتنا بازاروں میں گھومتی تھیں کہ سمارٹ ہوگئی ہیں۔ اور یہ وضاحت میرے پوچھنے پر کہ بازاروں میں چکروں کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ وہ بولا تھا۔ نانو شاپنگ، شاپنگ۔ اور واقعی رات جب کوئی نو بجے گھر میں داخل ہوئی میں نے گھر کی آرائش و زیبائش کو حیرت سے دیکھا تھا۔ کشادہ گھر جس کی دیواریں مہنگی، خوبصورت پینٹنگز سے سجی تھیں۔ چوبی فرش، مہنگے قالینوں سے ڈھنپے نظر آئے تھے۔ میرے سوال پر اُس نے گول مول جواب دینے کی کوشش کی۔ “ امّاں یہاں لوگ بہت رکھ رکھاؤ سے رہتے ہیں ٹپر واسیوں کی طرح تو نہیں رہا جاتا۔ تھوڑی بہت ٹپ ٹاپ تو کرنی پڑتی ہے۔

جی چاہتا تھا پوچھوں اور کہوں کہ وطن کی محبت اور اس کی تیزی سے گرتی ہوئی اقتصادی زبوں حالی خالی خولی باتوں سے کہیں زیادہ عملی اقدام کا تقاضا کرتی ہے۔ ملک کا قیمتی زرمبادلہ اِس شوشا کی نذر کرنا کیا مناسب ہے؟ پر کچھ نہیں کہا۔ ممنائے لب و لہجے میں معذرتیں سُننے سے چڑی ہوئی تھی۔

Facebook Comments HS