کیا حکومت مدارس کا انتظام و انصرام با احسن و خوبی سنبھال سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے سمجھنے کے لیے مدارس کے سسٹم اور اس کے مقابلے میں وزارتِ تعلیم کے تحت سرکاری و نیم سرکاری سکولوں کی حالتِ زار پر بالخصوص اور تمام سرکاری اداروں اور ان کے ملازمین کی نا اہلی اور کرپشن پر بالعموم نظر ڈالنا ضروری ہے۔

مدارس کے غریب طلبا سے داخلہ اور سیکیورٹی فیس کی مد میں کچھ لیا جاتا ہے نہ ہی یونیفارم، کتابوں کاپیوں اور نہ ہی کسی ایونٹ کی مد میں جیبیں گرم کرنے کے لیے۔ مدارس انتظامیہ کوئی کمیشن بٹورتی ہے بلکہ یہ سب چونچلے تو وزارتِ تعلیم کے تحت چلنے والے سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے ہیں۔ عصری تعلیمی اداروں کے برعکس مدارس میں بچوں کو تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے۔ کپڑے، کھانا، کتابیں اور رہائشی سہولیات بھی بلا معاوضہ اور اوپر سے ہر طالب علم کو جیب خرچ اور گھر آنے جانے کا کرایہ بھی ملتا ہے۔

مدارس کے منجملہ تمام اخراجات کو زکواۃ، صدقات و خیرات، چندوں اور عطیات کی مد میں وصول ہونے والے فنڈز سے پورا کیا جاتا ہے۔ یہ تمام ادارے مل کر ”دنیا کی سب سے بڑی این جی او کا خطاب“ حاصل کر چکے ہیں۔ کسی بھی قومی ادارے کے بر عکس، دنیا بھر میں ان اداروں کی نیک نامی اور اچھی تعلیمی شہرت کی بنا پر دنیا کے پچاس سے زائد ممالک سے بچے دینی تعلیم کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔

سرکاری سر پرستی کے بغیر ان مدارس کے فارغ التحصیل طلبا کو نہ کبھی فارغ اور بے روزگار دیکھا گیا، نہ یہ چوری فراڈ اور سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے اور نہ ہی کسی حکومتی شعبے پہ بوجھ بنتے ہیں۔ مگر وزارتِ تعلیم کی کار گزاری دیکھتے ہوئے، اس کے تحت مدارس کے اُمور میں کسی بہتری کی امید کرنا خام خیالی ہی ہے۔ ویسے بھی ہر وہ شعبہ یا کامیاب ادارہ جو سرکار کے تحت آ جائے تو اس میں بد عنوانی اور رشوت ستانی کا بھوت ضرور سرایت کر جاتا ہے۔

سرکاری بابو ہر جائز و ناجائز کام کے لیے عوام سے رقمیں اینٹھتے ہیں اور بد عنوانیوں کے ذریعے ملکی خزانے کو بے پناہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ جہاں گھوسٹ اسکول، گھوسٹ ملازمین اور کالے سرمائے کی دھلائی کے لیے گھوسٹ اکاؤنٹ کھلتے ہوں، وہاں مدارس قومیانے کے دوسرے مضمرات کے علاوہ سرکاری گھوسٹ مدارس بعید از امکان نہیں۔

اگر حکومت مدارس کا انتظام اپنے ذمے لے لیتی ہے تو چونکہ اس کے پاس تعلیم کے لیے پہلے سے ہی فنڈز اور پروفیشنلز کی خاصی کمی ہے، اس لیے کسی صورت مدارس کا انتظام بہتر طور نہیں چلا سکے گی۔ جو عوام حکومت سے سو روپے کا ٹیکس بچا کر اِن مدارس کو پانچ سو عطیہ دیتے ہیں، وہ سرکاری اداروں کو عطیات کی مد میں ایسی فیاضی ہرگز نہیں دکھائیں گے۔ نتیجتہََ بغیر سوچے سمجھے عجلت میں کیے گئے ایسے من مانے فیصلوں سے مدارس کے بچے رُل جائیں گے، ان کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو گا اور یوں ایک ایسا قومی بحران جنم لے سکتا ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں۔ فنڈز کی کمی، سرکاری ملازمیں کی کرپشن و نا اہلی اور مختلف اداروں و افسران اور سیاستدانوں کی مداخلت ایسے کسی مجوزہ بندوبست کی صورت میں جو گل کھلائے گی، اس میں قطعاً دو رائے نہیں، نہ ہی کوئی ابہام ہے۔

مدارس کی رجسٹریشن کی ایک عجب کہانی ہے۔ تمام مدارس سو سال پرانے فرنگی راج کے ایک ایکٹ کے مطابق صوبائی وزارتِ صنعت کے تحت بطور صنعتی یونٹ رجسٹر کیے جاتے ہیں، جو کسی سنگین مذاق سے کم نہیں۔ اب حکومت اور مدارس کے درمیان تعامل کے نتیجے میں مدارس کو وزارتِ تعلیم کے تحت لانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اس سے کہیں بہتر یہ ہے کہ زکوٰۃ و عشر، حج اور اوقاف سمیت مدارس کو وزارتِ مذہبی امور کے تحت یک جا و باہم مربوط کیا جائے۔

اور تمام دینی مدارس کا انتظام و انصرام ان کے مہتمم حضرات کے پاس رہنے دیا جائے مگر ان حضرات کو ذاتی سالانہ گوشواروں کا پا بند کیا جائے۔ صدقات و خیرات اور عشر و زکواۃ اور دیگر عطیات پر کوئی قدغن نہ لگائی جائے۔ البتہ کسی منظورشدہ پرائیویٹ فرم سے سالانہ آڈٹ لازمی قرار دیا جائے۔ بیرون ملک سے موصولہ عطیات کو مربوط و شفاف نظام کے تحت لایا جائے۔ سرکار کو موصولہ زکواۃ کے مصرفات میں بھی مدارس کو ترجیحی طور پر شامل کیا جائے۔

تمام مدارس کو مسلکی تعلیم سے زیادہ دینی تعلیم کے منظور شدہ قومی نصاب کی تدریس کا پا بند کیا جائے اور اس قومی نصاب کی ترتیب اور امتحانات کے لیے ایک مرکزی بورڈ تشکیل دیا جائے۔ تمام مدارس میں مرکزی اسلامی بورڈ کے تحت میٹرک یا ایف اے تک عصری تعلیم بھی لازمی قرار دی جائے۔

اگر مدارس اور ان کے طلبا کو عام قومی دھارے میں شامل کرنا ہی مطلوب ہے تو اعلی تعلیمی اداروں میں ان کی تعلیم اور ملازمت کے مواقع بڑھانے کے لیے مخصوص کوٹہ رکھنا ہو گا۔ بلکہ دیگر تمام اداروں میں بھی ان کے لئے ملازمت کے مواقع بڑھانے ہوں گے تاکہ زندگی کے ہر شعبے میں یہ لوگ اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اور یہ گلہ بھی نہ رہے کہ مدارس کے طلبا میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنز میں کیوں نہیں آتے۔ حالانکہ جوابی گلہ بھی جائز تھا کہ ڈاکٹر اور انجینئر دینی علوم کی طرف کیوں نہیں آتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •