رٹا سسٹم اور ہمارا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹیز (جامعات) تک ہمارے ملک میں رٹاچل رہا ہے۔ طالبعلم پیپرز میں اچھے نمبر ز حاصل کرنے کے لئے رٹا سسٹم اپنا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شاید طالب علم، علم کے لئے نہیں بلکہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا جسے ہم لوگ ڈگری کہتے ہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ علم کو ضروری نہیں سمجھتے اور صرف ڈگری حاصل کرنے کی تگ و دود میں لگے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بوٹی مافیا بھی اپنے عروج پر ہے۔ سارا سمسٹر کلاس سے غیر حاضر رہنے والے جب کمرائے امتحان میں بیٹھتے ہیں، تو اپنا پورا انتظام کر کے یعنی نقل کا انتظام کر کے بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ کے ان کو کورس کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتیں، کہ اس میں ہے کیا۔

جب ہمارے ملک کے طالب علموں کایہ حال ہو گا جنہیں ملک کے معمار کہا جاتا ہے۔ توملک کی تعمیر کیسی ہو گی۔ اگر طالب علم یونہی رٹا اور نقل لگا کر ہی امتحانات پاس اور ڈگریاں لیتے رہے تو ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کرنے والا ڈاکٹر نہیں قصائی کے مانند ہو گا اور وکیل محض نام کا وکیل ہو گا، جسے کمرائے عدالت میں نا کامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

اور یونہی پھر سفارشوں کے ذریعے یہ لوگ بڑے بڑے عہدوں تک پہینچیں گے، تو ملک کا نظام اور بھی بد تر اور کرپٹ ترین ہوتا جائے گا۔ رٹا لگا کر جب طالب علم (نو جوان) عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور نوکریوں کے لئے مختلف جگہوں پر اپلائی کرتے ہیں، تو ان کے کونسپٹ تو ہوتے نہیں۔ اس لیے کچھ تو تحریری امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پر پھروہ انٹر ویو میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ کچھ تو تحریر ی امتحان میں ہی فیل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ تحریری امتحان اور انٹرویو میں ڈگری کے ساتھ ساتھ امیدوار کے کونسپٹ، علم اور قابلیت کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

اس لیے ہمارے تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ طالب علموں کو رٹے پر نہ لگایا جائے اور طالب علم بھی محض خالی ڈگری ہی نہیں بلک علم کے ساتھ ڈگری حاصل کریں۔ اگر علم کے بغیر ڈگری ہو گی تو وہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہو گا۔ جو شاید کہ کچھ کمپنیاں ڈگری دیکھ کر آپ کو نوکری تو دیں دے مگر آپ وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے، جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہو ں گے۔ ڈگری کے ساتھ قابلیت اور علم ہونا ضروری ہے، جو کہ آپ کو ترقی کی بلندیوں پر لے جائے گا۔

اس لیے طالب علموں سے کہوں گی کے نمبروں کے پیچھے اور محض کاغذ (ڈگری) کے ٹکرے کے پیچھے نہیں علم کے پیچھے بھاگیں۔ اور رٹا نہیں بلک سوچ سمجھ کر اپنے کورس کو پڑھیں۔ کیونکہ رٹا وقتی ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر پڑھنا دیرپا آپ کے کام آتا ہے۔ جب طالب علموں سے کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ صحیح صحیح جیسا کتاب میں لکھا ہوتا ہے سنا دیتے ہیں۔ پر جب ان سے پوچھا جاتا کہ یہ ہوتا کیا ہے تو ان کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوتا۔ کیونکہ انہوں نے رٹا لگا کر یاد کیا ہوتا ہے۔ نہ کہ سمجھ (کونسپٹ) کر پڑھا ہوتا ہے۔

so, say no ratta system

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حرا اجمل کی دیگر تحریریں
حرا اجمل کی دیگر تحریریں