خدا کیا کہے گا

لوگ کیا کہیں گے! لوگ کیا سوچیں گے! ان جملوں کو سن کر ہم بہت سے کام ترک کر دیتے ہیں۔ حتٰی کہ وہ کام ہر لحاظ سے جائز ہی کیوں نہ ہو ہم لوگوں کے ڈر سے ترک کر دیتے ہیں۔ وہ کام کرنے سے باز آ جاتے ہیں۔ جیسے کہ اگر ہماری بیٹی نوکری کرنا چاہتی ہے پڑھنا چاہتی ہے تو لوگ کیا کہیں گے کہہ کر ہم اسے گھر بیٹھا دیتے ہیں۔ بیٹا یہ کام نہ کرو

Read more

کلاس رومز اور تربیت

بچوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ جہاں والدین بچوں کو برے اور اچھے کی پہچان کرواتے تھے ، وہیں اساتذہ بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ نوجوان نسل کی تربیت میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

کلاس روم وہ جگہ جہاں ایک استاد پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس نے نہ صرف بچوں کو تعلیمی نصاب پڑھانا ہے بلکہ بچوں کو ادب آداب بھی سکھانا ہے۔ پہلے بچوں کو تعلیمی نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تربیت بھی کی جاتی تھی۔ بڑوں سے کیسے پیش آنا ہے ، چھوٹوں سے کیسے شفقت کرنی ہے۔ اچھائی اور برائی کا فرق سمجھایا جاتا تھا۔ لیکن آج یہ سب جب میں سوچتی ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے لوگوں کے لئے یہ تربیت ادب آداب صرف مذاق کی باتیں ہیں۔

Read more

میں دوسال کا تھا اور ماشاءاللہ اب سولہ سال کا ہوں

ایک دن یونیورسٹی سے واپسی پر میں ابھی کیری میں آکر بیٹھی ہی تھی کہ ایک بچہ مانگنے کے لیے آیا۔ کیری والے انکل نے کہاکہ جاؤ ادھر سے۔ لیکن بچہ نہیں گیا وہ ادھر ہی کھڑا مانگتا رہا انکل نے کہا اچھے بھلے ہوکوئی کام کاج کرو۔ تو بچے نے کہاکہ کام والے تھوڑے پیسے دیتے تھے اس لیے میں نے کام چھوڑ دیا (شاید اس بچے نے تھوڑے عرصہ کہیں کام کیا ہو گا) ۔ وہ بچہ ابھی

Read more

لہوکی پکار کشمیر کس کا ہے؟

کشمیر جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ بھارت نے اپنی نا پاک سازشوں کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا۔ وادیِ کشمیر میں رہنے والے مسلمان آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ آزادی کی تحریک کئی سالوں سے جاری ہے۔ آزادی کی تحریک میں اب تک لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اورابھی تک اپنی جان قربان کرنے کا سلسلہ کشمیر میں جاری ہے۔ اورتب تک کشمیر کے رہنے والے مسلمان اپنی جانوں کو قربان کرتے رہے

Read more

رٹا سسٹم اور ہمارا مستقبل

پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹیز (جامعات) تک ہمارے ملک میں رٹاچل رہاہے۔ طالبعلم پیپرز میں اچھے نمبر ز حاصل کرنے کے لئے رٹاسسٹم اپنا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شاید طالب علم علم کے لئے نہیں بلکہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا جسے ہم لوگ ڈگری کہتے ہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے وہ علم کو ضروری نہیں سمجھتے اور صرف ڈگری حاصل کرنے کی تگ ودود میں لگے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بوٹی مافیا بھی اپنے عروج پر ہے سارا سمسٹر کلاس سے غیر حاضر رہنے والے جب کمرہ امتحان میں بیٹھتے ہیں تو اپنا پورا انتظام کر کے یعنی نقل کا انتظام کر کے بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ کے ان کو کورس کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتی کہ اس میں ہے کیا۔

Read more