پاکستان ریلوے: اے خدا، تمام غریب مسافروں کو 6500 روپے عطا فرما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی ایک کراچی کے غریب کی ہے جس کے پاس اتفاقیہ طور پر لاہوری رشتہ داروں کی جانب سے شادی کا دعوت نامہ آتا ہے جس کے بعد غریب گرتا پڑتا کراچی سے لاہور جانے والی ریل گاڑی شالیمار ایکسپریس پر چڑھ جاتا ہے جس کا کرایہ 1700 روپے ہے۔ غریب مہمان تپتی ہوئی گرمی میں بیس گھنٹے کا طویل راستہ طے کر کے میزبانوں کے گھر لاہور جا پہنچتا ہے۔ چونکہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ غریب مہمان بہت دور سے شادی میں شرکت کے لیے تشریف لائے ہیں اس لیے غریب کے لیے میزبانوں کی جانب سے اچھی خاطر داری کی جاتی ہے اور چائے پانی پیش کرنے کے بعد میزبانوں کی جانب سے غریب مہمان سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ جناب آپ کا سفر کیسا رہا تھا؟ یہ سوال غریب کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے کم نہیں ہوتا۔

غریب اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوا عرض کرتا ہے کہ میں صبح پانچ بجے رکشے کے ذریعے ریلوے اسٹیشن پہنچا، ریلوے اسٹیشن پر عوام کا بہت بڑا ہجوم پہلے سے موجود تھا کیونکہ ریل گاڑی ہمیشہ کی طرح دیر سے پہنچی تھی اس لیے ریل گاڑی کے آتے ہی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور میں تمام مسافروں کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے سب کو دھکے دیتا ہوا اپنی سیٹ پر جا پہنچا۔ جس طرح بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے عین ویسے ہی میں نے اپنی سیٹ پر قبضہ کرلیا تاکہ کوئی اور میرے جیسا معصوم مسافر نا بیٹھ جائے۔

ریل گاڑی میں اتنی جگہ بھی موجود نہیں تھی کہ میں اپنے پاوں سیدھے کر سکوں۔ عورتیں، بچے اور تمام مسافر سیٹ نا ہونے کے باعث مجھ سے زیادہ شدید پریشانی کا شکار تھے۔ میں ایسے سفر پر کھانا بھی نہیں کھا سکا اور بس گھڑی دیکھ کر اپنی منزل کا انتظار کرتا رہا۔ مجھے آٹھ سے نو قدم کی دوری پر غسل خانہ جانے میں آدھا گھنٹا لگ رہا تھا کیونکہ مرد، خواتین اور بچے راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور جب میں ان سے کہتا کہ ذرا راستہ دینا تو وہ بہت غصے میں میری طرف دیکھتے اور پوچھتے کہاں جانا ہے، میں کہتا کہ غسل خانہ جانا ہے، جواب میں غصے والی نظروں کے ساتھ دیکھتے ہوئے کہتے کہ وہاں پانی نہیں ہے، ان کا غصہ دیکھتے ہی میرا پیشاب رک جاتا اور میں واپس اپنی سیٹ کی طرف چل پڑتا۔ سیٹ پر دیکھتا تو وہاں کسی اور مسافر کا قبضہ ہوتا، پھر میں انہیں اپنی ٹکٹ دکھا کر درخواست کرتا کہ جناب یہ میری سیٹ ہے اور پھر وہ غصے میں اٹھ کر کہتے کہ بیٹھ جا پھر۔

میزبانوں کی آنکھوں میں غریب مہمان کی ایسی درد بھری کہانی سن کر آنسو آگئے اور انہوں نے فورا سے پہلے اپنا موبائل فون نکال کر لاہور سے کراچی جانے والی جناح ایکسپریس کی آن لائن ٹکٹ اپنے خرچے سے بک کرلی، جس کا کرایہ 6500 روپے ہے۔

غریب مہمان شادی میں شرکت کرنے کے بعد میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مقررہ وقت پر لاہور ریلوے اسٹیشن جناح ایکسپریس میں جا پہنچا۔ اسٹیشن پہنچتے ہی ریل گاڑی اپنے مقررہ وقت پر پلیٹ فارم پر موجود تھی۔ کچھ دیر بعد غریب کا سامان اٹھانے کے لیے ریل گاڑی کا عملہ آجاتا اور بہت پیار سے غریب کو اس کے کمرے میں بیٹھا دیتا ہے۔ اتنی عزت دیکھتے ہوئے غریب کا منہ کھلا رہ جاتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے صاف ستھرے اور اے سی والے ٹھنڈے کمرے میں پہلے سے تکیہ اور چادر موجود ہے اور سامنے ہی ٹی وی بھی لگا ہوا ہے۔

تھوڑی دیر بعد عملے کی جانب سے اس کو ایک ایک عدد ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، صابن، استرا اور ٹشو پیپر دیا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ سر آپ چائے کے ساتھ سموسہ لیں گے یا سینڈ ویچ اور ایسے ہی کھانے کے وقت غریب سے پوچھا جاتا ہے کہ اپ کھانا کب کھائیں گے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے معصوم غریب کا مزید منہ کھل جاتا ہے اور غریب کو بہت ڈر لگنا شروع ہوجاتا ہے کہ کہیں میرے پھیپڑے منہ سے نکل باہر نا آجائیں۔

خوشگوار سفر کرتے ہوئے غریب اپنے رب سے دعا مانگتا ہے کہ اے خدا تمام غریب مسافروں کو خوشگوار سفر کرنے کے لیے 6500 روپے عطا فرما۔ آمین۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •