عہد ساز مغربی سیکولر صوفی کے افکار اور یادداشتیں


پہلی کتاب تصوف کو ادیانِ عالم کی روح کے طور پر متعارف کرایا اور دوسری کتاب انتہاؤں کے بر عکس تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں توازن کی ضرورت اور اس غلط فہمی کے رد میں لکھی گئی تھی کہ تصوف بد عملی کا درس دیتا ہے۔ کتاب کا ایک دل چسپ پہلو مظاہر پرستوں کی زمین دوستی سے جڑی وحدت پرستی کے تذکرے کے علاوہ یہ بھی تھا کہ سائنسی و مذہبی کٹرپن کو تشکیک سے متوازن کرنے کی بات بھی توازن کے باب میں کی گئی تھی۔

شاعری جیسی خوبصورت اور ریاضی کی طرح بے کم و کاست، متوازن علمی و شاعرانہ نثر میں لکھی یہ دو کتب صحرائے خرد میں ہرے بھرے نخلستان جیسی لگیں اور میں دو بار پڑھنے کے بعد ان کا اُردو ترجمہ کرنے بیٹھ گیا۔ ترجمہ مکمل ہوا، ناشر کو پسند آیا تو مصنف سے اشاعت کی با قاعدہ اجازت لینے کے لئے ان کا ای میل ایڈریس تلاش کیا اور اجازت چاہی۔ چند روز بعد مصنف کا جواب موصول ہوا تو انہوں نے نہ صرف شایع کرنے کی تحریری اجازت دے دی بلکہ میرے چند علمی و تنقیدی سوالات کا جواب بھی دیا اور بندے کو حقیقی طالب علم مان کر اسی سال ہیگ میں ہونے والے سالانہ صوفی سمر اسکول میں شامل ہونے کی دعوت بھی دے دی۔

یوں یہ طالب علم جولائی 2009 میں پہلی بار ہالینڈ میں کاٹوے میں ڈاکٹر صاحب کا مہمان ہوا اور وہ مجھے ساحل سمندر پر واقع مراد حاصل لے گئے جو ان کے پیر و مرشد حضرت عنایت کی مراقبہ گاہ تھی اور یہ یادگار، مراقبہ ہال اور مہمان خانہ انہوں نے اس وقت تعمیر کروایا تھا جب وہ پہلی بار ہالینڈ کے وزیر خزانہ بنے تھے۔ وہ بھی خالص صوفی تعلیمات کے مطابق تبلیغ یا لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کے قائل نہیں تھے اس لئے مراقبہ ہال میں عالم گیر عبادت کا اہتمام تھا جہاں ہر مذہب کے ماننے والے عبادت کرتے اور اپنے روحانی تجربات ایک دوسرے کے سامنے لاتے۔ عالم گیر عبادت کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ عالم گیر عبادت کی عملی شکل مغل بادشاہ اکبر کے عبادت خانے میں ملتی ہے جب کہ صوفیانہ نظریات میں ہم حضرت محی الدین ابن العربیؒ کے اس قول کو مشعل راہ مانتے ہیں:

”خود کو مکمل طور پر کسی ایک عقیدے سے اس طرح منسلک مت کرو کہ تمہارا دیگر عقائد سے ایمان اٹھ جائے۔ ایسا کرنے سے تم بہت سے خیر سے ہاتھ دھو بیٹھو گے اور تم معاملات کی اصل حقیقت کو نہیں پہنچان پاؤ گے۔“

اگر چہ وہاں دنیا کے با کمال لوگ ان کے مہمان تھے مگر شاید یہ ان کی نظر کا معجزہ تھا کہ میں نے ہر بار خود کو ان کی آنکھ کا مخاطب پایا۔ مجھے یاد ہے جب ایک برطانوی پروفیسر کے ساتھ خوشی کے روحانی تصور کے موضوع پر نا چیز کا ایک مکالمہ ہوا تو میرا ہاتھ پکڑ کر دیگر مہمانوں سے میرا تعارف کراتے رہے جن میں یورپ اور امریکا کے کئی اہم اداروں کے سربراہان اور سفارت کار شامل تھے۔ ان لوگوں سے مل کر مجھے پہلی بار خبر ہوئی کہ دنیا ہم پاکستانیوں کو ہمارے ہتھیاروں کی وجہ سے نہیں فن کاروں کی وجہ جانتی ہے۔ اس دوران مختلف لوگوں سے ملاقات کا احوال میں ’ہم سب‘ میں مرحوم امجد صابری کے قتل پر تحریر کردہ خصوصی مضمون ’’یہ کس کی نشانی مٹا دی ہے؟‘‘ میں بیان کر چکا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک پاکستان کو فنِ قوالی اور عارفانہ کلام کی وجہ سے پہچانتا تھا۔

میں جتنی بار ان کی دعوت پر ان کا مہمان ہوا کئی مرتبہ دنیا میں پائیدار امن لانے کے موضوع پر سیر حاصل بات ہوئی۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ مغرب میں انسانی رویوں اور انسان دوست نظام کے فروغ کی وجہ صرف عقل پسندی نہیں بلکہ انسان دوستی، حیات دوستی، آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کا تقدس ہے۔ سائنسی فکر نے مغرب کو ایجادات اور تنقیدی فکر دی ہے لیکن موخز الذکر نے مغرب کو انسانوں اور دیگر حیات کے ساتھ رہنے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔

وہ ایک سیاست دان کے طور پر ہالینڈ میں جمہوری آزادیوں پر یقین رکھنے والی پیپلز پارٹی کے سرگرم رکن اور رہنما رہے۔ اس کے علاوہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ابتدائی حصہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کے طور پر گزارا اور بعد ازاں وہ دو مرتبہ ہالینڈ کے وزیر خزانہ پھر مشیر خزانہ بھی رہے، یورپی یونین کے قیام اور یورپ کی الگ کرنسی جیسے اقدامات میں ایک معیشت دان کے طور پر پیش پیش رہے۔ طالب علم نے ایک مرتبہ ان سے ترقی پزیر دنیا کے آئی ایم ایف جیسے اداروں کے استحصال کے تاثر پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ انسانوں کی طرح اداروں کو بھی اندر سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہا کرتے تھے کہ بڑے مالیاتی اداروں کے کام کو قریب سے دیکھنے کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اب وہ انہیں روحانی اقدار سے آشنا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ طالب علم نے پوچھا کہ انسان دوست بنانے (humanization) کی بجائے روحانی اقدار سے ہم آہنگ کرنا (spiritualization) کیوں تو انہوں نے جواب دیا: اس لئے کہ زمین صرف انسانوں کی نہیں۔ وہ جانوروں کی بھی ہے۔ مچھلی کی بھی ہے اور اس حیات کی بھی جسے زندہ رہنے کے لئے برف درکار ہے۔

زمین مشین نہیں، نظم ہے۔ اس کا ایک جزو، ایک مصرع ادھر سے اُدھر کردیا جائے تو اس کا حسن، توازن اور زندگی باقی نہیں رہے گی اور روحانیت کا اصل مطلب یہی ہے کہ ہم صرف انسان کے لئے نہیں بلکہ ہر ذی روح کے بارے میں سوچیں اور اسے ساتھ لے کر چلیں۔ انسانوں کے علاوہ اس زمین کا بچہ زندگی کی نظم کا اہم مصرع ہے۔

چونکہ اُن کے مرشد کا تعلق ہندوستان سے تھا اور حضرت عنایت خان کی مادری زُبان اُردو تھی، اس لئے اُن کا خیال تھا کہ حضرت عنایت خان کی صوفی تعلیمات، عالم گیر روحانی فکر (درج بالا معانی میں) اور موسیقی مغرب کو پاکستان اور ہندوستان کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ ان کی دنیوی لحاظ سے کام یاب زندگی اس بات کا ثبوت تھی کہ تصوف بے عملی کا درس نہیں دیتا۔ وہ کہا کرتے تھے:

’’حقیقت سے باہر چھلانگ لگانا (فرار) تصوف نہیں۔ حقیقت کے اندر چھلانگ لگانا تصوف ہے۔‘‘

وہ کہا کرتے تھے کہ جب تک ہم خود کو تعصبات سے خالی نہیں کر لیتے، اُس وقت تک ہم ہمارا ہر خیال، ہر بات اور ہر عمل ہمارے تعصب کا اظہار ہے۔ اس لئے اپنے باطن سے تعصبات کا زہر نکالنا بے عملی نہیں بلکہ بے عملی تعصبات کے اندھیرے میں ہاتھ پیر مارنا ہے۔ اگر انسان کے اندر تعصب، خود پرستی اور نفرت باقی ہے تو اس کا ہر کام، ہر عمل خطرناک ہو جاتا ہے۔ نفرت سے بھرے با عمل شخص سے وہ شخص بہتر ہے جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی غار میں بیٹھا ہے۔

ان کے توسط سے جہاں دنیا بھر کے مذاہب کے روحانی سلاسل کے قائدین اور دیگر کئی با کمال شخصیات سے ملنے کا موقع ملا وہاں ان پہلی ملاقات نے ان سے مزید ملاقاتوں کی راہ کھول دی۔ ان ملاقاتوں کے علاوہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران ہمارے درمیان کوئی چارسو کے قریب ای میلز کا تبادلہ ہوا اور ان میں ایسے علمی، فکری و عملی موضوعات پر گفتگو رہی جن میں چنیدہ موضوعات کو یہ طالب کتابی شکل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہی مراسلات میں طالب علم نے انہیں عالم گیر صوفی کونسل کا مشورہ دیا، کونسل کے تصور کو تحریری منصوبے کی شکل دی اور وہ کونسل کا قیام عمل میں لائے جس میں نا چیز ہی کے تعارف کردہ ایک پاکستانی دوست بھی ان کی مدد کرتے رہے۔ آج سے دو ماہ پہلے جو مجھے ان کی آخری ای میل موصول ہوئی وہ بھی اسی کونسل کے کچھ انتظامی امور پر مشاورت کے سلسلے میں تھی، جس میں وہ دنیا بھر سے اہم مذہبی و رُوحانی شخصیات کو مدعو کرنا چاہ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب روحانی میدان چھوڑ دیتا ہے تو اس کی جگہ نفسیات کا علم لے لے گا۔ اس لئے اہل مذہب کے لئے ضروری ہے کہ وہ مذہب کو سیاست اور عسکریت کی لونڈی نہ بنائیں۔

یہ سب ذہن میں لئے وہ 98 سال کی عمر میں بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور وحدتِ ادیان کے خواب کے عشق میں گرفتار تھے۔ ان سے زیادہ متحرک اور با عمل کون ہو گا؟ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب میں نے ان سے آرام کی درخواست کی تو انہوں نے کہا: ’’مجھے میرے کام، مراقبے اور بین المذاہب امن سے عشق نے ہی اب تک متحرک اور زندہ رکھا ہوا ہے۔‘‘ عشق کا شعلہ ہنوز بھڑک رہا تھا لیکن ان کا جسم ساتھ چھوڑ گیا اور یوں 23 اپریل 2019 کی شام یہ شعلہ سیاہ پوش ہو گیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2