اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل وطن عزیز کے حالات اس قدر سادہ ہیں، کہ حیرانی ہوتی ہے۔ اتنی سادگی سے تو اب گھر نہیں چلا کرتے۔ سائنسی وزیر نے بھی ٹھیک کہا، کہ پیسے کی بچت بہت ضروری ہے۔ اب آپ ایمان داری سے بتلائیں بھلا چاند نہ ہوا، گویا کوئی زیر زمیں مدفون، ہڑپہ کے آثار قدیمہ ہو گئے کہ جس نے دریافت کر لئے اس پر شور مچاتا رہے، اور پیسے بھی مانگے۔ بھئی چاند خود نکلتا ہے، کب ہم سے قرض لے کر ٹکٹ لیتا ہے، نکلنے کو۔ بس کہیں چار لوگوں نے دیکھ لیا اور اس پر پیسے بھی مانگنے شروع کر دیے۔

ہم ہیں کہ سادگی سے اور کم خرچ بالا نشیں کے تحت خوب صورتی سے وطن عزیز کو بلندی کی طرف لے جا رہے ہیں اور آپ ہیں، کہ کوئی نا کوئی نیا خرچ نکال رہے ہیں۔ ہم خود ہی چاند دیکھ لیتے ہیں، بلکہ ایسا کریں ملک میں یہ ٹیلی اسکوپ عام کر دیں، جگہ جگہ لگا دیں لوگ آئیں، اپنا اپنا چاند دیکھا اور روزہ رکھ لیا۔ کسی دوسرے سے لڑائی اور بحث مباحثہ کی ضرورت ہی نہیں۔ خود سوچیں بجائے اس کے کہ لوگوں سے پوچھنے کے ہر انسان اپنی مون ساٗٹنگ میں خود مختار ہو جائے۔

خیردار! انتہائی سائنس کے وزیر اپنی سادگی میں کچھ کہ جاتے ہیں، تو ہمیں ان کی نیک نیتی پر شک شبہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اتنے سادہ ہیں کہ اپنی وزارت کے علاوہ ہر دوسری چیز کا علم رکھتے ہیں۔ اور وقتا فوقتا اس پر تبصرے کرنا اور مشورے دینا، ان کی فراخ دلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہمارے خان صاحب تو خیر رب کی قدرت سے سادگی کی اعلی مثال ہیں ہی۔ تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کرچوروں اچکوں سے پیسے وا پس لے کر ملک کی دال روٹی چلا لیں گے۔ اگر آپ ہم حساب لگائیں تو ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمیں بس تھوڑا سا قرض تب تک چاہیے جب تک چور اچکے رقم لوٹا نہیں دیتے۔ بس جس دن ہمیں یہ ڈوبی ہوئی رقم مل گئی، اس روز ہم نے یہ آئی ایم ایف کہ منہ پر دے مارنی ہے۔ باقی کی رقم سے ترقی کی منازل طے کرتے چلے جانا ہے۔ اب اس معصوم سی سوچ کو سادگی کا نام نہ دیں تو کیا کہیں۔

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ شیخ چلی بازار سے انڈے خریدتے ہیں۔ ٹوکری سر پر رکھے ہوئے وا پسی پر سوچتے ہیں، کہ یہ سب انڈے استعمال کریں گے، یوں کہ ان سے چوزے نکلیں، پھر جوان ہو کے مرغیاں بن جائیں گی، پھر وہ انڈے دیں گی۔ انڈوں سے مزید چوزے اور مرغیاں ہوں گی۔ یونھی سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہ شیخ چلی کا اپنا پولٹری فارم ہو گا اور ایک وقت ایسا آئے گا، کہ یہ کاروبار کامیابی کی سب منازل طے کر لے گا۔ انھی سوچوں میں گم ان کو ٹھوکر لگتی ہے، اور سارے انڈے زمین پر گر کے ٹوٹ کر جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ خواب بہت اونچے دیکھنے چاہیے، تا کہ انسان ان کو پانے کے لئے ان تھک محنت کرے۔ تاہم یہی خواب، خیالی پلاؤ کہلاتا ہے، جب آپ اس کے لئے کوشش نہ کریں بلکہ صرف بڑکیں ماریں۔

شاید کہ چور اچکے اور لٹیرے سب کے سب مبینہ طور پہ لوٹی ہوئی رقم لوٹ بھی دیں، تو بھی اس ملک کی معیشت اتنی تیزی سے نہ بڑھ پائے، جیسا آپ دعوی کرتے ہیں۔ اگر ابھی سے معیشت کی بہتری اور استحکام کی خاطر ایک بہترین پلاننگ اور اس پر عمل پیرا ہونے کے تمام لوازمات لاگو کردیں، تو خام خیالی واقعتہََ کامیابی میں بدل سکتی ہے۔ آپ کی نیک نیتی پر کوئی شک نہیں لیکن بعض اوقات بے اختیار دل پکار اٹھتا ہے، کہ اتنی سادگی سے کاش کہ معاملات چل پڑتے۔ خیر ہمیں اس ملک کی خیرخواہی میں سادہ لوح افراد بھی چاہیے اور ایسے گھاگ بھی جو کہ ہاری ہوئی بازی کو پلٹ کر ہمیں ان مسائل سے نکال سکیں۔ فی الحال تو اتنا:
؎ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عائشہ صدیقی، پی ایچ ڈی سکالر کی دیگر تحریریں
عائشہ صدیقی، پی ایچ ڈی سکالر کی دیگر تحریریں