منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کو بھی رمضان مبارک ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فون پہ پیغام مسلسل ملنا شروع ہو چکے ہیں۔ فیس بک انباکس میں بھی پیغامات کا سلسلہ طویل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مبارکبادی پیغامات اور ویڈیوز بھی گردش میں ہیں۔ ملنے جلنے والے بھی مبارکباد دینے میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ بطور خاص ایسے لوگ بھی حقوق العباد پہ زور دینے لگے ہیں جو خود غاصب ہیں۔ کیوں کہ رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اور اس کے ابتدائی ایام میں مبارکباد کے پیغامات کی ایک بھرمار ہے جو بعض حوالوں سے ایک اچھا عمل ہے تو دوسری جانب محض ایک دکھاوے سے بڑھ کے کچھ نہیں ہے۔ غصے کی مہار چھوڑنے سے قبل ایک لمحہ اپنے گریباں میں جھانکیے اور اس کے بعد دوسروں پہ نگاہ ڈالیے۔

رمضان سے چند دن قبل بازاروں سے معیار کے حوالے سے اول درجہ بندی کی اشیا نظر آنا کم ہو جائیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ منافع خور صاحبان رمضان کا سیزن شروع ہونے پہ خوب بڑھ چڑھ کے اس مہینے کی برکات سمیٹیں گے اور منافع کمائیں گے۔ ایک جائز منافع ہے، لیکن یہ صاحبان ناجائز منافع کمائیں گے اور پھر آپ کو موبائل فون، سوشل میڈیا اور بالمشافہ ملنے پہ رمضان میں نیکیوں کا درس دیتے بھی نظر آئیں گے۔ آپ غلطی سے بھی ان سے سوال کیجیے کہ خود کیوں عمل نہیں کر رہے تو وہ آپ کو کچا چبا جانے والی نظروں سے گھوریں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ مافیا رمضان کے آغاز سے ہی حرکت میں آ چکا ہے۔ پانچ دس روپے بقایا واپس کرنے کا سوال ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اور غلطی سے اگر آپ اصرار کریں گے تو غصے سے آپ کی ہتھیلی پہ ایسے بقایا مارا جائے گا کہ ہتھیلی سے جیسے خاص دشمنی ہو ان کو، اور ساتھ جلے کٹے لہجے میں آپ کو سننے کو ملے گا کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا ہے، ہمارا بھی حق ہے عید پہ اور آپ کو چند روپے بقایا واپس لینے کی پڑی ہے۔ ہاں گاڑی میں اونچی آواز میں واعظ و صوفیانہ کلام ضرور سنائی دے رہا ہو گا۔

سوال کیجیے کہ صاحب یہ کلام صرف ٹیپ ریکارڈر میں لگانے کے لیے ہے یا عمل کے لیے بھی تو ہو سکتا ہے آپ کو آپ کا سٹاپ آنے سے پہلے ہی گاڑی نکالا دے دیا جائے گا۔ پکوڑے سموسے تو یقینی طور پہ رمضان کی خاص سوغات ہیں۔ دوکانوں پہ رمضان کے حوالے سے پیغامات کے بینز آویزاں ہیں۔ اکثر بینزز پہ احادیث و آیات بھی لکھی نظر آئیں گی۔ اور اکثر اوقات کیش کاؤنٹر پہ کوئی باریش صاحب ہی نظر آئیں گے۔ آپ سموسے پکوڑے لے جائیے اور دوسرے دن ان کے باسی ہونے یا معیاری نہ ہونے کا گلہ کیجیے، جو حقیقت پہ مبنی ہو تو یہ اس لہجے میں آپ کی زباں بندی کریں گے کہ آپ اپنے آپ پہ پشیماں ہوں گے کہ گلہ کیا ہی کیوں۔

پورے شہر میں پھیلے فروٹ کے ٹھیلوں، دوکانوں، سبزی منڈی، فروٹ منڈی میں پھل و سبزیوں کے نرخ رمضان شروع ہونے سے ایک سے دو دن قبل کے نوٹ کر کے رکھ لیں۔ اور رمضان کا آغاز ہو چکا ہے تو اب ذرا انہی جگہوں کا رخ کیجیے تو آپ کو کم وبیش چالیس سے پچاس فیصد قیمتوں میں اضافہ نظر آئے گا اور یاد رہے کہ مال وہی پیش خدمت ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کے ذریعے محفوظ رکھا گیا تھا۔ آپ اگر سوال کیجیے کہ جناب ایک دو دن قبل تو نرخ کم تھے تو اچانک رمضان کریم شروع ہوتے ہیں اتنا فرق کیوں آ گیا۔

تو آپ کو جواب ملے گا کہ یہی تو ایک سیزن ہوتا ہے کیا اب اس میں بھی نہ کمائیں، اور ہو سکتا ہے آپ اگر کچھ پھل و سبزیات خرید چکے ہوں تو مذکورہ صاحب آپ سے واپس ہی لے لیں اور اگلی دوکان پہ جانے کا مشورہ دے دیں۔ کپڑے کے کاروبار سے منسلک حضرات اس مال کے بھی دوگنے دام وصولنے کے ارادے سے ٹھیے سجا چکے ہیں جو چند دن قبل ہو سکتا ہے سیل میں بھی نہ بک رہے ہوں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں صاحب حیثیت اور کم حیثیت دونوں طبقے بچوں کو عید پہ نئے کپڑوں میں دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو یہ حضرات اپنے دام کھرے کرنے سے کیوں پیچھے رہیں۔

سرکاری دفاتر کے باہر رش بڑھنا شروع ہو جائے گا کیوں کہ کمروں میں بیٹھے بابو حضرات یہ پرواہ کیے بغیر کہ باہر دھوپ میں عوام کیسے خوار ہو رہے ہیں، ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے رمضان کے حوالے سے معاشرے کی بے حسی پہ بحث کر رہے ہوں گے۔ امید رکھیے کہ جو لوگ پورا سال ایک نظر بھی سامنے نہیں آتے وہ اس مبارک مہینے کے ابتدائی عشرے میں آپ کو مساجد میں تسبیح ہاتھ میں تھامے نظر آئیں گے اور دوسرا عشرہ شروع ہونے تک ان کے وہی معمولات واپس آنا شروع ہو جائیں گے جو پورا سال تھے اور آپ اگر سوال کریں کہ پہلے عشرے میں تو باجماعت نمازیں ادا کیں دوسرا عشرہ شروع ہی ہوا تو نظر آنا کم کیوں ہو گئے تو عجلت میں کہا جائے گا یار اور مصروفیات بھی تو ہیں اور تم کو اس سے کیا۔ شاہراہوں، چوراہوں، بازاروں میں آپ کو اکثر ایسے افراد گتھم گتھا نظر آئیں گے جو ایک دوسرے کے گریباں بھی چاک کر رہے ہوں گے اور ساتھ اونچی آواز میں راگ الاپ رہے ہوں گے، کہ ابھی تو میرا روزہ ہے ورنہ میں تمہیں بتاتا۔ یعنی کہ جناب روزہ نہ ہو گیا احسان کر دیا آپ نے۔

رمضان کریم کی برکتیں پیغامات تک محدود سمجھ لی گئی ہیں۔ ہم کسی کو رمضان کی مبارکباد کا ایک پیغام بھی بھیجتے ہیں تو توقع کیے بیٹھے رہتے ہیں کہ ہمارے نامہ اعمال میں ثواب لکھا جائے گا جب کہ اپنے دستر خوان پہ کھابوں کی بھرمار کرتے ہوئے ایک لمحہ ہم سوچتے نہیں کہ ہمارے پڑوسی نے، جو مزدور ہے، روزہ کیسے افطار کیا ہو گا۔ ہم رمضان کی ٹی وی نشریات کو بطور خاص سر جھومتے ہوئے دیکھیں اور سنیں گے لیکن ہم دروازے پہ آئے فقیر کی صدا سنتے ہی کرختگی سے بس اتنا کہیں گے، بس رمضان شروع ہوتے ہی ان مسٹنڈوں کا کام شروع ہو گیا ہے۔

پورا دن لمبی تان کے سوئے رہیں گے کہ بھئی گرمیوں کے روزے ہیں باہر کیسے نکلا جائے اور شام کو غلطی سے اماں ابا کچھ لینے بازار بھیج دیں تو کھدائی کرتے مزدور کے پاس سے بھی ایسے لاپروا ہو کے گزریں گے کہ جیسے آپ پہاڑ سر کرنے جا رہے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے ناک پہ رومال بھی رکھ لیں۔ رمضان کی خوشی بھی ہے، آپ عید بھی منائیں گے، اپنے بچوں کو دس دس جوڑے بھی لے کے دیں گے، لیکن غلطی سے بھی گھر میں کام کرنے والی ماسی کے بچوں کو ایک جوڑا بھی نہیں دلوائیں گے کہ ان کو تو گھر کی مستورات نے پرانے کپڑے دے جو دیے ہیں۔ اور پرانے بھی ایسے جو گھر میں ٹاکی مارنے کے استعمال کے قابل بھی نہ ہوں۔

رمضان کو مبارکبادی پیغامات، آیات و احادیث فارورڈ کرنے تک محدود نہ کر لیجیے۔ اس بابرکت مہینے کو احساس کا مہینہ بنائیے۔ اس مہینے میں حقیقی برکتیں دوسروں کی مدد کر کے سمیٹیے۔ رمضان کریم میں اپنے غریب رشتہ داروں، غریب و نادار ہمسایوں کی مدد کر کے ثواب سمیٹیے۔ اپنے دستر خوان پہ معمول کی دس ڈشز میں سے ایک کم کر کے نو کر دیجیے اور ایک ڈش کا خرچہ کسی ایسے کو دینے کا تہیہ کر لیجیے جو ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے کھا پاتا ہے۔

آپ کے بچے آپ کی ذمہ داری ہیں دس لباس لے دیجیے۔ لیکن کوئی عام سا مگر نیا لباس گھر میں کام کرنے والے ملازمین کے بچوں کو بھی دلوا دیجیے، ان کے چہرے کی خوشی آپ کی عید کی خوشیاں دوبالا کر دے گی۔ رمضان کریم میں ظاہری حلیے کے بجائے اپنا اندر بدلیے۔ آپ کو اللہ نے اگر دینے کے قابل کیا ہے تو مخلوق خدا میں بانٹیے۔ حقداروں تک پہنچائیے۔ وہ اپنے خزانوں سے آپ کو مزید نوازے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •