شاردا مندر بحالی، ہندوستانی یاتری اور کشمیر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستانی حکومت کی درخواست پر پاکستان نے آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں شاردا کے مقام پر قائم قدیم مندر کی بحالی اور وہاں تک ہندوستانی ہندو زائرین کو رسائی دینے کے حوالے سے ابتدائی تیاری شروع کی ہے۔ شاردا کے اس قدیم مندر کے ساتھ نالہ مدھو متی اور سامنے کی طرف نالہ سرسوتی ( نالہ سرگن) واقع ہے۔ یہ دونوں ہندوؤں کے لئے مقدس ہیں تاہم زیادہ اہمیت مدھو متی نالے کو حاصل ہے۔ شاردا کا یہ مندر تقریبا پانچ ہزار سال قبل مشہور حکمران اشوکا کے دور میں بدھ مت کی مانٹسیری کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ ہندو غلبے کا دور آیا تو اسے بدھ مت کی مانٹسیری سے ہندو مت کے مندر میں تبدیل کر دیا گیا۔ البیرونی اپنے سفر نامے میں اس کا ذکر کیا ہے کہ کشمیر کے شمال کی طرف واقع اس مندر میں لکڑی کا بت رکھا ہوا تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی۔

اس وقت وہاں شکستہ چار دیواری، جس کا کچھ حصہ نالہ مدھو متی کی طرف سے منہدم ہے اور درمیان میں چبوترہ نما ایک دیوار۔ تقریبا تیس سال قبل جب میں پہلی بار شاردا گیا تو اس مندر کی سیڑھیوں کے دونوں طرف پتھروں کے دو انسانی چہرے نصب تھے اور اسی طرح کے چہرے مندر کے وسط میں واقع دیوار والے چبوترے پر بھی نصب تھے۔ لیکن بعد میں وہ وہاں سے غائب ہو گئے۔

اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے شاردا مندر کی بحالی اور راہداری کھولنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ وہ جلد شاردا جا کر اس مندر کا دورہ کریں گے اور کور کمانڈر سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کریں گے۔ اس کے بعد پاکستانی ہندو بھی اس مندر کا دورہ کر سکیں گے۔ کشمیر اور کشمیریوں کو تقسیم کرنے والی سیز فائر لائین (لائین آف کنٹرول) کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے اسے حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے اور غیر ملکی سیاح بھی ’این او سی‘ کے بغیر وہاں نہیں جا سکتے۔

امکان یہی ہے کہ پہلے پاکستان کے ہندو یاتریوں کو شاردا مندر جانے کی اجازت دی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ مندر کی تعمیر کا کام بھی شروع کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہندستان سے ہندو یاتریوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے ہندوستان کے ہندو زائرین کے لئے شاردا مندر کھولنے کی تجویز پاکستان کو دی تھی۔ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہندو پنڈت اس کا عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے۔

مظفر آباد سے نیلم ویلی جاتے ہوئے شاردا سے پہلے کیرن کا ایک علاقہ آتا ہے جو 1947 سے پہلے دریائے نیلم (کشن گنگا) کے آر پار ایک ہی گاؤں تھا۔ کشمیر کی جبری تقسیم کی وجہ سے قریبی رشتہ دار بھی ایک دوسرے سے بچھڑنے پر مجبور ہو گئے، دریا کے پار سے ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے ہیں لیکن بات نہیں کر سکتے، مل نہیں سکتے۔ 1949 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ بندی اور جنگ بندی لائین کے قیام نے کشمیر کے خطے اور وہاں کے لوگوں، خاندانوں کو جبری طور پر جدا کر دیا۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نے ریاست کشمیر کے باشندوں کا اپنی ریاست میں آزادانہ نقل و حرکت کو تسلیم کر رکھا ہے لیکن عملی طور پر کشمیریوں کو آپس میں ملنے نہیں دیا جا تا۔

یوں تو ہندوستان میں متعدد قدیم مندر موجود ہیں تاہم ہندوستان ایسے مندروں کو دوبارہ قائم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے جو قدیم زمانے سے ختم ہو چکے ہیں۔ باقاعدہ سرکاری ترغیب اور اہتمام سے لاکھوں کی تعداد میں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ (اسلام آباد) میں واقع امر ناتھ نامی گھپا کے درشن کے لئے لے جایا جاتا ہے اور دنیا کو یہ د کھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کشمیر میں ہندوستان کے اکثریتی فرقے ہندوؤں کے مقدس مقامات ہیں۔

لیکن دنیا ساتھ ہی یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان کس طرح بالخصوص گزشتہ تیس سال سے اپنے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیے ہوئے ہے اوراس دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فورسز کی ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکتوں، گرفتاریوں، تشدد، قید، پرتشدد تادیبی کارروائیوں کی طرح کے مظالم تیز تر ہیں اور الیکشن کے بہانے مزید ایک لاکھ کی تعداد میں فورسز کو مقبوضہ کشمیر تعینات کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے ہی تقریبا آٹھ لاکھ بھارتی فوج حالت جنگ کی طرح وہاں موجود ہے۔

شاردا کے قدیم اور متروک مندر کے کھنڈرات میں نیا مندر تعمیر کرنے اور وہاں آنے کے لئے ہندو ستان کے یاتریوں کو راہداری سہولت دیے جانے کا فیصلہ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیریوں کو بھارت کی طرف سے سزایاب اور پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے ہندوؤں کو فیض یاب کیا جا رہا ہے۔ اب جبکہ شاردا مندر کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے تو یہاں مندر بھی تعمیر کیا جائے گا اور مندر کے لوازمات بھی پورے کیے جائیں گے۔ یوں ہندوستان سے ہندو یہاں آ کرمندر کے صدیوں قدیم پتھر دیکھیں گے اور نئے قائم ہونے والے مندر میں پوجا پاٹھ کریں گے۔

ہندوؤں کی عقیدت کے احترام میں ہندوستان کے ہندو یاتر یوں کے لئے شاردا میں مندر قائم کرتے ہوئے وہاں جانے کا سلسلہ تو شروع کیا جا رہا ہے لیکن ہندوستان، پاکستان اور اقوام متحدہ کو ان کشمیریوں کا احساس اور احترام بھی کرنا چاہیے جنہیں اپنی آزادی سے متعلق سیاسی مطالبات کی وجہ سے اپنے ہی وطن میں فوجی کارروائیوں سے بے دریغ مارا جا رہا ہے، کشمیریوں کو ایک دوسرے سے جبری طور پر جدا کر رکھا ہے۔

قدیم کالے پتھروں کا احترام کرنے والو، ان پتھروں کی تقدیس کی بات کرنے والو! کشمیر کے انسانوں کا بھی کچھ احساس کر لو، ان کے حقوق کا احترام کرو، ان کے خلاف بدترین ظالمانہ طرز عمل ختم کرو۔ قدیم کالے پتھروں کا تقدس تسلیم، ہم کشمیریوں کے وجود کو بھی تو تسلیم کیاجائے، جو زندہ ہیں، احساس اور زبان رکھتے ہیں اور ردعمل کا اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ کشمیری چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پرامن اور منصفانہ طور پرکشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حتمی طور پر حل کیا جائے۔

عقیدت مند ہندو زائرین ہندوستان سے آ کر شاردا میں قائم کیے جانے والے مندر کے درشن کریں گے، پوچا پاٹھ کریں گے لیکن کشمیریوں کو 71 سال سے بھی زائد عرصے سے اپنے ہی وطن میں جابرانہ، ظالمانہ طور پر ایک دوسرے سے جدا رکھا گیا ہے۔ کشمیریوں کو آپس میں ملنے جلنے کی بھی اجازت نہیں۔ خوشی، غمی پر بھی کشمیریوں کو ملنے نہیں دیا جاتا۔ ہندوستان، پاکستان اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرنے کے ابھی تک قابل نہیں ہو سکے تو کم از کم کشمیریوں کو مارنے، ان پر تشدد کرنے، ان کو ایک دوسرے سے جبری جدا رکھنے کا سلسلہ تو ختم کیا جائے۔

امن کے نام پر شاردا مندر اور راہداری کی طرح کے چھوٹے اقدمات سے نہ تو کشمیر میں ہندوستان کے مسلسل انسانیت سوز مظالم ختم ہو سکتے ہیں، نہ کشمیری مطالبہ آزادی سے دستبردار ہو سکتے ہیں، نہ کشمیر کی سنگین ترین صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے اور نہ ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ہندوستان اور پاکستان باہمی معاہدات کے ذریعے متنازعہ ریاست کشمیر کے آبی وسائل سے ترقی کرتے رہیں اور خطہ کشمیر کے لوگوں کو ظلم، جبر اور قتل و غارت گری کی چکی میں پیسا جاتا رہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>