مرد آخر اتنے تنگ دل کیوں؟
وہ کیوں ان کو دعائیں دیتے ہیں؟ وہ تو اس دور سے ہیں جس دور میں عورت کو اپنے پاس فون رکھنے کی اجازت نہیں تھی، عورت اکیلی گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی۔ وہ اس کو کیوں سراہتے ہیں؟ نہ اس کا تعلق جہالت سے ہے نہ تنگ نظری سے اس سب کا تعلق شعور، تربیت اور عورت کی عزت و مقام سے ہے۔ کیونکہ آج کل کی نوجوان نسل جو اوپن مائنڈڈ ہے، پڑھی لکھی، تعلیم یافتہ نسل ہے، عورتوں کے مقابلہ میں مرد زیادہ تعلیم یافتہ ہیں وہی تعلیم یافتہ مرد جب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو سڑک پر گاڑی چلانے والی، سکوٹی چلانے والی، یا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والی خواتین کو تنگ کرتے ہیں، ان کے پیچھے آوازیں کستے ہیں، ان کے پاس سے شور کرتے ہوئے موٹرسائیکلیں گزارتے ہیں۔
خواتین کے حوصلے پست کرنے کے لیے انہیں روڈ پر سرعام ڈرایا جاتا ہے۔ کیا یہ ہریسیمنٹ نہیں ہے؟ یہ سب آج کی پڑھی لکھی نوجوان نسل کرتی ہے۔ اب ان حالات میں عورت کیا کرے؟ مرد سے مرد کی زبان میں بات کرے؟ اس کا گریبان پکڑے؟ گالی گلو چ کرے؟ جیسا کے مرد لڑائی میں کرتے ہیں۔ لیکن یہ گالیاں بھی مردوں کی پیداوار ہیں ان میں بھی عورت کی تذلیل ہے۔ ہر مقبول گالی عورت سے منسلک کسی رشتے سے شروع ہوتی ہے، چاہے وہ ماں کا رشتہ ہو چاہے بہن کا۔
اور مرد بہت اکڑ کے یہ گالیاں دیتے ہیں اور یہی گالیاں پھر اپنے لیے سنتے ہیں۔ عورت اگر یہ گالیاں استعمال کرے تو عورت ذات کی تذلیل کرے اور اگر مرد سے ہاتھا پائی کرے، تو اس میں میں بھی اسی کی تذلیل، گالیاں دینے والی، اور ہاتھا پائی کرنے والی عورت کو ہمارا معاشرہ کیسا سمجھتا ہے اس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔
یہ بات ہو گئی سکوٹی اور موٹرسائیکل کی، جو کہ کسی خاتون کا چلانا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں عورت کے گاڑی چلانے کی۔ مرد تو اس کو بھی نہیں چھوڑتے، مشرقی مردوں میں یہ خاص تصور ہے کہ کوئی بھی خاتون گاڑی صحیح طریقے سے نہیں چلا سکتی۔ کوئی بھی خاتون جب بھی گاڑی چلاتی ہے وہ یا تو ٹریفک بلاک کرتی ہے یا پھر ایکسیڈنٹ کرتی ہے۔ میں تمام مردوں سے پوچھتی ہوں کہ دنیا میں تمام ایکسیڈنٹ خواتین کی غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوتے ہیں؟
مرد جب ڈرائیونگ کرتے ہیں تو کیا کوئی حادثہ نہیں ہوتا؟ حادثے مرد کی غلط ڈرائیونگ سے بھی ہوتے ہیں تو اعتراض صرف خواتین کی ڈرائیونگ پر کیوں؟ کسی مرد کی گاڑی غلط پارک ہو تو خیر ہے کسی خاتون کی ہو تو اس کو گاڑی چلانی نہیں چاہیے۔ اگر مرد کی وجہ سے روڈ بلاک ہو تو خیر ہے کسی خاتون کی وجہ سے ہو تو سب نے ہارن دے دے کر اس کا حوصلہ پست کر دینا ہے۔ اگر مرد کی یہ تمام غلطیاں معاف ہیں تو عورت کی کیوں نہیں؟ مرد کا دل تنگ دل ہے یا اس میں ظرف نہیں ہے؟
خاتون اپنی ذاتی سواری پر بھی مرد کو برداشت نہیں اور لوکل یا پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی نہیں۔ وہاں بھی اس کو ہراساں کرنا ہے اور اس کی ذاتی سواری پر بھی۔ سکوٹی، موٹرسائیکل، گاڑی میں جاتے ہوئے کسی کو روڈ پر تنگ کرنا بھی ہریسیمنٹ ہی ہے۔
عورت کو خود مختار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے معاشرے کے لوگوں کی سوچ بدلی جائے۔ تعلیم کو بہتر کیا جائے اور سب سے زیادہ اہم تربیت کو بہتر بنایا جائے۔ مائیں اگر بچوں کو شروع سے عورت کی عزت اور احترام کرنا سکھائے تو نہ ان کے ساتھ، نہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ، نہ دوسروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ وہ ہو، جو آج تک عورت کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ وومن ایمپاورمنٹ پر کام کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں کو ”کھانا گرم کر دوں گی بستر خود گرم کرلینا“ جیسے سلوگن پکڑا کر اس کو مزید رسوا نہ کریں۔ عورت کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدلیں، معاشرے میں خواتین کی عزت اور مقام کے لیے کام کریں۔ تا کہ معاشرہ ہر کسی کی ماں، بہن، بیٹی اوربیوی کے لیے محفوظ بن سکے۔

