پنجابی شاونزم اور نوائے وقت اخبار کی تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں دو قومی نظریے کے محافظ اور ترویج کے لیے نوائے وقت گروپ کو کلیدی حیثیت رہی ہے اس کے ذیل میں ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بھی چلایا تاہم مجید نظامی کے انتقال کے بعد ان کی لے پالک بیٹی رمیزہ نظامی نے پورے ادارے کا مستقبل دائو پر لگا دیا ہے پہلے وقت ٹی وی بند ہوا، سینکڑوں صحافی بے روز گار ہوئے، پھر نوائے وقت اخبار کے ملازمین کی تنخواہوں پر کٹوتیوں اور سینئر صحافیوں کی جبری ریٹائرمنٹ کے واقعے نے نئی چنگاری لگا دی۔ یہ ابھی تھما ہی نہیں تھا کہ خبر آئی کہ نوائے وقت کے صحافیوں کو اپنے حق میں آواز اُٹھانے پر سائبر کرائم کے تحت گرفتار کرا دیا گیا۔ نوائے وقت کی تاریخ کیا ہے، یہ اخبار کیسے جاری ہوا؟ حمید نظامی کون تھا؟

ان سوالات کے جوابات سے قبل ہمیں دوسری عالمی جنگ کے دوران پنجاب میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ محمد علی جناح نے پنجاب کو قیام پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیا تھا تاہم آل انڈیا مسلم لیگ کا پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے ساتھ زبردست ٹکرائو تھا۔ پنجاب کی اشرافیہ، مسلمان راجپوت، ہندو جاٹوں کی کثیر تعداد پر مشتمل یونینسٹ پارٹی پنجاب میں 1923ء سے ہی متحرک تھی۔ 1944ء میں جب جناح صاحب اور خضر حیات ٹوانہ کا براہ راست ٹکرائو ہوا تو لیگیوں نے ٹوانہ کو غدار اور کافر کے القابات دیے گئے۔

جناح صاحب اور سکندر کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کی مختلف تشریحات کی گئیں چنانچہ خضر حیات اور جناح صاحب کے درمیان اس کے باعث خاصی تلخی بھی پیدا ہوئی لیکن 1930ء کی دائی کے آخری برسون میں یونینسٹ پارٹی کو چیلنج کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ممکن نہ تھا۔ اسی لیے جناح صاحب نے یونینسٹوں کے اس نقطہ نظر سے اختلاف نہ کیا کہ وہ مسلم لیگ کی رکنیت رکھنے کے باوجود پنجاب میں اپنی مخلوط بنیادوں پر قائم وزارتوں کو بھی قائم رکھیں اور یونینسٹ پارٹی کا وجود بھی برقرار رہے۔ یعنی کُل ہند سطح پر پنجابی مسلمانوں کی حمایت کے حصول کے بدلے جناح صاحب نے پنجاب کی مسلم لیگ کی قیادت یونینسٹ پارٹی کو سُپرد کر دی۔ خضر حیات کے مستعفی ہونے کے بعد لاہور، امرتسر، ملتان، راولپنڈی اور صوبے کے دوسرے علاقون میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی شروع ہوگئی۔

پنجابی مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے نے پاکستان کا مطالبہ بڑے عزائم کے ساتھ کیا تھا۔ اس طبقے کا خیال تھا کہ پاکستان قائم ہوگا تو اس مملکت خدا داد میں ہندو راج کی بجائے پنجابی راج ہوگا۔ کیونکہ اس کی 90 فیصد فوج پنجاب کی مارشل نسل کے جوانوں پر مشتمل ہوگی اور سول انتظامیہ پر اس کا غلبہ ہوگا۔ صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان اور بنگال کے مسلمانوں میں درمیانہ طبقہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ فوج میں صوبہ سرحد کی تھوڑی سی نمائندگی تھی لیکن انگریزوں نے سندھ، بلوچستان، اور بنگال کے مسلمانون کے لیے فوج میں بھرتی کے دروازے بند کر رکھے تھے انھیں ان نان مارشل نسلوں کی وفاداری پر اعتماد نہیں تھا۔ پنجاب کے درمیانہ طبقے نے علاقائی شاونزم کی لعنت سر فضل حسین، سر سکندر حیات خان اور سر خضر حیات خان ٹوانہ جیسے جاگیرداروں سے ورثے میں پائی تھی۔

کیمونسٹ لیڈر سجاد ظہیر کے مطابق وزیر اعظم پنجاب خضر حیات مسلم لیگ سے اخراج کے تقریباً دو ماہ بعد حکومت پنجاب نے صوبہ کے سارے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کے نام یہ خفیہ ہدایات جاری کی تھیں۔

۱۔ ان تمام سرکاری ملازموں کو برطرف کر دیا جائے جو خود یا جن کے رشتہ دار لیگ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

۲۔ ان سارے ٹھیکیداروں کے ٹھیکے منسوخ کر دو جو مسلم لیگ میں شامل ہیں یا جن کی ہمدردیاں لیگ کے ساتھ ہیں۔

۳۔ اگر کوئی اراکان اسمبلی یونینسٹ پارٹی کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہونے کی جراءت کریں تو انھیں انتقامی کارروائی کرنے اور ان کی مراعات و رعایات واپس لینے کی دھمکی دو۔

۴۔ جو ارکان اسمبلی یونینسٹ پارٹی کے ساتھ ہیں انھیں انعام دو۔

۵۔ جہاں تک ممکن ہو سکے مسلم لیگ کو جلسے کرنے کی اجازت مت دو۔ لاہور، امرتسر، جالندھرمیں اسی مقصد کے تحت دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

صوبے کے بیشتر اخبارات یونینسٹ پارٹی کی پالیسی کی پیروی کر رہے تھے جس میں روزنامہ انقلاب سر فہرست تھا۔ یونینسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار انقلاب کے ایڈیٹر عبد المجید سالک کا بیٹا عبد السلام خورشید 1937ء میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا سیکرٹری بنا جب کہ اسلامیہ کالج سٹوڈنٹس یونین کے سابق سیکرٹری حمید نظامی اس تنظیم کے صدر بن گئے۔ جب مارچ 1941ء میں لاہور میں محمد علی جناح کی زیر صدارت مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خصوصی پاکستان سیشن ہوا تو اس کے بعد جناح صاحب کی خواہش کے مطابق لاہور کا ایک مسلم لیگی جاگیردار میاں بشیر احمد اس کا صدر بن گیا حالانکہ میاں بشیر طالب علم بھی نہیں تھا۔

میاں بشیر احمد کا انتخاب اس لیے ہوا تھا کہ وہ خاندانی رئیس تھا اور آئندہ انتخابات میں مسلم طلباء کی تنظیم کے لیے ضروری تھا کہ اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کوئی فرد موجود ہو۔ حمید نظامی کو صدارت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اس کے بعد انھوں نے ذریعہ روزگار کے طور پر صحافت کا چنائو کیا۔ پنجاب کی صوبائی سیکرٹیریٹ کی پریس برانچ میں حمید نظامی سرکاری ملازم بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد حمید نظامی نے ڈاکٹر ستیہ پال کے اُردو روزنامہ نیشنل کانگرس میں بھی کام کیا تھا۔

قرار دار پاکستان کی منظوری کے ایک ہفتے بعد 29 مارچ 1940ء کو اسلامیہ کالج لاہور کے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے مل کر پندرہ روزہ جریدے نوائے وقت کی اشاعت شروع کی۔ حمید نظامی اس جریدے سے منسلک ہوگئے۔ اس کے پہلے شمارے میں محمد علی جناح، مولوی عبد الحق، مولانا ابو الکلام آزاد اور سر عبد القادر کے پیغامات شائع ہوئے اور اس کا نصب العین یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے اُردو زبان کو فروغ دیا جائے گا اور علامہ اقبال کے پیغام کو مقبول عام بنایا جائے گا۔ اس جریدے کا سرپرست میاں بشیر احمد تھا اور اس حیثیت سے پیشانی پر اس کا نام ایک سال تک چھپتا رہا۔

 15  نومبر 1942ء میں جالندھر میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اجلاس محمد علی جناح کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں نوائے وقت کی اشاعت ہفتہ وار کر دی گئی۔ لیکن اس کے تقریباً دو ہفتے بعد طلباء کی باہمی دھڑے بندی کے باعث حمید نظامی کو فیڈریشن کی صدارت سے الگ کر دیا گیا۔ 4 دسمبر کو فیڈریشن کی مجلس عاملہ نے حمید نظامی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی اور اس کی جگہ ظہور عالم قائم مقام صدر بن گیا۔ تاہم حمید نظامی ہفت روزہ نوائے وقت کے ساتھ منسلک رہا جس میں مطالبہ پاکستان کے حق میں پراپیگنڈہ ہوتا تھا۔

حمید نظامی کو یونینسٹ پارٹی کے جاگیر دار نواب مشتاق احمد گرمانی نے اورینٹ پریس لاہور برانچ کا مینجر تعینات کرایا۔ 1944ء کے اوائل میں محمد علی جناح نے نوائے وقت کو روزنامہ میں بدلنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حمید نظامی نے مطلوبہ سرمایہ کے فقدان کا ذکر کیا تو جناح صاحب نے کہا کہ “تم نواب ممدوٹ سے بات کرو وہ انتظام کر دے گا”۔ نواب ممدوٹ اس وقت ڈیوس روڈ سے ملحقہ اپنی کوٹھی میں ہی موجود تھا جہاں جناح صاحب بھی موجود تھے۔ حمید نظامی اس کے پاس گیا اور جناح صاحب کی خواہش سے متعلق آگاہ کیا کہ نوائے وقت اخبار ایک کمپنی کے زیر اہتمام شائع ہو جس کے پانچ حصہ دار ہوں۔

نواب ممدوٹ، ممتاز دولتانہ، میاں بشیر احمد، حمید نظامی اور اس کا کوئی اور نامزد شخص۔ دوسرے دن حمید نظامی نے اپنے ایک دوست حامد محمود کا نام کمپنی میں پانچویں حصے دار کے طور پر پیش کیا۔ نواب ممدوٹ نے مجوزہ کمپنی کی حصہ داری کا عہد نامہ لکھنے کا کام وکیل محمود علی قصوری کے سپرد کر دیا۔ معاہدہ لکھنے کے چند روز بعد ممتاز دولتانہ کی رائے تبدیل ہوگئی۔ اب اس کی خواہش تھی کہ اس کمپنی کے صرف تین جاگیردار حصہ دار ہوں۔ مجید نظامی ہفت روزہ میں اپنا معاوضہ قبول کر لے اور اخبار میں تنخواہ دار ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرے۔ ممتاز دولتانہ کی یہ تجویز دراصل جاگیر دار طبقہ اور درمیانہ طبقہ میں طبقاتی تضاد کی عکاس تھی۔

حمید نظامی نے اس تجویز سے اختلاف کیا چنانچہ تین ماہ بعد اپنے دوست حامد محمود کی شراکت سے 22 جولائی 1944ء کو اپنے ہفت روزہ جریدے کو روزنامہ بنا دیا۔ اس وقت حمید نظامی کی عمر 29 برس تھی۔ حمید نظامی کا نظریاتی ہیرو علامہ اقبال تھے اس لیے اخبار کی پیشانی پر “بیاد گار حکیم الامت علامہ اقبال” لکھا ہوتا تھا۔ یہ اخبار تھوڑے ہی عرصے میں مقبول ہوگیا۔

قیام پاکستان کے بعد نوائے وقت اخبار ملک کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ بن گیا اور حکومتی سرپرستی ملنے کے باعث اس اخبار نے تیزی سے ترقی کی اور حمید نظامی کی وفات کے بعد ان کے بھائی مجید نظامی نے نوائے وقت گروپ کو سنبھالا۔ اب یہ گروپ ایک نا تجربہ کار خاتون کے ہاتھوں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور حمید نظامی کا بیٹا عارف نظامی اخبار کی ملکیت سے متعلق قانونی جنگ۔

لینڈ ایلیشن ایکٹ 1900ء کے تناظر میں لکھی گئی نظم کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

اٹھو نوجوانو! زمانہ بدل دو

چھوٹو، سکندر، ٹوانہ بدل دو

بدل دو مجیھٹیہ، جوگندر بدل دو

منوہر، حئی، دولتانہ بدل دو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •