مرد آخر اتنے تنگ دل کیوں؟
عورت ہمیشہ سے مرد کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ اس نے کہیں آنا جانا ہو تو خود سے منسلک مرد کی اجازت سے جاتی ہے یا پھر وہ اس کے ساتھ جا کر اپنے روزمرہ زندگی کے کام کرتی ہے چاہے وہ کام اس کی ذات سے منسلک ہو، چاہے اس کے بچوں سے یا پھر اس کے گھر سے، مرد کے لیے یہ ذمہ داری اپنے دوسری ذمہ داریوں کے ساتھ نبھانہ بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کئی خواتین اپنے ضروری کام لوکل اور بپلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر کے انجام دے دیتی ہیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا خواتین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، بسوں میں اکثر رش ہوتا ہے اور لوکل ٹرانسپوڑٹ میں اکثر ہی لڑکیوں کو ہریس کیا جاتا ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے چند مردوں نے اپنے دل بڑے کیے اور اپنے سے منسلک عورتوں کو گاڑی، موٹرسائیکل یا سکوٹی چلانے کی اجازت دی تاکہ وہ اپنے روزمرہ زندگی کے کاموں کے لیے با آسانی اور باحفاظت سفر کرسکیں۔
میں نے اکثر ایسی خواتین کو سڑکوں پہ اپنی سواریاں چلاتے دیکھا ہے۔ اکثر خواتین حجاب میں ہوتی ہی ہیں، کئی چادر اوڑھ کر رائیڈ کرتی ہیں۔ وہ با پردہ ہو کر اس اسلامی معاشرے میں باعزت طریقے سے چلنا چاہتی ہیں۔ اچھا لگتا ہے کہ عورت کو خودمختاری مل رہی ہے وہ مرد کی ذمہ داریاں بانٹ رہی ہے مگر معاشرے میں ابھی بھی وہ مرد موجود ہیں جو عورت کی اس خودمختاری کو چھین لینا چاہتے ہیں۔
کل ایک خاتون کو سکوٹی چلاتے دیکھا۔ وہ پر اعتماد نظر آ رہی تھی، روڈ پر ٹریفک تھی مگر وہ بغیر گھبرائے روڈ پر سکوٹی چلا رہی تھی۔ میں یہ سوچ رہی تھی کہ اب عورت کے لیے آسانی ہو گئی ہے وہ معاشرے کی گندی نظروں والے مردوں سے بچ جاتی ہے جو بس سٹاپ پہ، رکشوں میں یا اس کو پیدل جلتے ہوئے تنگ کرتے ہیں یا اس کو بپلک ٹرانسپورٹ میں ہریس کرتے ہیں۔ میں ابھی اس سوچ میں تھی کہ ایک بس پیچھے سے آئی چونکہ وہ خاتون اس بس سے آگے نکل آئی تھی اور یہ بات اس بس ڈرائیور پر گراہ گزری حالانکہ روڈ پر ٹریفک میں کبھی کو ئی آگے نکل جاتا ہے کبھی کوئی مگر اب بات چونکہ ایک عورت کی تھی تو یہ اس بس ڈرائیور سے برداشت نہ ہوسکا کیونکہ اب بات اس مرد کی مردانگی کی تھی۔
وہ مردانگی جو کسی عورت کو ڈرا کر یا اس پر ہاتھ اٹھا کر مشرقی مرد عموماً ظاہر کرتے ہیں۔ اس بس ڈرائیور نے بس کی سپیڈ کو بڑھایا اور تیزی سے بس کو اس خاتون کے پاس سے گزارتے ہوئے اسے ایسا محسوس کروایا جیسے ابھی کوئی حادثہ پیش آئے گا اور پھر بس کو دوسری طرف موڑ لیا۔ بس کی سپیڈ زیادہ تھی اور وہ تیزی سے اس خاتون کے قریب سے گزری جس کی وجہ سے اس خاتون کا توازن بگڑا۔ اس خاتون نے خود کو گرنے سے پچا تو لیا مگر اس وقت اس کے حواس پر کیا گزری ہو گی اس کو محسوس کرنا مشکل بات نہیں ہے۔
یہ سب صرف اس لئے کہ وہ خاتون اس سے آگے نکل آئی تھی یا اس لئے کہ اس کا پر اعتماد طریقے سے روڈ پہ آنا اس کو برداشت نہ ہوا؟
جب بات عورت کی آتی ہے تو مرد اتنا تنگ دل کیوں ہو جاتا ہے؟ اکثر جہالت کو اس رویے کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ جہالت کا تعلق اگر تعلیم سے ہے تو میں اس بات کو رد کرتی ہوں، کہ جہالت کی وجہ سے لوگ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ بس ڈرائیور جو ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہے اس نے زیادہ تعلیم نہ سہی مڈل تو پاس کیا ہو گا اور لائسنس بھی لیا ہو گا۔ تو کیا اس کی تعلیم اس کی جہالت ختم نہ کر سکی یا اس کو سفارش پہ ایک سرکاری ادارے میں ملازمت ملی؟ ان تمام سوالات کے علاوہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ سڑک پہ اگر ایک عورت کا آگے نکلنا اس شخص کو برداشت نہ ہوا تو اس کا رویہ اس کی گھر کی عورتوں کی طرف کیسا ہو گا؟ اگر اس وقت وہ خاتون خود کو نہ سمبھال سکتی اس مین روڈ پہ کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟
اگر چند مردوں نے اپنے دل بڑے کیے ہیں اور عورتوں کو خود مختار کرنے کے لیے قدم اٹھایا ہے تو معاشرے کے دوسرے مردوں کو یہ بات کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے اور وہ اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ عورت خود مختار ہو گئی تو وہ اپنی مردانگی کا رعوب کس پر چلائے گئیں۔ اس کو ڈرائے گا کیسے، اسے بار بار یہ احساس کیسے دلائے گا کہ وہ مرد کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ایسے ہی مرد ویمن ایمپاورمنٹ کے لیے کی جانے والی ایک تحریک ”وومن اون ویلز“ کو ”بے حیائی اون ویلز“ کا نام دیتے ہیں۔
جبکہ کسی عورت کے رائیڈ کرنے میں کوئی بے حیائی نہیں ہے یا پھرعورت کو بے حیا کہہ دینا آسان ہے اور اس عورت کے لیے تکلیف دہ۔ اس لیے مرد ہمیشہ اس کے کردار پر سب سے پہلے وار کرتا ہے۔ اکثر لوگ اس سب کو تنگ نظری سے بھی جوڑتے ہیں تو میں اس بات کو بھی رد کرتی ہوں۔ کیونکہ اگر یہ تنگ نظری ہے تو وہ لوگ جو آج کے دور کے نہیں ہیں، جو کبھی سکول نہیں گئے جو ان پڑھ ہیں جنہیں لوگ جاہل کہتے ہیں۔ وہ پچھلی جینریشن کے ہیں، کیوں خود مختار عورتوں کو سلیوٹ کرتے ہیں، وہ کیوں ان کو سپورٹ کرتے ہیں؟
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

