روزہ کیوں نہیں رکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے ملتان چھوڑا ہر سال ایک یکم رمضان کو اور پھر ماہِ رمضان کے دوران کم سے کم دومرتبہ ملتان سے ایک فون ضرور آتا ہے ۔ مسکرا کر ہیلو کہتا ہوں تو جواب میں سوال پوچھا جاتا ہے ، ’’روزہ رکھا ہے؟‘‘ ۔ پوچھنے والا کا لہجہ پنجاب پولیس کے ایس ایچ او کے لہجے جیسا ہوتا ہے مگر خوشگوار لہجے میں جواب دیتا ہوں ، ’’نہیں‘‘ وہ ایک بار پھر سوال کرتے ہیں ’’ کیوں نہیں رکھا؟‘‘ میں جواب میں کہتا ہوں ، ’’بس ویسے ہی ‘‘ اور پھر فون بند ہوجاتا ہے ۔ فون کرنے والے میرے پرانے دوست ہیں مگر سال میں رمضان کے دوران ہی فون کرتے ہیں اور اب تو مجھے بھی ہر سال یکم رمضان کو ان کے فون کا انتظار رہتا ہے ۔
اس مرتبہ بھی یکم رمضان کے روز بیدار ہوتے ہی لاشعوری طور پر ان کے فون کا انتظار کرتا رہا ۔ ہر بار گھنٹی بجنے پر دم گوش میں آگیا مگر ہربار فون اٹھایا تو موبائل کی سکرین پر کوئی اور نام جگمگا رہا تھا ۔ بارہ بج گئے مگر ان کا فون نہیں آیا تو تشویش سی لاحق ہوئی کہ خیرت سے ہوں۔ کسی بیماری یا دوسرے مسئلے کا شکار نہ ہوں۔ پھر سوچا کہ ایسا کچھ ہوتا تو مجھے ضرور بتاتے ۔ پھر سوچا بندہ فانی اور موت برحق ہے۔ خاکم بدہن ۔۔۔ اس سے اشبھ سوچ سے بچنے کے لئے یہ سوچ لیا کہ اگر تین بجے تک فون نہ آیا تو خود فون کروں گا۔
یہ سوچ کر کام کاج میں لگ گیا کہ تین بجنے سے دس منٹ قبل فون کی گھنٹی بجی ، سکرین پر نظر ڈالی تو انہی کا نام جگمگا رہا تھا ، نہایت خوشگوار اور چہکتے ہوئے لہجے میں سلام کیا اور انہوں نے کہنہ سوالات دہرائے تو میں نے حسبِ معمول نفی میں جواب دیا ۔ میں چاہتا تھا کہ فون بند نہ کریں اور مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس بار فون بند نہیں ہوا اور فرمانے لگے۔
تمہیں وہ وقت یاد ہے جب تم میرے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے؟
ہاں میں جواب دیا تو کہنے لگے کہ تمہیں یہ بھی یاد ہوگا کہ تم روزے کے حق میں کیا دلائل دیا کرتے تھے۔ تم کہا کرتے تھے کہ روزے کا مطلب پیٹ اور معدے کو بھوکا رکھ کے قوتِ ارادی کو کھانا کھلانا اور طاقت ور بنانا ہے؟ جھوٹی انا کو کمزور کرکے اپنی سچی شناخت کو طاقتور کرنا ہے۔ پھر تم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تم احتراماً روزہ نہیں رکھتے کیونکہ خیانت ہوجاتی ہے۔ روزہ جس قدر بیداری کا تقاضا کرتا ہے ، اپنا رقیب خود بننے کا تقاضا کرتا ہے ، جس قدر خیالات کے زیروبم ، آنکھ کی جنبش، زبان کی لرزش ، قدموں کے استحکام اور ہاتھوں کے موشگاف اشاروں پر پہرہ دینے کا تقاضا کرتا ہے ، وہ مجھ خطاکار کا کام نہیں۔ جب میں جان لوں گا کہ میں اس کا ہر تقاضا پورا کرسکتا ہوں ، اس وقت تک میں احتراماً روزہ نہیں رکھوں گا۔
میں نے تو سنا ہے کہ اب تم عجیب عجیب باتیں لکھتے ہو ۔ پہلے بولتے تھے، ہم سنتے تھے۔ اب لکھتے ہو اور کیا خبر کون کون پڑھتا ہو گا ؟ بتاؤ تو سہی اب کیا بھی احتراماً روزہ نہیں رکھتے یا پھر انتقاماً؟
انتقاماً پر میری ہنسی نکل گئی تو کہنے لگے کہ ہنسو نہیں بتاؤ۔ جواب دیا کہ اب بھی احتراماً نہیں رکھتا۔ ہر بار آپ فون کرتے ہیں نہ بندہ گھر بار کا پوچھ سکتا ہے نہ صحت اور کاروبار کا اور فون بند۔ یہ سن کر کہنے لگے۔
ادھر اُدھر کی مت ہانکو۔ میرے سوال کا جواب دو۔
عرض کیا کہ میں اب بھی مانتا ہوں کہ روزہ قوتِ ارادی (will-power) کو مقوی اور طاقتور بنانے کا ذریعہ ہے لیکن طاقتور قوتِ ارادی ذریعہ ہوتی ہے یا مقصد؟ جیسے پانی پینا پیاس بجھانا ہوتا ہے یا پانی پینا؟ چلنا چلنے کے لئے ہوتا ہے یا کہیں جانے یا چربی پگھلانے کے لئے؟ چلتے تو بچے بھی ہیں مگر کہیں جانے کے لئے نہیں مگر پھر بھی وہ بھی چلنے کی مشق کررہے ہوتے ہیں۔ اپنی ٹانگوں کو مضبوط بنارہے ہوتے ہیں اس لئے وہ چلنے کے لئے نہیں چلتے۔
اس پر کہنے لگے ذریعہ ، جیسے پانی پینا پیاس بجھانا اور چلنا کہیں پہنچنے کے لئے ۔
تو روزے کے نتیجے میں ملنی والی قوتِ ارادی کس مقصد کا ذریعہ ہے؟ سال میں کروڑوں مسلمان روزے رکھ کر قوتِ ارادی کو تقویت دیتے ہیں تو اس کروڑوں گیگا واٹ توانائی سے کیا کام لیتے ہیں؟ ایکسپورٹ کرتے ہیں یا پھر خود خرچ کرتے ہیں؟ مجھے حقائق اور اعدادوشمار کی روشنی میں بتانا ۔ ترقی کی دوڑ میں آج مسلمان کہاں ہے؟ انسان دوستی کی دوڑ میں آج مسلمان کہاں ہے؟ ذوق تعمیر میں آج مسلمان کہاں ہے؟ ایجادِ علوم میں آج مسلمان کہاں ہے؟ اعجازِ علوم میں آج مسلمان کہاں ہے؟ حیات دوستی میں آج مسلمان کہاں ہے؟ نصف ایمان کا کس قدر خیال ہے مسلمان کو ؟ روزوں سے حاصل شدہ کروڑوں گیگا واٹ قوتِ ارادی سے کیا کام لیا جارہا ہے؟ تعمیری یا پھر تخریبی ؟ ماحول ، معاملات ، خیالات اور اندر کی صفائی کا ؟
میں صرف یہی نہیں کہتا تھا کہ روزہ قوتِ ارادی کو سیر کرنے کا نام ہے ۔ میں یہ بھی کہتا تھا کہ روزہ مجھے بتاتا ہے کہ میرے اندر توانائی کا کوئی اور سرچشمہ بھی ہے جس کا خوراک سے کوئی تعلق نہیں۔ روزہ ہمیں اندر توانائی کے ذخائر تک لے جانے والا خضر ہے۔ سال میں کروڑوں مسلمان روزے رکھ کر، توانائی کے ان سرچشموں کا سراغ لگا کر کیا کرتے ہیں؟ یہ جان کر کیا کرتے ہیں کہ سب کچھ اپنے پیٹ میں نہیں، دوسروں کے پیٹ میں بھی ڈالنا ہوتا ہے؟ لیکن عام روزے دار کیا کرتے ہیں سب یہ جان کر؟ بیٹھ جاتے ہیں ؟ جشن مناتے ہیں یہ راز تلاش کرنے کا ؟ لڈیاں ڈالتے ہیں؟ یا پھر اپنے حصے کی خوراک ، اضافی ذرائع اور وسائل ان کے لئے وقف کردیتے ہیں جن کے پاس یہ سب موجود نہیں؟
کون کس قدر اضافی خوراک ، وسائل اور آمدنی وقف کررہا ہے؟ حقائق اور اعداوشمار کی روشنی میں بتانا۔ دنیا میں سب سے زیادہ وسائل دوسروں پر خرچ کرنے والوں میں ، دوسروں کو کھانا کھلانے ، ان کی تعلیم ، روزگار اور روشن مستقبل پر خرچ کرنے والوں میں نمایاں لوگ کون ہیں ؟ ان میں سے کون ہمارے مذہب اور عقیدے کے مطابق روزے رکھتا ہے؟ دنیا میں دوسروں پر خرچ کرنے والے دس میں سے تین ۔ یعنی سو میں تیس؟ چوتھے نمبر پر سلمان عبدالعزیز، پانچویں نمبر پر ہندوستانی اعظم پریم جی اور دسویں نمبر پر ایرانی مُراد اُمید یار۔ باقی ستر فی صد روزے رکھتے ہیں؟ ان کا ماڈل کیا ہے؟ خیرات ؟ لیکن باقی ستر جو دوسروں پر خرچ بھی کر رہے ہیں اور ترقیاتی فنڈز بھی دے رہے ہیں ، کیا انہوں نے تجربے کی کمی احساس سے پوری نہیں کرلی؟ اگر انہوں نے تجربے کی کمی احساس اور ہم گذاری (empathy) سے پوری کرلی ہے تو کیا وہ مقصد پورا نہیں ہوگیا ؟ اس کا جواب ہاں ہے تو تمہیں تمہارا جواب مل نہیں گیا؟
باقی رہ گئے روزہ رکھنے والے 99.99 فی صد عام لوگ تو کیا انہیں قانون کے خوف سے روزے نہیں رکھوائے جارہے؟ کیا وہ صرف ثواب کے لئے روزے نہیں رکھتے اور تم خود ایک دن فرما رہے تھے کہ یہ ثواب کیا ہوتا ہے اور کہاں خرچ ہوتا ہے؟ اور پھر تم یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جنہیں زبردستی روزہ رکھوایا جاتا ہے وہ دوسروں کو زبردستی رکھوانا چاہتے ہیں۔ یاد کرو تم ہی تو کہتے تھے، اور ہنس کر کہتے تھے:
’مجھے لگتا ہے انہیں خود روزے کا لطف نہیں آرہا اور اس لئے یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ان کی طرح بے چین اور بے لطف ہوجائیں؟‘۔
اور ہاں تم یہ بھی تو کہتے تھے:
’جنہیں زبردستی روزہ رکھوایا جاتا ہے انہیں روزے کا لطف نہیں آتا تو وہ روزہ نہ رکھنے والوں کو حقارت سے دیکھ کر تھوڑا سا لطف لے لیتے ہیں‘۔
وہ چپ رہے تو آئندہ فون کرنے کی تاکید کی ۔
’مجھے خوشی ہوتی ہے کہ تم ہر سال مجھے فون کرکے، روزے کا پوچھ کے ، کچھ لطف لے لیتے ہو۔ میں روزہ سے ہوتا ہوں تو پھر بھی نفی میں جواب دیتا ہوں تاکہ تمہیں لطف آئے۔ اگلے سال بھی، خا ص طور پر یکم رمضان کو تمہارے فون کا انتظار رہے گا۔ بھولنا مت‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •