غدار پیدا کرنے کی روش


جسٹس فائز عیسی کے خلاف ایک مہم چلائی گئی اور یہ مہم بار میں موجود کچھ مخصوص لوگوں کے ذریعے اس لیے چلائی گئی کہ جسٹس فائز عیسی نے اس ڈی فیکٹو سسٹم کو فیض آباد دھرنا کیس میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ خود مختار آواز رکھنے والے واحد شخص نہیں ہیں جن پر اس طرح حملہ کیا گیا ہو۔ اس سے قبل 2014 میں جسٹس جواد ایس خواجہ کے خلاف ریڈ زون میں رات کے وقت بینرز آویزاں کر دیے گئے تھے اوراس کے ذمہ داروں کا کوئی کبھی تعین نہ کر پایا۔

نام خفیہ رکھنا ایک بہت بڑا اثاثہ ثابت ہوتا ہے۔ لیکن ہر مقصد کو بغیر چہرہ دکھائے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ڈی فیکٹو سسٹم کو ایک ایسی عدلیہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو صاحب اختیار کی مرضی کے مطابق بہترین طریقے سے کام سر انجام دے۔ قانون کی حکمرانی ایک ایسا تصور ہے جو ڈی جورے نظام سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈی فیکٹو ماڈل جنگی منشور کے مطابق چلتا ہے۔ جنگیں درست طریقے کی تنکنیکی ضروریات کی پابندی کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اس میں اہمیت جیت کی ہوتی ہے نہ کہ درست طریقہ اختیار کرنے کی۔ جنگوں میں نقصان بھی ہوتا ہے اور اپنے لوگوں کی جانیں بھی جاتی ہیں۔ ریاست کے فائدہ کے لیے کچھ قیمتی جانیں قربان کرنا پڑتی ہیں۔ جنگی منشور کی اپنی ایک لاجک ہوتی ہے۔ لیکن یہ اسی وقت استعمال کیا جانا چاہیے جب جنگی حالات ہوں نہ کہ امن کے دنوں میں۔ ڈی فیکٹو سسٹم ہر معاملے پر جنگی حالات نافذ کرتا ہے اور جنگی منشور کر مستقل طور پر نافذ کر دیتا ہے۔

اس میں قانون کی حکمرانی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک فیڈریشن کے اندر فیڈریٹنگ یونٹس اور سینٹر ایک دوسرے کی ترجیحات سے اختلاف کے باوجود اکٹھے چل سکتے ہیں۔ اس سے جوڑوں کے بیچ حرکت کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے۔ یہ اختلاف کے باوجود تعاون کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔ اس سے فیڈریٹنگ یونٹس کے بیچ بہترین مقابلہ بازی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس سے ایسی پالیسیاں وجود میں آتی ہیں جن کی وجہ سے کوئی خاص پارٹی فاتح نہیں بنتی لیکن کوئی پاگل پن کی حد تک بھی نہیں جا سکتا۔

ایک ٹوٹلٹیرین سسٹم جو متنوع کلچر پر زبردستی تھونپ دیا جائے تو وہاں سب ادارے ایک جیسے نظر آنے لگتے ہیں۔ یہاں اختلاف اور دلچسپیوں کے ملاپ کا چانس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس ڈیفیکٹو سسٹم کو یہ معلوم ہے کہ ملٹری قیادت کو براہ راست سامنے لا کر اس کی ہتک کروانا ایک درست اقدام نہیں ہوگا۔ لیکن کیا اسے یہ سمجھ نہیں ہے کہ یہی لاجک تمام دوسرے اداروں کے بارے میں بھی لاگو ہوتی ہے؟ ایک ایسی عدلیہ جسے غیر جانبدار اور منصفانہ نہ سمجھا جا رہا ہو وہ قابل اعتماد عدلیہ نہیں کہلاتی۔

ایک ایسا میڈیا جسے ڈرا دھمکا کرسچ بولنے سے روکے رکھا گیا ہو بہترین اور قابل اعتماد میڈیا نہیں کہلا سکتا۔ ایک ایسا ملک جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات پوری کابینہ کی بات سے زیادہ وزن رکھتی ہو وہاں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ لوگ مزاح کے طور پر وزیر اعظم کو سلیکٹڈ وزیر اعظم قرار دیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کے کردار پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 1971 میں میڈیا آج کے میڈیا کی طرح ذمہ دار اور محب وطن ہوتا تو جنگ کے نتائج مختلف ہوتے۔

اس کے بعد انہوں نے پی ٹی ایم کا میڈیا ٹرائل شروع کیا۔ میڈیا نمائندوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ پی ٹی ایم کو میڈیا پر جگہ نہ دیں اور نہ انہیں دفاع کا حق دیا جائے۔ کیا ہمارے ڈی فیکٹو سسٹم نے ففتھ جنریشن وار تھیوریز کی حد سے زیادہ خوراک لے لی ہے؟ میڈیا کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ زیادہ بڑا مسئلہ وہ امید ہے جو ڈیفیکٹو سسٹم نے اس تجربہ سے جوڑ رکھی ہے۔ کیا میڈیا کو ہتھیار سے لیس کر کے اور ڈی فیکٹو سسٹم کی خواہشات کے مطابق رپورٹنگ کا پابند بنا کر ہماری حقیقت بدل جائے گی؟

کیا دنیا اچانک پاکستان کو ایک نئے تصور کے ساتھ دیکھے گی اگر ہمارا میڈیا یہ کہنا شروع کر دے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں؟ کیا اگر پنجابی اینکرز منظور پشتین کو غدار قرار دے دیں تو پشتون سپورٹرز منظور پشتین پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے؟ کیا مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو مودی کا یار ہونے کی وجہ سے ڈِچ کیا تھا؟ کیا انڈین میڈیا کا اینٹی پاکستان پروپیگنڈا کسی بھی پاکستانی کو بھارتی میڈیا کا ہم خیال بنا سکتا ہے؟ قاصد کو مارنے سے جنگون کے نتائج نہیں بدلا کرتے۔ 1971 کے نتائج تب تک ویسے ہی رہیں گے جیسے تب تھے جب تک ہم اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس کے بدلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

بابر ستار

بشکریہ روز نامہ جنگ

babar-sattar has 43 posts and counting.See all posts by babar-sattar