جنرل باجوہ ایکس ہوں گے یا ایکسٹینشن لیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس نظام کے بہت سے عذاب ہیں مگر ایک ٹینشن ایکسٹینشن کی بھی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اس سال کے آخر میں اپنے عہدے کی مدت پوری کر لیں گے۔ اگر کوئی اور نظام ہوتا تو شاید اس واقعے پر دو حرفی تجزیہ بھی نہ بنتا۔ ایک سطری خبر سے کام چل جاتا، لیکن چونکہ ہمیں تاریخ نے اس عزت سے نوازا ہے کہ ہم ایسے معاملات کو ملک کے مستقبل اور استحکام سے جوڑنے پر مجبور ہیں لہذا ایک خاموش کھلبلی مچی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کے نااہل مگر فائق ترین مشیر کا خیال ہے کہ موجودہ آرمی چیف کو مزید تین سال دیے بغیر اس نطام کو قائم رکھنا مشکل ہے۔ وہ فوج کے سربراہ کے عہدے کی مدت میں اضافہ کرکے سیاسی تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اسی میں اپنی عافیت ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قسم کی قیاس آرائیوں پر راولپنڈی سے ایک ٹویٹ آ جائے جس میں خالصتاً فوجی زبان میں یہ کہا جائے کہ ایسی پتنگ بازی قابل قبول نہیں اور موجودہ آرمی چیف مزید تین سال گزار کر میرٹ کو پامال نہیں کریں گے بلکہ ان روایات کے امین بنیں گے جن سے ادارے راہنمائی اور توانائی حاصل کرتے ہیں۔ مگر پنڈی خاموش ہے۔ نجانے کیوں اس نکتہ نظر کو تقویت دی جا رہی ہے کہ ’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے، نہ محفل جواں ہے، نہ منظر حسین ہے۔‘

تاریخ کی گواہی سوچ کی اڑان پر حاوی ہوتی ہے مگر کیا کریں یہ گواہی بھی اس خیال کو پروان چڑھا رہی ہے کہ سیدھا کام نہیں ہوگا انہونی ہی کی جائے گی۔ اگر جنرل باجوہ توسیع نہیں لیتے تو اصول کی فتح ہوتی اور اگر وہ تین سال مزید اپنی کرسی پر موجودہ رہتے ہیں تو ان کی تصویر ایسی ہی فریم میں جڑ جائے گی جس میں ان سے پہلے ایوب خان، ضیاء الحق، پرویز مشرف اور اشفاق پرویز کیانی موجود ہیں۔

عہدے میں اضافہ وقتی جاہ وجلال کو قائم رکھتا ہے اور اردگرد بیٹھے ہوئے درباری اچھل اچھل کر یہ کہتے ہیں کہ مائی باپ آپ نے اس قوم پر احسان کیا ہے اور اگر یہ کرم نہ کرتے تو بس قیامت ہوتی، غدر مچتا۔ مگر اس کے بعد حالات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایکسٹینشن ایک نہ ختم ہونے والی ٹینشن میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اچھے بھلے دامن کو مٹی میں رگید دیتی ہے۔ اگر آپ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مثال کو سامنے رکھیں تو یہ نکتہ واضح ہو جائے گا۔ عہدے میں تین سال کے اضافے سے پہلے بارہ فٹ کے تھے۔ ان کے تدبر، گہری سوچ اور کمان کے انداز کو عسکری سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے کی باتیں ہوتی تھیں۔ کامیابیاں زیادہ اور ناکامیاں نہ ہونے کے برابر گنی جاتی تھیں۔ مگر تمام تر دانش مندی کے باوجود یہ سوچ حاوی ہو گئی کہ شاید فوج اور ملک کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ وہ اگلے تین سالوں میں اپنا ایجنڈا مکمل کر پائیں گے جو پہلے تین سال کی قلیل مدت میں کرنا ممکن نہ تھا۔

اس مفروضے نے ذاتی مرکزیت کے تصور کی ایسی آبیاری کی کہ ایک آدھ اچھے مشورے کے باوجود ایکسٹینشن لے بیٹھے، سب نے کہا چھا گئے ہیں جنرل صاحب۔ اور تو اور جنرل وحید کاکڑ جو ریٹائرمنٹ کے بعد حقیقی ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں انہوں نے بھی جنرل کیانی کو اس کنویں میں چھلانگ لگانے سے روکنے کے بجائے مزید شہ دی۔ نجانے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کرسی سے چمٹنا چھوڑنے سے کہیں زیادہ آسان محسوس ہوتا ہے۔ جنرل کیانی آج بھی پچھتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ساتھ یہ کیا کیا؟ باقی کسر ان کے بعد آنے والے جنرل راحیل شریف نے پوری کر دی۔ جنرل کیانی کے حوالے سے ایسے ظرف کا مظاہرہ کیا کہ اس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ جنرل کیانی نیم سیاسی جرنیل سمجھے جاتے تھے۔ حالات نے جو سیاسی ذمہ داریاں ان پر ڈالیں انہوں نے فوج کو ان سے بچاتے ہوئے معاملات آگے بڑھائے۔ وہ خاموش اور مثبت دخل اندازی کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ حکومتوں کو اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہے اور جیسی تیسی بھی ہے جمہوریت کو تجربات کی بھینٹ چڑھا کر اس کی ایسی تیسی نہیں کرنی چاہیے۔ مگر پھر بھی ان کے نقاد کبھی ان کو پیپلز پارٹی سے جوڑتے ہیں اور کبھی نون لیگ سے۔ حیرت کی بات ہے کہ عمران خان کی جماعت ان کو بدترین سیاسی رنگ میں ڈبو کر پیش کرتی ہے۔ یہ بہت دلچسپ امر ہوگا کہ اگر جنرل کیانی کبھی عمران خان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل بیان کر دیں، اگرچہ وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ سیاست سے عملی طور پر دو کوس دور رہنے کے باوجود جنرل کیانی ہر دوسرے ہفتے سیاسی بحث میں بطور حوالہ استعمال ہو جاتے ہیں۔ آپ سوچیں ان کا کیا ہوگا جو سیاسی تجربات سے نہ صرف جڑے ہوئے ہیں بلکہ ان تجربہ گاہوں کو کھلے عام چلاتے رہے ہیں۔

سیاسی جرنیل کی مد میں جنرل پرویز مشرف کی مثال سامنے رکھنی ہوگی۔ انہوں نے ملک پر قبضہ کیا، آئین کو دو مرتبہ توڑا، امریکہ کے پسندیدہ اشخاص میں شامل ہوئے اور سب کچھ کرنے کے بعد آخر میں ملک سے بھاگ گئے۔ وہ سیاست سے قربت اور اس کی محبت کی بدترین مثال ہیں۔ ان کے دور میں فوج کے پروفیشنل تشخص پر جو کاری ضرب لگی اس سے یہ ادارہ ابھی بھی سنبھل نہیں پایا ہے۔ خود کو طاقت میں رکھ کر انہوں نے درجنوں بہترین کیریئرز کا خاتمہ کر دیا۔ سیاست کی چھتری کے نیچے فوج کو ایسے کھینچ کے لائے کہ ادارہ اصل کام سے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔ ایوب خان کا دور اب بہت پرانا لگتا ہے مگر ان کی اقتدار کی خواہش نے بھی فوج کو ایسے حالات سے دوچار کر دیا تھا کہ اس کے منفی اثرات ایک دہائی سے بھی آگے محسوس کیے جاتے رہے۔ ضیاء الحق کا تو نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔

اس تاریخ کے پیش نظر ایکسٹینشن لینے یا نہ لینے کا فیصلہ آسان ہونا چاہیے۔ تاریخ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ وقت پر ریٹائرمنٹ میں عافیت اور عزت ہے۔ اگرچہ جو کچھ بھی دوران عہدہ کیا ہوتا ہے وہ گھوم گھام کر سامنے ضرور آتا ہے۔ مدت ملازمت سے زیادہ ملازمت کرنا باعث تحقیر بھی بنتا ہے اور آخر میں بےتوقیری پر منتج ہوتا ہے۔ وہ تمام درباری جو اپنا الو سیدھا کرنے اور ترقی پانے کے لیے انٹ شنٹ تھیوریاں دیتے ہیں آخر میں دور کھڑے تماشا دیکھتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

عمران خان تو ایکسٹینشن کی تسبیح پھیریں گے، وہ تو چاہیں گے کہ ان کی چاروں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو۔ مگر جنرل باجوہ کو اس کڑاہی میں گرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تین سال میں لکھی گئی نفع نقصان کی کتابیں ہی برابر کر لیں تو بڑی بات ہوگی۔ چھ سال کا عرصہ تو ایک صدی پر محیط ہوتا ہے، اس کے عذاب وہ اپنے سر کیوں لیں گے؟ مگر یہ سب کچھ جنرل کیانی کو بھی پتہ تھا۔ جنرل باجوہ ایکس ہوں گے یا ایکسٹینشن لیں گے؟ اسلام آباد کی سیاست میں آج کل اس کی بڑی ٹینشن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •