دین میں جبر نہیں البتہ رمضان میں سزا ہو سکتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاید میری شکل پر جاسوس لکھا ہے کہ کمپنی نے دوسرے ڈسٹرکٹ میں موجود اپنے ایک دفتر میں کام کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا۔ روزہ میں نے رکھا نہیں ہوا تھا اور رمضان میں کھاتے پیتے پکڑے جائیں تو ٹنڈ کر دی جاتی ہے۔ بیگ میں پانی کی ایک عدد بوتل اور جیب میں سگریٹ ہونے کے باوجود نہ تو پانی پی سکتا تھا اور نہ ہی سگریٹ۔ دفتر بیٹھ کر مجھے ہو رہے کام کی صورتحال کی رپورٹ بنانا تھی۔ دو گھنٹے وہاں بیٹھے کے بعد سگریٹ کی شدید طلب کی وجہ سے میری قوت برداشت جواب دینے لگی تو میں چپ کر کے باتھ روم گیا اور سگریٹ سلگا لی۔ واش رومز میں بھی سموک ڈیٹیکٹرز ہوتے ہیں لیکن اس آفس میں ایک بار پہلے بھی میں آچکا تھا اس لئے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لی تھی کہ یہاں نہ تو کیمرہ ہے اور نہ ہی سموک ڈیٹیکٹرز۔

آفس میں کل تین ورکرز تھے جن میں دو خواتین اور ایک مرد تھا، تینوں بھارت کے شہری تھے، اک لڑکا اور لڑکی مسلمان جب کہ دوسری لڑکی ہندو تھی۔ مسلمان لڑکی اور لڑکے کا روزہ تھا۔ دونوں لڑکیوں کو دفتر جوائن کیے کوئی چار دن ہو چکے تھے، مسلمان لڑکی پہلے سے دبئی میں مقیم ہے جبکہ ہندو لڑکی وزٹ پر پہلی بار بیرون ملک موجود تھی۔ سلم سمارٹ، سانولی رنگت قدرے ماڈرن کپڑے زیب تن کیے فر فر انگلش بولتی اور اردو میں ہر بار خود کو ”گی“ کی جگہ ”گا“ کہہ جاتی جس پر میں نے دو تین بار شرارت میں کہا کہ ”اپنی جنس مت بدلو پہلے ہی بہت گرمی ہے“۔

آفس چونکہ نیا سٹارٹ ہوا تھا اس لئے آفس میں نہ تو باتھ روم کی مکمل صفائی تھی اور نہ ہی پینے کا پانی دستیاب تھا۔ آرتی (ہندو لڑکی، فرضی نام) نے کہا کہ۔ ”بہت پیاس لگ رہی ہے اور ویسے بھی تین بج چکے ہیں تو میں باہر جاکر کچھ کھاپی لیتی ہوں، یہاں تو پانی پینے کو بھی بندہ ترس جاتا ہے“۔ میں نے مسکراتے ہوئے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور اسے تھماتے ہوئے کہا کہ ”تم گنجی بالکل بھی اچھی نہیں لگو گی، وہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگی۔ کیا مطلب گنجی؟

بھئی آپ باہر جاکر کچھ بھی کھا پی نہیں سکتے۔ مردوں کو تو گنجا کیا جاتا ہے، خواتین کا علم نہیں اس لئے چپ کر کے یہیں پانی پی لیں“۔ آرتی نے جیسے ہی پانی کی بوتل پکڑی لاشعوری طور پر میں باقی دو روزہ داروں کی طرف دیکھنے لگا کہ ان میں سے کوئی اعتراض کرے گا کہ کچھ تو شرم کرو، روزہ دار کے سامنے پانی پی رہی ہو لیکن سب نارمل رہا۔ مجھے بھی تھوڑی تسلی ملی تو شبنمی لبوں سے چھوئے گئے پانی سے میں نے بھی اپنے لب سیراب کر لیے۔

جب میں مسلمان ہی نہیں ہوں تو احترام رمضان میں بھوکی پیاسی کیوں رہوں؟ اپنی بشری ضرورتوں کو باتھ روم میں چھپ کر پوری کرنے پر مجبور کیوں کی جاوں؟

میں تھوڑا گڑبڑا گیا لیکن سنبھلتے ہوئے کوئی لاجیکل جواب ڈھونڈنے لگا۔ ”چونکہ یہ قانون ہے اور آپ کہیں بھی رہتے ہوں قانون کا احترام فرض ہوتا ہے“۔

کسی کو بھوکا پیاسا رکھنا کب سے قانون ہونے لگا؟ آرتی حیرانی سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ یہ تو مذہبی عقیدہ ہے اور آپ کے اپنے عقیدے کے حامل بھی کروڑوں لوگ روزہ نہیں رکھتے ہوں گے، اگر فرض کرنا ہی ہے تو اپنے مسلمانوں پر کریں، ہم ہندووں پر کیوں؟ اگر قانون اتنا ہی اہم ہے کہ وہ دیگر مذاہب کے حامل لوگوں پر زور زبردستی کرے تو چائنہ، ڈنمارک، جرمنی، ناروے، نارتھ کوریا، ویتنام، کیوبا اور روس میں بس رہے سارے مسلمان ملحد کیوں نہیں ہو جاتے؟

یہ ممالک تو سرکاری طور پر لادین ممالک ہیں پھر وہاں رہتے ہوئے نماز پڑھنا روزے رکھنا کیا اس ملک کے قوانین کی بے حرمتی نہیں؟ کیا ان کے دل نہیں دکھیں گے؟ ہمارے دھرم میں بھی روزے ہوتے ہیں لیکن ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ملکی سطح پر پابندی لگا دی گئی ہو کہ سب بھوکے پیاسے رہیں گے اورجو یہ بات نہیں مانے گا اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ میں نے تو سنا تھا آپ کے دھرم میں زور زبردستی نہیں ہے لیکن یہ زور زبردستی نہیں ہے تو کیا ہے کہ ملکی سطح پر بے روزہ داروں کو پابند کر دیا جائے؟

میں نے پہلو بدلتے ہوئے اپنی بات رکھی۔ میرا خود کا روزہ نہیں ہے، کوئی مجھے یہ نہیں کہے گا کہ کیوں نہیں رکھا، لیکن دوسروں کے روزے کا احترام کرنا میرے لئے ضروری ہے۔ اسلام دھرم میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے بس یہ تو مذہب سے اظہار یک جہتی کے لئے اور مسلمانوں کی دل آزاری نہ ہو اس لئے ایسے اصول طے کیے جاتے ہیں۔

کوئی پانی پیے اس کو سزا دینا، کوئی کھانا کھائے اس کو سزا دینا اور اس کے بدلے یہ دلیل دینا کہ میرا روزہ اور ایمان خراب ہوا ہے یہ کیسا قانون ہے؟ یہ کیسا ایمان ہے؟ یہ کیسا دھرم ہے؟ آرتی نے طنز کرتے ہوئے کہا۔ جب سارا دن ٹی وی پر کھانے کے اشتہارات دیکھے جاتے ہیں تب روزہ خراب نہیں ہوتا، جب کھانے کا سامان بیچا جاتا ہے، خریدا جاتا ہے، گھر میں ہانڈی پک رہی ہوتی ہے تب کھانا پکانے والوں کا روزہ خراب نہیں ہوتا تو وہی بھوجن کسی کو منہ میں ڈالتا دیکھ کر، وہ پانی جو آپ کے سامنے پڑا ہے وہ کسی کے منہ میں جاتے دیکھ کر روزہ کیسے خراب ہوجائے گا؟

آپ سگریٹ پیتے ہو، سگریٹ دھواں پیدا کرتی ہے، دھواں نہ ٹھوس خوراک ہے کہ بھوک مٹائے اور نہ ہی مائع کہ پیاس بجھا سکے لیکن جو لوگ سارا دن سڑکوں پر گاڑیوں کا دھواں کھاتے ہیں ان کا روزہ سگریٹ کے دھوئیں سے خراب ہوجاے گا یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ وشواس یا عقیدہ تو یہ ہونا چاہیے کہ میرے سامنے دنیا جہاں کے اچھے بھوجن پڑے ہوں جن پر مجھے مکمل اختیار حاصل ہو کہ میں ان میں سے کچھ بھی، کتنی بھی ماترا میں کھا سکتی ہوں لیکن بھگوان کی خوشی اور اپنے من کی شانتی کے لئے میں اک دانہ تک نہ چکھوں۔

جب تک اس بھوک کی تکلیف میرے لئے راحت نہیں ہوجاتی میری اس تکلیف کا مقصد کیا ہوا؟ جب تک کوئی شخص اپنی بھوک و پیاس کی بے چینی، تڑپ اور تکلیف میں دوسروں کو کھانا پینا کھاتے دیکھ کر اس وشواس کی لذت کشید نہ کرے کہ میں نے بھگوان کی خوشی کے لئے روزہ رکھا ہے اورافطاری کے وقت ہی کھاونگا، یہ بھوک، یہ پیاس، یہ تکالیف تو میرا امحتان ہیں اور اس امتحان کا اپنی ہی مزہ ہے تب تک اس کا روزہ، روزے کا اور اس کی عبادت عبادت کا درجہ کیسے پائے گی؟ دستیابی کے باووجود نہ کھانے پینے والا روزہ دار ہوگا نہ کہ کسی کو کھاتے پیتے دیکھ کر اس کو سزا دینے والا، کوسنے والا یا طنز کا نشانہ بنانے والا شخص روزہ دار ہوگا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •