سکنہ لامکاں، مالک و مختار جن و انس اور تین لٹی پٹی بہنیں

جیسے ہی لڑکپن میں قدم رکھا سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، گھر میں ہم تین بہنیں اور امی اکیلی رہ گئیں، خاندان والوں نے ہمارے اک قریبی رشتہ دار کو ہمارا ولی اور نگران مقرر کر دیا، سب سے بڑی بہن مشکل سے 15 برس کی تھی، امی پردہ دار تھیں، کہیں آنا جانا ہو نہیں سکتا تھا۔ رحمت تایا کا گھر ہمارے گھر کے پاس تھا وہ کبھی ہمارے گھر کی چھت پر سوجایا کرتے کبھی اپنے گھر چلے جاتے۔ جب سے باپ مرا تھا اک پتہ بھی زمین پرگرتا تو ہم دہل کر رہ جاتے، ایسے میں رحمت تایا کا چھت پر ہونا ہمارے لئے کسی رحمت سے کم نہ تھا۔ کچھ وراثتی زمین تھی جس کی نگہبانی اب رحمت تایا کیا کرتے، و ہ ویسے بھی کافی دولت مند تھے اس لئے ہمارے گھر کا خرچہ ان کے سر پر تھا۔

Read more

آؤ کہ مشت زنی پر اتفاق کر لیں

قریب دو ماہ قبل اک نوجوان کی ویڈیو انٹر نیٹ کے توسط سے دیکھی جس میں وہ جوان کا بچہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر مشت زنی میں مصروف ہے۔ ویڈیو تھوڑی مزاحیہ بھی لگی اور معاشرے میں موجود گھٹن کے اس حد تک بڑھ جانے کا افسوس بھی ہوا۔ اگر اک طرف دیکھا جائے…

Read more

میں ذرا جلدی میں ہوں

پاکستانی قوم وقت کی بہت پابند ہے۔ اتنی باپند ہے کہ وقت کی سوئیاں پاکستانی قوم کی ہر سوچ اور عمل کی پابند ہیں۔ جب کوئی پاکستانی کہہ دے کہ بیس منٹ کے بعد میں آپ کو فلاں جگہ ملوں گا تو یقین کیجئے وہ بندہ ٹھیک بیس منٹ کے بعد وہیں موجود ہوگا۔ بالفرض…

Read more

فکری بانجھ پن ختم کیسے ہوگا؟

کیا ہم فکری لحاظ بانجھ ہو چکے ہیں؟ ہمیں اپنی ”فکر“ بیان کرنے کے لیے گزرے زمانوں کے مفکرین کی کوٹیشنز کا سہارا ہی کیوں لینا پڑتا ہے؟ انسانی فطرت ہے کہ وہ جس چیز کو بھی دیکھے، سنے یا پڑھے اس سے اختلاف کرتا ہے یا پھر قائل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس…

Read more

اقلیت کا تصور، لبرلز اور عمومی رویے

گزشتہ دنوں بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں اک موٹر سائیکل سوار نوجوان کو چند لوگوں نے روکنے کی کوشش کی۔ لوگوں کا گروہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا تھا اور نوجوان کی شباہت اک مسلمان نوجوان کی تھی، نوجوان نے مصلحت یا خوف کے سبب موٹر سائیکل روک کر اس گروہ کی بات سننا مناسب نہ سمجھا تو ہجوم نے بھاگ کر موٹر سائیکل کو زمین پر گراتے ہوئے نوجوان سے اس کا نام پوچھنے کی ضد کی اور مار پیٹ شروع کر دی یہ مار پیٹ اٹھارہ گھنٹوں تک جاری رہی۔

نوجوان کا نام تبریز انصاری تھا، اکثریت کا حکم نہ ماننے کی پاداش میں ہجوم نے تبریز انصاری کو مار مار کر ہلاک کر دیا،

Read more

میں ایک بدکردار صحافی ہوں

میرے اک فاضل دوست کے بقول پاکستان کے دوسرے بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک میرے چاہنے والے اور میرے ٹیلنٹ کو بہت پسند کرتے ہیں لیکن وہ اپنے میڈیا ہاؤس میں مجھے صرف اس لئے جاب دینے کو تیار نہ ہو سکے کہ میں اک بد کردار انسان ہوں۔ کسی بھی ٹی وی چینل یا اخبار میں درجنوں ایسے شعبہ جات ہوتے ہیں جہاں انسان پردہ سکرین پر یا صفحہ تحریر پر اپنی شکل کے بنا بہت سے کام کرتا ہے، صحافتی اداروں سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی صحافتی ادارے کا ستر فیصد کام پس پردہ ہوتا ہے اور جو ہم سکرین یا پیپر پر دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ پوری ٹیم ورک کے بعد صرف اک بندے کے نام سے شائع یا نشر کیا جاتا ہے۔

Read more

مردانہ معاشرہ اور عورت گردی

رات کے آخری پہر فلیٹ کا دروازہ دھڑاک سے کھلا اور شہزاد کپڑوں سے لدا پھندا اندر داخل ہوا (شہزاد ہمارا سابقہ روم میٹ ہے، اک ماہ قبل ہی ازدواجی بندھن میں بندھ کر اپنی بیوی کے ساتھ رہنا شروع ہوا ہے ) میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ کیوں پھر کپڑے دھونے والی مشین خراب ہوگئی ہے یا بھابھی نے کپڑے دھونے سے منع کر دیا جو سارے ان دھلے کپڑے ادھر اٹھا لائے ہو؟ شہزاد پھیکی سی ہنسی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے کارپٹ پر بیٹھ گیا کہ ”بیوی کو طلاق دے دی ہے“ ۔

”۔ ۔ ہائیں؟ کیا مطلب طلاق؟ ابھی مہینہ پہلے ہی تو تمہاری شادی ہوئی ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟“ شہزاد کے چہرے پر اک کرب کی لہر سی دوڑ گئی لیکن اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ ”بس یار کیا بتاوں، میں جیسے ہی گھر گیا میرے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی گئی اور میرا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا کہ مجھے طلاق دو۔ بجائے کوئی الٹی سیدھی حرکت کرنے کے میں نے سامان اٹھایا اور ادھر آگیا“ ۔

Read more

طوائف، مقدس مجرا اور رشتہ

میرا نام راحت ہے، میں اک شادی شدہ عورت ہوں۔ بچپن میں موٹا بچہ تھی، ویسا ہی موٹا گول گپا بچہ جس کو ہر کوئی آتے جاتے گالوں کو سہلاتا ہے۔ ہمارے سکول میں ڈرامہ ہوتا تھا جیسا کہ ہر سکول میں ہوتا ہے۔ مجھے اس ڈرامے میں سنڈریلا کا رول دیا جاتا کیونکہ مجھے سنڈریلا کے سارے ڈائیلاگز ازبر یاد تھے اور میرے ہر ڈائیلاگ پر تعریف ہوتی تھی کہ اس سے بہتر ادائیگی اور کوئی نہیں کر سکتی لیکن ہر بار کہیں سے آواز آتی۔ ”نہیں اتنی موٹی سنڈریلا نہیں ہو سکتی“ ۔ اس کے بعد ہر بار میرے پاس رونے کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں رشتہ آتے نہیں ہیں بلکہ بلائے جاتے ہیں۔ لڑکیوں کی مائیں روز کسی جاننے والے یا والی کو کہتی ہیں۔ ”آپ کی نظر میں کوئی اچھا رشتہ ہو تو ملوا دیں“ ۔ اس کے بعد ہر بار لڑکے والے لڑکی کو۔ ”دیکھنے آتے ہیں“ ۔ بالکل ویسے ہی جیسا کہ لوگ اتوار بازار میں خریداری کے لئے چیزیں دیکھنے جاتے ہیں، خریدار کی مرضی ہے، وہ کوئی چیز پسند آنے پر خرید لے، یا پھر اس چیز کو ٹھکرا دے۔ مجھے چالیس لوگوں نے رشتے کی غرض سے دیکھا اور چالیس کے چالیس نے ہی مجھے موٹی ہونے کی وجہ سے ٹھکرا دیا۔ آج بھی ان چالیس خاندانوں کے نام، پتے اور فون نمبرز میرے پاس محفوظ ہیں جنہوں نے مجھے چالیس بار قتل کیا۔

Read more

رمضان میں مسیحی برادری کے لئے ہوٹل کھلا ہے

چند دن قبل کسی عزیز دوست کی سماجی رابطوں کی دیوار پر ایک ہوٹل کی طرف سے آویزاں کیے گئے اشتہار کی تصویر ملاحظہ کی جس میں لکھا تھا کہ۔ یہاں بچوں، بزرگوں، مریضوں اور مسیحی برادری کے لئے کھانا دستیاب ہے۔  بلاشبہ یہ اک مثبت عمل ہے کہ غیر مسلم، کمزور یا بیمار لوگ…

Read more

شراب بمقابلہ مسجد

چند دن قبل سوشل میڈیا پر اک مشورہ گردش کرتے ہوئے نظر آیا جس میں کہا گیا تھا کہ۔ ”جو لوگ شراب پیتے ہیں اگر اسی شراب کے پیسے کسی غریب کے گھر میں راشن یا آٹے کی بوری دینے پر خرچ کریں تو معاشرے میں غربت مٹ سکتی ہے“۔مثبت بات جہاں سے بھی ملے اس کی تعریف کرنی چاہیے، بلا شبہ شراب کا استعمال صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور شراب مذہبی اور سماجی لحاظ سے بری بھی سمجھی جاتی ہے لیکن ہم نے اس مشورے کے ساتھ مزید ایڈ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ صرف شراب نہ پینے کی مد میں اکٹھی کی گئی رقم ہی کیوں غربا میں بانٹی جائے؟ اور بھی بہت سے معاملات اور تصرفات ہیں جن پر ہم ضرورت نہ ہونے پر یا بہت کم ضرورت ہونے پر بھی حد سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ سگریٹ، پان، چھالیہ، کولڈ ڈرنکس، گٹکا، ماوا وغیرہ پر نہ خرچ کر کے بہت سے پیسے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، چرچ، مندر، مسجد، گردوار اور دیگر کئی ایسی عبادت گاہیں ہیں جن کو صرف ضرورت یا آبادی کے حساب کے تحت تعمیر کیا جائے کئی کھربوں روپے سالانہ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

Read more