نفرت سے دل بہلانا اچھا لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی طبیعت ہمیشہ کچھ نیا چاہتی ہے۔ انسانی جبلتیں عجیب و غریب ہیں جنھیں نقائص کہیے یاکچھ اور، یہ البتہ طے ہے کہ انسان ان جبلتوں کے ہاتھوں کافی مجبور ہے۔ لیکن وہ مجبور محض نہیں ہے۔ انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا اور علم و ادب کی روشنی بنیادی طور پر ان جبلتوں سے لڑنے کا بہترطریقہ سیکھنے اورسکھانے اورانسان کے اندر اعلیٰ انسانی خصلتوں کو ابھارنے کا نام ہے۔ شاید نفس سے جنگ کرنا اور نفس پر قابو پانا بھی اسی کو کہتے ہیں۔ یعنی بکل دے وچ چور۔

’ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘ ۔ ہم ایک حالت میں زیادہ دیر تک خوش نہیں رہ سکتے۔ حتیٰ کہ کچھ دن لگاتار ایک طرح کا کھانا کھانے سے بھی تنگ آجاتے ہیں اور پھر کچھ الگ اور ذرا ہٹ کر کھانے کوبے تاب ہو جاتے ہیں۔ ہمارے خطے میں یہ بے صبری عام ہے اور یہاں کسی کو زیادہ دیر برداشت نہیں کیا جاتا۔ اور یہ توانتہائی فطری بات ہے کہ جب کوئی شخص یا خاندان زیادہ عرصہ تک حکمران رہے تو عوام کے دلوں میں ان کے لیے ایک خاص قسم کی نفرت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔

مغرب نے جمہوریت کے ساتھ رہ رہ کر اب صبر کرنا سیکھ لیا ہے، بلکہ امریکہ میں تو اکثر ایک صدر مسلسل دوبار منتخب ہوتا ہے یعنی انہیں آٹھ برس ایک حکمران کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نون کے لیے تو ویسے بھی اتنی مدت سے نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں اوریہ دونوں پارٹیاں اس نفرت انگیزی کوپھیلانے میں خودبھی پیچھے نہیں رہیں۔ انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ایسا ایسا زہر اگلا کہ خدا کی پناہ۔

خیر، نوے کی دہائی میں اس الزامات کی سیاست کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد انھیں احساس ہوا اور یہ میثاق جمہوریت کی طرف آئے لیکن لوگوں کے ذہنوں میں آصف علی زرداری کے گھوڑے اور بکریاں ابھی تک محفوظ ہیں۔ سو اب ان پارٹیوں کا امیج ہی ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جونہی کوئی الزام لگتا ہے، کسی عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا تو کجا، یار لوگ اس خبرکی تصدیق کرنے کی بھی زحمت نہیں کرتے اور آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔

اس سب عمل کے پیچھے وہی دہائیوں کی نفرت انگیزی اور تعصب ہے جو سیاست دانوں کے خلاف عوام کے دماغوں میں بھرا گیا۔ اس تعصب کے ساتھ جب باقی چیزیں جوڑی جائیں تو پھر ایک تسلسل کی سمجھ آتی ہے۔ عوام کو یہ بتایا گیا اور بار بار بتایا گیا کہ یہ آپ کے آقا ہیں جو آپ کو لوٹ رہے ہیں، اور یوں عوام اصل آقاؤں اور ان کے ہتھکنڈوں کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئے۔

یہ نفرت کا ہتھیار وہ واحد ہتھیار ہے کہ جسے عوام کے ذہنوں میں بٹھا کرآپ اپنے مقاصد بآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ آج کل ففتھ جنریشن وار کا بہت ذکر ہے۔ یہ بھی تو ذہنوں کی لڑائی اور ذہنوں پر قبضہ جماناہی ہے۔ اس لڑائی کے ذریعے دنیا میں اس وقت ٹرمپ اور مودی جیسے حکمران قابض ہو چکے ہیں۔ ہم بھی اس کا مظاہرہ دیکھ چکے ہیں لیکن کیا کیا جائے ان دماغوں کا جو ایک طرف خود کو یعنی پی ٹی آئی کو ’موسٹ ماڈرن‘ اور پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کوپی ایم ایل این نے اپنے حق میں استعمال کیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اس وقت کن طاقتوں کے ہاتھ میں ہے اور ہمارے ملک میں کون اس کو بہتر استعمال کر سکتا ہے۔

سو ہوا یہ کہ عوام کے ذہنوں میں ان سیاست دانوں کے لیے پہلے سے ہی کئی قسم کے ابہام اور شکوک موجود تھے، یعنی کھیت بوائی کے لیے تیار تھا اور بیچ کوئی ایسا چاہیے تھا جس کے بوتے ہی فصل لہلہانے لگے۔ سب نے دیکھا کہ ایک شخص کنٹینر پر غصے سے بھرا ہواتقریرکر رہا ہے اورکمال ’رحونت‘ کے بل بوتے پر دیوانہ وار ادھر ادھرگھوم رہا ہے۔ کبھی مخالفین کو شلواریں گیلی ہونے کا ’مہذب‘ طعنہ دیتا ہے تو کبھی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے بجلی کے بل پھاڑتا ہے اور لوگوں کو ہنڈی کے ذریعے رقوم بھجوانے کے مشورے دیتا ہے۔ غرض اس شخص نے اس نفرت کو انتہا تک پہنچا دیا۔

کچھ دوست کہتے تھے اور اب بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان حکمرانوں سے حکومت نہیں چلنی اور جب مہنگائی ایک حد سے بڑھے گی اورمسائل میں اضافہ ہو گا تو یہ پی ٹی آئی کے کارکن ہی عمران خان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ میری دلیل تب بھی یہی تھی اور اب بھی یہی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ انھوں نے اس سیاست کی بنیادہی نفرت پر رکھی ہے اور نفرت کرنے والے کو کبھی اپنا نقصان ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ایسا جذبہ ہے جو دشمن کا نقصان کرنے کے لیے اپنا نقصان کرنے پربھی راضی ہو جاتا ہے۔

 ”گھر تو جل گیا لیکن چوہوں سے جان چھوٹ گئی“ کے مصداق اسے خوشی دشمن کے نقصان کی ہوتی ہے۔ ان ووٹرز کو برسوں یہ باور کرایا جاتا رہا کہ تمھارے دشمن یہ سیاست دان ہیں۔ انھوں نے تمہارے وسائل لوٹے ہیں اور یہی خرابیوں کی اصل جڑ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مخالف آراءکو دبانے کے لیے یہ آسانی بھی پیدا کی گئی کہ کچھ اداروں کا نام لینا غداری قرار دے دیا گیا۔

نتیجہ دیکھ لیجیے۔ بے روزگاری اورمہنگائی کے بے پناہ مسائل کے باوجود پی ٹی آئی کا ورکر کہتا ہے، کوئی بات نہیں، تھوڑا انتظار کریں، خان ان کرپٹ لوگوں سے پیسے وصول کرے گا۔ اسے یہ دکھائی ہی نہیں دیتا کہ خان کرپٹ لوگوں سے پیسے وصول کرنے کی بجائے آئی ایم ایف اور دوست ملکوں سے منت خوشامد کر کے قرض لے رہا ہے۔ اس پر نہ بیرون ملک پاکستانیوں نے کوئی اعتماد کیا ہے نہ اندرون ملک سرمایہ دار اس پر بھروسا کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے، نفرت سے بھرے لوگوں کے لیے اس وقت معیشت کی تباہی کوئی پریشانی نہیں بلکہ کرپشن میں نواز شریف کا دوبارہ جیل جانا باعث تسکین ہے۔ اس کیفیت میں کسی کی توجہ مسائل کی اصل وجوہات کی طرف کیسے جائے۔ سو صبح و شام سابقہ حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کا تمسخر اڑاکر دل بہلایا جا رہاہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •