ایک دوسرے کو جھوٹ فارورڈ کرتے ہوئے لوگ

جھوٹ بولنا گناہ نہیں بلکہ فیشن بن چکا ہے۔ ہم سارا دن اسی کام میں مشغول رہتے ہیں۔ عوام سے کیا شکوہ جب سربراہِ مملکت تک دروغ گوئی میں خود کو سربراہ ثابت کرنے پر تلے ہوں۔ موصوف کا ہر دوسرے دن ایک نیاجھوٹ سامنے آتا ہے۔ دو سرے دن اس لیے کہ ہر روز…

Read more

کپتان صاحب کارکردگی دکھائیں، کارکردگی!

آغاز میں ہی وضاحت کر دوں کہ مضمون کرکٹ کے متعلق ہی ہے۔ مہربانی فرما کر اس سے کوئی اور مطلب نکالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ آج کل کپتان سرفراز اور چیف سلیکٹر مصباح الحق شائقین کرکٹ اور دانشوروں کے طعن و تشنیع کی زد میں ہیں۔ جسے دیکھیے ان پر چڑھ دوڑ نے…

Read more

جمہوری مخمصہ اور عوام کا نفسیاتی استحصال

ہم عجیب لوگ ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کو ظالمانہ سمجھتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اس کے اندر بہتری کا امکان کم اور عمل سست رفتارہوتا ہے۔ معمولی تبدیلی کے کچھ وقفے ضرور آتے ہیں، جس کی اس نظام کو ضرورت ہوتی ہے کیونکہ حبس جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو…

Read more

نواز شریف کے بیانیے کے شیخ رشید پر اثرات دکھائی دے رہے ہیں

ہمارا ایک دوست ہے، درویش، اسے ہر کہاوت اور ضرب المثل سے خوا مخواہ کا بیر ہے۔ وہ نہ صرف ضرب الامثال اور محاوروں کو الٹ دیتا ہے بلکہ اس بنیاد پر اچھا خاصا تھیسس قائم کر لیتا ہے۔ کہتا ہے ’‘ فکری مغالطے ”دورکرنے کا یہی طریقہ ہے۔ اسے دیکھ کرسکول کے زمانے میں نصاب میں شامل ڈی جے اینرائیٹ کی نظم باغی یاد آجاتی ہے۔ ہر بات کے الٹ رخ پر سوچنا ایسے لوگوں کا وتیرہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ شرارتاً یہ کام کرتا ہے بلکہ وہ بڑی عرق ریزی اوردیانت داری سے یہ دانشورانہ نکات بیان کرتا ہے اورمیرے جیسے کم علم عقیدت مندوں سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ہزار اختلافات رکھنے کے باوجود کبھی کبھاراس درویش کی باتیں مجھے حیران کردیتی ہیں۔

Read more

ریاست مدینہ کا نعرہ اور ہمارا اخلاق

نوے کی دہائی کی کچھ یادیں ابھی تک ذہن میں محفوظ ہیں جب دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات اورایک دوسرے کے خلاف غیر مہذب زبان کا استعمال عروج پر تھے۔ بے نظیر کے وطن لوٹنے کے بعد 1988 میں اور پھر معروف آئی جے آئی بننے کے بعد 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹوکے خلاف جو پروپیگنڈہ کیا گیا اس سے تو ساری دنیا آگاہ ہے اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے منظر اور پس منظر میں کون تھا۔ میرے دل و دماغ پر ایک تقریر نقش ہے۔اور وہ تقریر شاید نوے کی دہائی کے وسط کی ہے۔

Read more

نفرت سے دل بہلانا اچھا لگتا ہے

انسانی طبیعت ہمیشہ کچھ نیا چاہتی ہے۔ انسانی جبلتیں عجیب و غریب ہیں جنھیں نقائص کہیے یاکچھ اور، یہ البتہ طے ہے کہ انسان ان جبلتوں کے ہاتھوں کافی مجبور ہے۔ لیکن وہ مجبور محض نہیں ہے۔ انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا اور علم و ادب کی روشنی بنیادی طور پر ان جبلتوں سے لڑنے کا بہترطریقہ سیکھنے اورسکھانے اورانسان کے اندر اعلیٰ انسانی خصلتوں کو ابھارنے کا نام ہے۔ شاید نفس سے جنگ کرنا اور نفس پر قابو پانا بھی اسی کو کہتے ہیں۔ یعنی بکل دے وچ چور۔

Read more

میں جمہور کی آواز ہوں

میں جمہور کی آواز ہوں۔ ارادہ تو یہ تھا کہ کسی شعر کا روپ دھاروں۔ پھر سوچا شاعر تو تنگنائے غزل کے بقدر شوق نہ ہونے کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں۔ پھر سوچا نظم بن جاؤں لیکن وہ ارادہ بھی توڑ دیا اور فیصلہ کیا کیوں نہ نثر کا سہارا لیا جائے۔ سو اب…

Read more

ملک کو تجربہ گاہ مت بنائیے

کہا جاتا ہے کہ معروف سائنس دان ایڈیسن ہزاروں تجربات کے بعد بلب ایجاد کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس حوصلہ مند سائنس دان کا کمال یہ تھا کہ اس نے ہزاروں ناکام تجربات کواپنی ناکامی نہیں سمجھا بلکہ کامیابی کا رستہ قرار دیا اور کہا کہ اس عمل کے دوران میں، میں نے ہزاروں…

Read more

نئے پاکستان میں حکومتی کارکردگی اور ہاتھ کی کالک

اللہ اللہ کر کے کرپٹ اور نااہل سیاستدانوں سے جان چھوٹی، طاقت کے اصل مرکز (یعنی عوام) نے زمام اقتدار ایک نئی قیادت کو سوپنی اور ایک تاریخی دور یعنی نئے پاکستان کا کا آغاز ہوا۔ پنجاب کا وزیراعلی بھی منتخب ہو گیا جس کی واحد خوبی اس کا پسماندہ علاقے سے ہونا بتائی جا…

Read more

حزب اختلاف کی مشکلات

سائل دہلوی نے کہا تھا ’ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی‘‘ لیکن اسی بحر میں اسی ردیف کے ساتھ کھلا قافیہ استعمال کرتے ہوئے جگر مراد آبادی نے کہا تھا۔ نہ پا لینا ترا آساں نہ کھو دینا ترا ممکن مصیبت میں یہ جان مبتلا یوں بھی…

Read more