نوآبادیات سے نبرد آزما لواخ

اختر رضا سلیمی کا تیسرا ناول لواخ گزشتہ برس شائع ہوا۔ سلیمی کے پہلے ’ناول جاگے ہیں خواب میں‘ نے ادبی حلقوں میں بطور ناول نگاران کا ایک بھرپور تعارف کروا یا اور جندر نے اس پہچان پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ میں ان تینوں ناولوں کو ایک تسلسل میں دیکھتا ہوں۔ ویسے بھی کسی معروف ناول نگار کا قول ہے کہ ناول نگار زندگی بھر ایک ہی ناول لکھتا ہے۔ میرا بھی خیال یہی ہے کہ کہانی ایک

Read more

ممتاز شاعر احمد مشتاق کی پاکستان آمد اور ملاقات کا احوال

کبھی سان گمان میں بھی نہ تھا کہ احمد مشتاق صاحب سے ملاقات ہو گی اور اس ٹی ہاؤس میں ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا موقع ملے گا کہ جہاں ان کی گہرے دوستوں ناصر کاظمی اور انتظار حسین جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ ان کا وقت گزرا۔ مشتاق صاحب کو پاکستان سے گئے چالیس برس ہو گئے اور اس دوران وہ آخری مرتبہ تئیس برس قبل تشریف لائے تھے۔ ان تئیس برسوں میں ان کے چاہنے

Read more

ChatGPT کیا مشین شاعری کر سکتی ہے؟

آج کل آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا شور ہے۔ ایک ایسی ایپ سامنے آئی ہے جو ہر سوال کا جواب دے سکتی ہے، اور شاعری بھی کر سکتی ہے۔ اس ایپ کو آپ کوئی بھی موضوع دیں وہ اس پر شاعری کے لاکھوں ورژن یا صورتیں بنا کر دے سکتی ہے۔ مجھے اس میں رتی بھر شبہ نہیں کہ مشین شاعری کر سکتی ہے، کیونکہ ہمارے شعرا کی اکثریت زمانوں سے یہی کام مشینی انداز میں کر رہی ہے۔ ابھی تو

Read more

آئینِ پاکستان تنہا ہو رہا ہے، اس سانحے کا کسی کو احساس نہیں

اس وقت آئین پاکستان کی حالت صحیح معنوں میں قابل رحم ہے۔ یوں لگتا ہے ایک پیج پر آنے کی کوشش میں دھینگا مشتی کرتے کرتے سب ریاستی ادارے اور تمام سیاسی جماعتیں آئین کے خلاف ایک پیج پر آ گئے ہیں۔ یہ بات بظاہر پیچیدہ دکھائی دیتی ہے لیکن غور کریں تو بہت سادہ ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے آئین کو بنیادی نقطہ ماننا پڑے گا۔ سب سے پہلے عمران خان کو دیکھتے ہیں جن کا نعرہ ہے

Read more

نیوٹرل امپائروں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟

آج کل نیوٹرل لفظ کا بہت چرچا ہے۔ اس معاملے میں بھی عمران خان نے اپنی یوٹرن پالیسی پر عمل کیا ہے اور ان کے چاہنے والوں نے بھی نوے کے زاویے پر رخ تبدیل کر لیا ہے۔ عمران خان جب اقتدار میں تھے تو جنرل باجوہ کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے وقت فرمایا کرتے تھے کہ جنرل صاحب پرو ڈیموکریسی چیف ہیں، نواز شریف کو یہ گلہ ہے کہ وہ نیوٹرل کیوں ہیں۔ اب خود کہتے پھرتے ہیں

Read more

عمران خان کا تو چھوٹا بھائی بھی کوئی نہیں

ہماری سیاسی تاریخ بھی عجیب ہے۔ ہم چند برسوں میں ہی گھوم پھر کر پھر اسی مقام پر واپس آ جاتے ہیں۔ سانپ اور سیڑھی کا قدیم کھیل اسی طرح جاری ہے۔ خدا جانے عوام بے چارے سانپ ہیں کہ سیڑھی۔ انھیں باور تو یہی کرایا جاتا ہے کہ تمھاری وجہ سے یہ اقتدار کا سنگھاسن سجتا ہے۔ تمھارے ووٹوں سے یہ ایوان تشکیل پاتے ہیں لیکن جاننے والے سب جانتے ہیں۔ عوام اگر سانپ ہیں تو بس سمجھیے ایک

Read more

مدینہ سے چین تک

حدیث مبارکہ کا مفہوم تو یوں ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین کیوں نہ جانا پڑے لیکن ہمارے وزیراعظم صاحب اپنے بیانیے میں ریاست مدینہ کا ذکر کرتے کرتے چین پر لٹو ہو گئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے پاس اس کی کیا دلیل ہے۔ ویسے وہ ایک ہی سانس میں چین، یورپ، امریکہ اور ریاست مدینہ کی مثالیں دینے میں بھی معروف ہیں اور کسی بھی وقت اپنے کہے سے پلٹ بھی سکتے ہیں لیکن یہ کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔

Read more

عوام بلاول اور مریم کی بجائے ہمایوں اختر، عمر ایوب اور اعجاز الحق کو لیڈر مان لیں

و تعز من تشاء و تذل من تشاء کے ٹویٹ کرنے والے اور بات بے بات غداری کے فتوے بانٹنے والے ”مقدس کردار“ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام ان سے محبت کرتے ہیں اور سیاست دانوں سے نفرت۔ وہ یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ عوام ان کے اصل کام سے محبت کرتے ہیں نہ کہ ان کے ماورائے آئین اقدامات سے۔ اگر عوام ان کے ایسے اقدامات سے محبت کرتے تو وردی اتر جانے یا طاقت کمزور پڑ جانے کے بعد بھی ویسی ہی محبت کرتے اور اگر عوام سیاست دانوں سے واقعی نفرت کرتے تو طویل عرصہ تک ملک بدری کے بعد ان سیاست دانوں کا دیوانہ وار استقبال نہ کرتے اور انہیں دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب نہ کرتے۔

Read more

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

عمران خان ’جاہل‘ قوم کا واحد اہل رہنما ہے جو ملک و قوم کے تمام مسائل کا ادراک رکھتا ہے اور انھیں حل کر سکتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ پہلے اس ملک کو اہل حکمران نہیں ملے۔ فرق یہ ہے کہ ایک تو وہ ایک آدھ خوبی کے حامل ہوتے تھے اور دوسرا یہ کہ ان سب کے مشن ادھورے رہ گئے۔ خان صاحب میں ان سب عظیم حکمرانوں کے اوصاف یکجا ہیں اور یہ اس ملک کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے۔

اہل اور دیانت دار حکمرانوں کی فہرست میں سر فہرست ایوب خان ہیں۔ انھوں نے قوم کو احساس دلایا کہ تمھارا اصل مسئلہ غربت ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تم ابھی تک غریب اور لاچار بیٹھے ہو۔ ایوب خان ایک ویژنری لیڈر تھے اور انھیں یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انھوں نے معیشت مضبوط کی اور اتنی مضبوط کی کہ پاؤں پاؤں چلتا پاکستان بالآخر اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ لیکن جونہی کھڑا ہوا دھڑام سے گرا اور دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ پتہ چلا کہ اندر سے کافی کھوکھلا ہو چکا تھا۔ معاشی میک اپ بس ظاہری ٹیپ ٹاپ تھی۔

Read more

کورونا اور جذبہ جنوں

کورونا اور حکومتی پالیسی پر ایک لطیفہ سنیے۔ کسی چوک میں ٹریفک سگنل خراب تھا۔ ٹریفک پولیس والا اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا کہ اسے کسی ضروری کام سے کہیں جانا پڑ گیا۔ اس نے کچھ دیر کے لیے یہ ذمہ داری وہاں بھیک مانگنے والے ایک بہروپیے خواجہ سرا کے ناتواں کندھوں پر ڈال دی۔ وہ صاحب یا صاحبہ کچھ ہی دیر میں ہاتھ ہلا ہلا کر اور لوگوں کے جملے سن سن کر ہانپ گئے تو ایک زور کا ٹھمکا لگایا اور چاروں طرف کی ٹریفک کو چلنے کا اشارہ دے دیا۔ جب چاروں طرف سے گاڑیاں، رکشے اور موٹر سائیکل ان کے ارد گرد اکٹھے ہو کر زور زور سے ہارن بجانے لگے تو موصوف نے اپنے مخصوص انداز میں تالی بجائی اور بددعائیں دیتے ہوئے ایک طرف کو چل دیے کہ تمھارا یہی علاج ہے، اب بھگتو۔ کورونا کے حوالے سے اس حکومت نے عوام کے ساتھ یہی کیا ہے۔

Read more

ہرڈ امیونٹی اب تیرا ہی سہارا

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی عملی تصویر ہماری حکومت ہے جو تنکے تلاش کرنے کی ماہر ہو چکی ہے، دھول جھونکنے کی بجائے جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس رہی ہے۔ روز ایک جھوٹی تسلی، روز ایک نئی کہانی، اور اگلے دن اسے بھول کر نیا ڈرامہ۔ بس یہی ہے ان کی کارکردگی اور پالیسی۔ غریبوں کا نام لے کر سرمایہ داروں کے لیے راہیں آسان کی جا رہی ہیں اور یوں غریب اور امیر دونوں کی ہمدردیاں سمیٹی جا رہی ہیں۔ یہ پالیسی کافی کامیاب ہے۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہرڈ امیونٹی کا شوشہ چھوڑنا ہے۔ سارے وزیر مشیر پیچھے امام صاحب کے اب سویڈن کی ہرڈ امیونٹی کے گن گا رہے ہیں۔

Read more

ایک دوسرے کو جھوٹ فارورڈ کرتے ہوئے لوگ

جھوٹ بولنا گناہ نہیں بلکہ فیشن بن چکا ہے۔ ہم سارا دن اسی کام میں مشغول رہتے ہیں۔ عوام سے کیا شکوہ جب سربراہِ مملکت تک دروغ گوئی میں خود کو سربراہ ثابت کرنے پر تلے ہوں۔ موصوف کا ہر دوسرے دن ایک نیاجھوٹ سامنے آتا ہے۔ دو سرے دن اس لیے کہ ہر روز تقریر کا موقع نہیں ملتا۔ اس جھوٹ کو کبھی ہٹلر کی یوٹرن پالیسی کی پیروی قرار دے کر عظیم لیڈرشپ کی تعبیر تراشی جاتی ہے

Read more

کپتان صاحب کارکردگی دکھائیں، کارکردگی!

آغاز میں ہی وضاحت کر دوں کہ مضمون کرکٹ کے متعلق ہی ہے۔ مہربانی فرما کر اس سے کوئی اور مطلب نکالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ آج کل کپتان سرفراز اور چیف سلیکٹر مصباح الحق شائقین کرکٹ اور دانشوروں کے طعن و تشنیع کی زد میں ہیں۔ جسے دیکھیے ان پر چڑھ دوڑ نے کو تیارہے۔ کچھ لوگ صدق دل سے درست اور صائب مشورے دے رہے ہیں، کچھ مخالفین دل ہی دل میں خوش ہو کر طنز کے

Read more

جمہوری مخمصہ اور عوام کا نفسیاتی استحصال

ہم عجیب لوگ ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کو ظالمانہ سمجھتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اس کے اندر بہتری کا امکان کم اور عمل سست رفتارہوتا ہے۔ معمولی تبدیلی کے کچھ وقفے ضرور آتے ہیں، جس کی اس نظام کو ضرورت ہوتی ہے کیونکہ حبس جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو خود نظام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سو اس نظام کی خیرخواہی کے لیے، نہ کہ عوام کے لیے، کبھی کبھارہوا کے تازہ جھونکے

Read more

نواز شریف کے بیانیے کے شیخ رشید پر اثرات دکھائی دے رہے ہیں

ہمارا ایک دوست ہے، درویش، اسے ہر کہاوت اور ضرب المثل سے خوا مخواہ کا بیر ہے۔ وہ نہ صرف ضرب الامثال اور محاوروں کو الٹ دیتا ہے بلکہ اس بنیاد پر اچھا خاصا تھیسس قائم کر لیتا ہے۔ کہتا ہے ’‘ فکری مغالطے ”دورکرنے کا یہی طریقہ ہے۔ اسے دیکھ کرسکول کے زمانے میں نصاب میں شامل ڈی جے اینرائیٹ کی نظم باغی یاد آجاتی ہے۔ ہر بات کے الٹ رخ پر سوچنا ایسے لوگوں کا وتیرہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ شرارتاً یہ کام کرتا ہے بلکہ وہ بڑی عرق ریزی اوردیانت داری سے یہ دانشورانہ نکات بیان کرتا ہے اورمیرے جیسے کم علم عقیدت مندوں سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ہزار اختلافات رکھنے کے باوجود کبھی کبھاراس درویش کی باتیں مجھے حیران کردیتی ہیں۔

Read more

ریاست مدینہ کا نعرہ اور ہمارا اخلاق

نوے کی دہائی کی کچھ یادیں ابھی تک ذہن میں محفوظ ہیں جب دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات اورایک دوسرے کے خلاف غیر مہذب زبان کا استعمال عروج پر تھے۔ بے نظیر کے وطن لوٹنے کے بعد 1988 میں اور پھر معروف آئی جے آئی بننے کے بعد 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹوکے خلاف جو پروپیگنڈہ کیا گیا اس سے تو ساری دنیا آگاہ ہے اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے منظر اور پس منظر میں کون تھا۔ میرے دل و دماغ پر ایک تقریر نقش ہے۔اور وہ تقریر شاید نوے کی دہائی کے وسط کی ہے۔

Read more

نفرت سے دل بہلانا اچھا لگتا ہے

انسانی طبیعت ہمیشہ کچھ نیا چاہتی ہے۔ انسانی جبلتیں عجیب و غریب ہیں جنھیں نقائص کہیے یاکچھ اور، یہ البتہ طے ہے کہ انسان ان جبلتوں کے ہاتھوں کافی مجبور ہے۔ لیکن وہ مجبور محض نہیں ہے۔ انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا اور علم و ادب کی روشنی بنیادی طور پر ان جبلتوں سے لڑنے کا بہترطریقہ سیکھنے اورسکھانے اورانسان کے اندر اعلیٰ انسانی خصلتوں کو ابھارنے کا نام ہے۔ شاید نفس سے جنگ کرنا اور نفس پر قابو پانا بھی اسی کو کہتے ہیں۔ یعنی بکل دے وچ چور۔

Read more

میں جمہور کی آواز ہوں

میں جمہور کی آواز ہوں۔ ارادہ تو یہ تھا کہ کسی شعر کا روپ دھاروں۔ پھر سوچا شاعر تو تنگنائے غزل کے بقدر شوق نہ ہونے کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں۔ پھر سوچا نظم بن جاؤں لیکن وہ ارادہ بھی توڑ دیا اور فیصلہ کیا کیوں نہ نثر کا سہارا لیا جائے۔ سو اب میں اب ایک کہانی ہوں اور میرے کہانی کار جمہور کی آواز کے منتخب نمائندے ہیں لیکن کچھ طاقت ور کہانی کار ان سے قلم

Read more

ملک کو تجربہ گاہ مت بنائیے

کہا جاتا ہے کہ معروف سائنس دان ایڈیسن ہزاروں تجربات کے بعد بلب ایجاد کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس حوصلہ مند سائنس دان کا کمال یہ تھا کہ اس نے ہزاروں ناکام تجربات کواپنی ناکامی نہیں سمجھا بلکہ کامیابی کا رستہ قرار دیا اور کہا کہ اس عمل کے دوران میں، میں نے ہزاروں ایسے طریقوں کے بارے میں جانا کہ جن سے بلب نہیں بن سکتا۔ یہ تو ہو گئی نیچرل سائنس کی تجربہ گاہ کی بات کہ

Read more

نئے پاکستان میں حکومتی کارکردگی اور ہاتھ کی کالک

اللہ اللہ کر کے کرپٹ اور نااہل سیاستدانوں سے جان چھوٹی، طاقت کے اصل مرکز (یعنی عوام) نے زمام اقتدار ایک نئی قیادت کو سوپنی اور ایک تاریخی دور یعنی نئے پاکستان کا کا آغاز ہوا۔ پنجاب کا وزیراعلی بھی منتخب ہو گیا جس کی واحد خوبی اس کا پسماندہ علاقے سے ہونا بتائی جا رہی ہے۔ کون کہتا ہے ہم علم اور تحقیق کے میدان میں کچھ نیا نہیں کر رہے! بھائی دیکھیں ہم نے دنیا کوبتایا کہ پسماندگی

Read more

حزب اختلاف کی مشکلات

سائل دہلوی نے کہا تھا ’ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی‘‘ لیکن اسی بحر میں اسی ردیف کے ساتھ کھلا قافیہ استعمال کرتے ہوئے جگر مراد آبادی نے کہا تھا۔ نہ پا لینا ترا آساں نہ کھو دینا ترا ممکن مصیبت میں یہ جان مبتلا یوں بھی ہے اور یوں بھی پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این دونوں جیسے کسی مصیبت میں مبتلا ہو گئی ہیں۔ یہ دو جماعتیں 2002 میں

Read more