رمضان، مہنگائی اور نیا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اس پاک مہینے میں ہوا رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد پر مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے، اور حکومتی نا اہلی کی وجہ سے ناجائز منافع خور سرگرم ہو چکے ہیں، دال چینی سبزی پھلوں سمیت ضروریات زندگی اور دیگر اشیائے خورد و نو ش کی قیمتوں پر عوام کو ریلف دینے کی بجائے قیمیں انہتائی بڑھا دی گئیں ہیں اور غریب عوام مہنگائی سے بلبلا اٹھے ہیں۔

رمضان کریم کی آمد سے پہلے ہی تقریباً تمام ضروریات زندگی گوشت، گھی، کھانے پکانے کا تیل، آٹا، پیاز، چکن اور پھلوں کی قیمتیں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا۔ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی جیسی وجوہات کو پسِ پشت ڈال کر اگر صرف پھلوں اور سبزیوں کی رمضان کی آمد سے چند روز پہلے اور پہلے روزے والے دن کی سرکاری قیمتوں پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ قیمتیں سرکاری سطح پر پہلے ہی نو سے پچاس فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔

مہنگائی ہر دور حکومت میں رہی ہے اسے کسی ایک حکومت کے ساتھ جوڑنا زیادہ مناسب نہ ہوگا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج کی شرائط میں آئندہ بجٹ میں تین سو پچاس ارب روپے کا ٹیکس استشنیٰ بھی ختم کرنا پڑے گا اور ریونیو ہدف کو پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے کرنا پڑے گا یہ سارے حالات ملک میں واضح طور پر مہنگائی اور عوام پر اضافی بوجھ کا باعث بنیں گے اور عوام کو مزید مشکلات کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی کی روک تھام کے حوالے سے جس قسم کی سختی کی ضرورت تھی وہ نظر نہیں آتی خاص طور پر رمضان المبارک کی آمد پر بازاروں میں مجسڑیٹس کے بڑھتے چھاپے اور کارروائیاں گرفتاریاں اور جیل بھجوانے کے جس قسم کے اقدامات ہوتے تھے وہ نظر نہیں آرہے۔

گزشتہ حکومت کے ابتدائی سال کی مثال ہمارے سامنے ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر بازاروں پر لگنے والے چھاپے اور کارروائیاں ہوتی تھیں اور عوام کو کم ازکم مصنوعی مہنگائی سے محفوظ ہونے کا احساس دلایا گیا تھا۔ اس طرزعمل کا اعادہ کیا جائے تو بڑھتی قیمتوں کو لگام ڈالا جا سکتا ہے۔ حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر رمضان پیکج کے تحت انہیں اشیاء کی نرخوں میں سبسڈی دے دی لیکن یہ اشیاء سٹورز پر ناپید ہیں۔ اگر ہم سستے بازاروں پر نظر ڈالیں سستا بازار تاجروں اور گاہکوں دونوں سے خالی ملے گا۔

رمضان کی آمد پر ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ ضرورت سے زائد خریداری کی جا ئے جس سے طلب و رسد میں واضح فرق پڑتا ہے اور اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف ہم خود اس چیز کا خیال نہیں رکھتے اگر چیزیں مہنگی ہیں تو اس کی خریداری ترک کر دیں اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یقینا قمیتں اپنی موجودہ حالت پر آجائیں گیں۔ مثال کے طور پر پچھلے سال ٹماٹر کی قمتیں بڑھ گئی تھیں سوشل میڈیا پر تین کی ٹماٹر نا خریدنے کا بائکاٹ ہوا تھا تین دن کے اندر ٹماٹر کی قمیتں کم ہو گیئں تھیں۔ دوسری طرف برطانیہ میں رمضان کی آمد پر مسلمانوں کے لیے ریلف پیکج دے گے ہیں۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے جن کو قابو کرے جس کی وجہ سے غریب عوام پریشان ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •