سکھر میں جنت بانٹنے والوں کا حملہ  

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کربلا آج بھی زندہ ہے!

شدید گرمی اور پیاس کی شدت سے بلبلاتے، مرتے ہوئے لوگ !

تب حق وسچ بولنے کی سزا میں پانی بند تھا، آج رمضان کے احترام کے نام پہ!

زندگی کل بھی ارزاں تھی اور زندگی کی آج بھی کوئی اہمیت نہیں!

ایک جادو ہے جو سر چڑھ کے بول رہا ہے!

آج کی خبر ہے سکھر سے کہ رمضان میں لو لگ کے ہیٹ سٹروک ہونے والوں کی مدد کے لیے بنائے گئے پانی کے پانچ امدادی مراکز کو بندوق دکھا کر اور گولی کی دھمکی کے زور پہ بند کر دیا گیا، کہ یہ احترام رمضان کے منافی ہے۔

انسانی زندگی اور اس کی اہمیت، ہماری نظر میں کیا وقعت رکھے، جب ہر گھڑی دس مارے جا رہے ہوں اور بیس پیدا ہو رہے ہوں۔

جب مچھر مکھیوں کی طرح ہر طرف انسانوں کا سونامی ہو، جب دھماکوں نے پچھلے پچیس برسوں میں ہر طرف انسانی لہو بکھیرا ہو، جب ہسپتالوں میں عام آدمی کے لئے کچھ نہ ہو، جب ہیپاٹائٹس کا عفریت ہر طرف پھیلا ہو، جب معمولی غلطیوں پہ جم غفیر نہتے پہ ٹوٹ پڑے اور ڈنڈے مار مار کے ہلاک کر دے، جب لوگ اس بربریت کا تماشا خاموش ہو کے دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ مارنے والے کا ہاتھ پکڑنے سے زیادہ ویڈیو ریکارڈنگ اہم ہو، جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو ہیرو بنا دیا جائے، جب ریاست گونگی بہری بن جائے تو پھر اس خبر پہ اتنی حیرانی کیوں؟

اگر آپ نہیں جانتے تو اب سمجھ لیجئیے، ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد بہت عظیم ہے، ہمیں ایک ہی تڑپ ہے کہ جلدی سے جلدی ثواب کی پوٹلی بھاری کی جائے، اتنی بھاری کہ دربان دیکھ کے ہی بھانپ جائے، نہ کوئی سوال ہو نہ کوئی جواب اور سیدھا منزل مقصود، اور پھر ستے خیراں!

پر دل تو پاگل ہے نا! سوال کرنا چاہتا ہے کہ اس سب سے خالق کو کیا فائدہ ؟

غربت و لاچاری کے مارے ہوئے، بھوک وننگ سے تڑپتے ہوئے، جو پہلے ہی بھوک کاٹ رہے ہیں ان کو بیماری اور وہ بھی موسم کے ہاتھوں جان بچانے کا حق کیوں نہیں؟

میرے خیال میں ان بندوق برداروں کا خیال ہے کہ یہ بےچارے بے کس لوگ تو پہلے ہی بے حال ہیں سو ان کی اذیت کیا لمبی کرنی؟ جتنی جلد یہاں سے رخصت ہوں اتنا ہی اچھا۔

ایک تو اس مقدس مہینے میں رخصت ہوں گے تو شہادت تو کہیں نہیں گئی۔ سو اتنا بلند مرتبہ جب صرف ہیٹ سٹروک اور پانی روکنے سے مل رہا ہے تو کیا برا ہے؟

دوسرا فائدہ یہ کہ پہلے ہی انسانوں کا جم غفیر، وسائل ہیں نہیں۔ بالائی طبقہ اپنے اے سی والے کمروں میں بیٹھ کے ان کی فکر میں بے حال۔ اب اگر موسم کی مہربانی سے کچھ لوگ یہاں سے کوچ کر سکتے ہیں تو ہم روکنے والے کون ؟

آخر موت تو اللہ کی رضا سے آتی ہے نا!

اور وہ بات تو ہمارے پلے نہیں پڑتی کہ ایک انسانی جان کو بچانے سے انسانیت بچ جاتی ہے۔ انسانیت کو ہم کافی پہلے رخصت کر چکے ہیں سو اب لکیر پیٹنے کا فائدہ۔

تو میرے جیسے اور بہت سے لوگو!

کیوں سوچتے ہو اور کیوں سوال کرتے ہو ؟

اے سی چلاؤ، ٹھنڈ میں سو جاؤ اور ہاں شام میں بہت سا مشروب ہے نا دستر خوان پہ، گرم گرم پکوڑوں کے ساتھ!

مزا کیجیے، ثواب کی پوٹلی بھاری کیجیے، آج رمضان کا پہلا جمعہ ہے آخر!

https://www.dawn.com/news/1481263?fbclid=IwAR1CO6P1G2nqUxJze9aEMzGUM5ZHy-FLq8fEMXA29QH8DQgfuZetank5wc8

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •