نہیں جناب حکومت چلانا آسان نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت پرانی بات ہے کہ فردوس جمال کو طارق عزیز نے اپنے پروگرام نیلام گھر میں بلایا تو سوال پوچھاکہ فردوس اداکاری اور پرفارمنگ آرٹ میں آپ نے ایک طویل عرصہ گزارا اور ایک زمانے سے اپنے فن کا خراج لیا بتائیے کہ اداکاری مشکل کام ہے یا آسان؟

پڑھے لکھے اور دانشمند فردوس جمال نے سوال سنا تو لمحہ بھر کو کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے اور پھر اپنے سر کو کھجاتے ہوئے طارق عزیز کی طرف دیکھ کر کہا طارق صاحب جن کو صحیح معنوں میں اداکاری آتی ہے اُن کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے لیکن جن کو نہیں آتی اُن کے لئے بہت آسان ہے۔

مجھے فردوس جمال کی دانش میں لپٹی ہوئی یہ بات تب یاد آئی جب دو دن پہلے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت چلانا تو بہت آسان کام ہے

لیکن ٹھہرئیے پہلے دوہزار تیرہ کی طرف لوٹتے ہیں، نواز شریف الیکشن جیت کر وزیراعظم کا حلف اُٹھا چکے تھے اور پہاڑ جیسے مسائل ان کے سامنے کھڑے تھے، جن میں مشرف کی طویل آمریت کے بطن سے پھوٹتی ہوئی خوفناک دہشت گردی، لاقانونیت، بدآمنی خصوصًا وزیرستان اور کراچی کی صورتحال معاشی بربادی کے سبب مہنگائی کا طوفان اور پھر سب سے بڑھ کر تونائی کا خوفناک بحران جب ملک میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی تھی۔

انھی دنوں ممتاز صحافی طارق بٹ کے ایک انگریزی اخبار میں چھپے کالم کو بہت شہرت ملی اس کالم میں طارق بٹ نے لکھا کہ وزیراعظم نواز شریف خلافِ معمول اور خلافِ توقع حددرجہ پریشان، خاموش اور سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔

بہت سے اہل دانش و اھلِ خبرکو معلوم تھا کہ وزیراعظم کی پریشانی اور خاموشی کی وجہ دراصل وہ مسائل ہیں جو انہیں ورثے میں ملے اور ان مسائل سے انہیں نپٹنا بھی ہے کیونکہ وہ ایک مقبول سیاسی لیڈر ہیں اور اپنی سیاسی مقبولیت وہ تب برقرار رکھ سکتے ہیں جب وہ حکومت اور اقتدار کو پھولوں کا ہار سمجھنے کی بجائے کانٹوں کا سیج سمجھ لیں یعنی عوام کو درپیش مسائل کی طرف توجہ دیں۔

بعد میں ناسازگار حالات کے باوجود بھی نواز شریف نے ان مسائل پر توقع سے کہیں زیادہ کامیابی کے ساتھ قابو پایا تو عام لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ آگئی کہ حکومت چلانا جن کو آتا ہے ان کے لئے پریشان کن اور مشکل ہوتا ہے اورجن کو چلانا نہیں آتا ان کے لئے بہت آسان ہے۔

اب آتے ہیں دو ہزار اُنیس کے وزیراعظم جناب عمران خان کے تازہ ترین نسخہ دانش کی طرف کہ حکومت چلانا توایک آسان کام ہے۔

تو جناب وزیراعظم صاحب گزارش ہے کہ آپ کے لئے یقیناً آسان ہے کیونکہ نہ تو آپ بذات خود خوفناک مہنگائی سے متاثر ہو رہے ہیں نہ آپ ان لوگوں کے لئے پریشان اور مغموم ہیں جن کی اکثریت نے اپنی سادگی اور نا سمجھی کی وجہ سے آپ کو امیدوں کا دیوتا بنایا ہوا تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ

جیسے آسیبِ حقیقت خلد کے خوابوں کے بعد

وزیراعظم عمران خان حیرت ہوئی کہ آپ حکومت چلانا ایک آسان کام سمجھ بیٹھے حالانکہ آپ کو تو حد درجہ پریشان اور مصروف ہونا چاھئے تھا کیونکہ جس ملک کے آپ اس وقت سربراہ ہیں وھاں ہر حوالے سے صورتحال دن بہ دن دگرگوں ہوتی جا رہی ہے کیا آپ کو نہیں معلوم کہ

تاریخ کی خوفناک ترین مہنگائی نے وطن عزیز کے بائیس کروڑ عوام کا جینا دو بھر نہیں کیا؟
کیا علاج معالجے کی سہولت اور دوائیوں کی قوت خرید عام آدمی کے بس سے باہر نہیں ہوتا جا رہا ہے؟
کیا بے روزگاری کا عفریت نوجوان نسل کو ہڑپ نہیں کر رہا ہے؟

کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو پر نہیں لگے؟
کیا بجلی اور گیس کے بل عذاب کے پروانے نہیں بنے؟
کیا آپ کا اقتدار میں آنے کے بعد یہ ملک شدید معاشی بحران کا شکار نہیں بنا؟

کیا وطن عزیز میں جمہوریت اور پارلیمنٹ ایک مذاق بن کر نہیں رہ گئے؟
کیا عالمی سطح پر پاکستان بے ثباتی اور تنہائی کی طرف نہیں گیا؟

اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے اور اس کے باوجود بھی وزیراعظم عمران خان فرما رہے ہیں کہ حکومت چلانا تو ایک آسان کام ہے تو پھر یہ بات سمجھنے کے لئے کسی بقراطی دانش کی ضرورت نہیں کہ یہ ملک ان خوفناک مسائل اور مشکلات کی گرداب میں کیوں آیا۔

مشرقی سماج کا مزاج ہے کہ کنبے کا سربراہ دوسروں کی نسبت عمومًا زیادہ پریشان اور سنجیدہ نظر آتا ہے کیونکہ خاندان کو درپیش مسائل معاشی اور سماجی معاملات اور رشتوں ناتوں کا ادراک اسے اپنے تجربے اور احساس ذمہ داری کی وجہ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اس لئے اس کی رائے اور مشورے کو ہمیشہ احترام اور اہمیت بھی دی جاتی ہے لیکن اگر بد قسمتی سے کسی خاندان کے ہاں معاملہ اس کے اُلٹ ہو یعنی گھر کا بڑا بصیرت سے بے بہرہ اور مسائل سے بے خبر ہو تو پھر پورے خاندان کی نہ عزت بچتی ہے اور نہ معیشت۔ حتٰی کہ اس کی اپنی بزرگی بھی ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔

اسی رویے کا پھیلاؤ محلے اور گاؤں سے ہوتا ہوا ملکی سطح تک جاتا ہے یعنی پورا ملک ایک کنبہ اور سربراہ مملکت اس کنبے کا بڑا ہوتا ہے اس کی بصیرت، تجربے اور اس مقام پر پہنچتے ہی لمحہ بھر کو بھی لا اُبالی پن او غیر ذمہ داری کو افورڈ نہیں کیا جا سکتا۔

اس لئے باردگر گزارش ہے کہ اس مجموعی کنبے کے سر براہ وزیراعظم عمران خان حکومت کو آسان اور کار طفلاں سمجھنے کی بجائے حد درجہ سنجیدہ چیلنج کے طور پر لیں تا کہ اُمڈتے ہوئے مسائل بصیرت آفرینی کے ساتھ موڑ دیے جائیں کیونکہ غفلت اور لاپرواہی توکہیں بھی ہو ہمیشہ درودیوار کو بربادیوں اور نحوستوں کے سپرد کر کے ہی دم لیتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •