دہشتگرد: یہ کون لوگ ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب روس اور امریکہ کی سرد جنگ شروع ہوئی تو امریکہ نے افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے پاکستان اور افغانستان سے مدد طلب کی تب امریکہ نے 1960 ء میں مذہبی انتہا پسندی کو کیمو نزم کا توڑ بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس منصوبہ کو عملی شکل دینے کے لئے امریکہ پاکستان میں موجود مذہبی جماعتوں کو مدد فراہم کرنے لگا۔ 1980 ء کی دہائی میں یہ سلسلہ واضح ہو گیا سوویت یونین کے خلاف مسلح جدوجہد کے آغاز سے اس خطہ میں امریکی اہداف اور اسلحہ کی ترسیل میں تیزی آگئی پاکستان سے ایک بڑے قبائلی گروہ نے افغانستان میں حصہ لینا شروع کر دیا جنرل ضیاء اور امریکہ ان کی پشت پر کھڑے ہو گئے امریکی تعاون سے یہ سلسلہ تعلیمی اداروں، مدارس اور مذہبی وسیاسی جماعتوں تک پھیل گیا۔

1988 ء میں امریکہ نے پاکستان کی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان سے انخلاء پر مجبور کر دیا۔ پھر افغانستان جنگ کے دوران لاکھوں افغانی مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی منتقلی سے اس دھرتی پر نشہ آور اشیاء اسمگلنگ، اغواء اور ہتھیاروں کی خریدوفروخت کا سلسلہ چل نکلا افغانستان جنگ کے بعد عسکریت پسندوں کی کارروائیاں پاکستان اور افغان حکومت کے خلاف شروع ہو گئیں۔ حصول اقتدار کے لئے افغانستان میں دھڑے بن گئے، خانہ جنگی انتہا کو پہنچ گئی۔

1995 ء میں افغانستان میں پہلی بار طالبان کا نام منظر پر آیا۔ طالبان کا نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کی بیشتر آبادی نے مدد فراہم کرتے ہوئے ساتھ دیا دیکھتے ہی دیکھتے پورا افغانستان طالبان کے کنٹرول میں آگیا۔ وہی طالبان جن کو افغان دھرتی کے باسیوں نے سر آنکوں پر بٹھا کر اقتدار بخشا تھا انہی طالبان نے اقتدار میں آتے ہی انسانی حقوق کو روندنا شروع کر دیا۔ طالبان نے غیر ممالک میں موجود انتہا پسند مذہبی جماعتوں سے روابط مضبوط کرنا شروع کر دیے اور افغانستان میں اُسامہ بن لادن جیسے عسکریت پسندوں کو پناہ دینا شروع کر دی اسی دوران 2001 ء میں نائن الیون کا واقعہ ہو گیا۔

جب دہشت گردی کی آگ نے امریکہ کے تن کو جلایا تو امریکہ نے اس واقعہ کی تمام تر ذمہ داری القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن پر ڈال دی۔ اُسامہ کو امریکہ کے حوالے نہ کرنے پر امریکہ نے افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ سلامتی کونسل میں طالبان حکومت کے خلاف قراردادیں منظور ہوئیں افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی مدد کے لئے فاٹا، صوبہ سرحد اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے عسکریت پسندوں نے مغربی قوتوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔

القاعدہ کے متعدد راہنماؤں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لے لی جن میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل تھے۔ پاکستان کی وہ عسکریت پسند تنظیمیں جو ضیاء الحق دور میں پروان چڑھی دو دہائیوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی پھر پاکستان میں طالبان نے اپنا وجود منوایا لیا۔ 2004 ء میں پاکستانی حکومت نے روپوش عسکریت پسندوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں میں دراندازی سے روکنے کے لئے اور ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے پاک افغان بارڈر اور وزیرستان ایجنسی میں آپریشن شروع کیا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں عسکریت پسندوں کی جوابی کارروائیوں کے نتیجہ میں اس دھرتی کے مختلف علاقوں میں خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 2007 ء میں لال مسجد میں ہونیوالے آپریشن کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات طول پکڑ گئے۔ قبائلی علاقوں سے یہ سرطان سوات کے پہاڑوں تک آن پہنچا آج یہ سرطان پشاور سکول، چارسدہ، باچا خان یونیورسٹی، گلشن اقبال پارک، مردان، کوئٹہ، کراچی، لاہور اور سہیون شریف میں سینکڑوں زندگیاں نگل گیا۔

دہشت گرد دشمن ہمارے تعلیمی اداروں، مساجد اور مذہبی درگاہوں تک آن پہنچا ہے۔ آج پھر دو رمضان المبارک کو صبح آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر ایک خود کش بمبار نے داتا دربار کے گیٹ نمبر دو پر کھڑی ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے خود کو اڑا لیا جس کے نتیجہ میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد شہیداور پچیس افراد زخمی ہوگئے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب دہشتگردوں نے لاہور میں کسی مزار کو نشانہ بنایا اس سے قبل دو جولائی 2010 ء کو دہشتگردوں نے صوبہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں واقع معروف صوفی بزرگ حضرت سید علی ہجویریؒ کے مزار پر دو خود کش دھماکے کیے تھے جس میں 37 سے زائد افراد شہید اور ایک سو ستر کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ اب پھر یہ مزار دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ دہشتگرد سیہون کے مقام پر بزرگ صوفی لعل شہباز قلندر ’مزار حضرت سخی سرور‘ مزار صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی ’مزار مشہور صوفی شاعر رحمان بابا‘ مزار مشہور پشتو شاعر امیر حمزہ خان شنواری ’مزار ابو سید بابا‘ مزار عبدالشکور ملنگ بابا ’مزار بری امام کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں اور ان حملوں میں ہم سینکڑوں قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔

دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے دوران ملک میں ہزاروں افراد دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کی جنگ لڑتے لڑتے ستر ہزار جانیں بھی قربان کر چکا ہے اور دنیا کو یہ پیغام بھی دے چکا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی دنیا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے باوجود صوبہ بلوچستان میں دہشتگرد کھل کر دشمن کے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے وہاں کے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلوچستان کے رستے زخموں سے بارود کی بو آرہی ہے آخر کب تک یہ قوم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کے لاشے تڑپتے دیکھے گی۔

ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث دشمن کھل کر دہشت گردی کے ذریعے اس ملک کے شہریوں کو بے دریغ نشانہ بنا رہا ہے پوری قوم دہشت گردی کے اس ناسور کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے اور دہشت گردی کا یہ آسیب آہستہ آہستہ انسانی جانوں کو نگلتا چلا جا رہا ہے۔ تاریخ کے حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا ہم نے پرائی جنگ اس انداز میں لڑی کہ پوری قوم آج دہشت گردی کی شکل میں بھگت رہی ہے دہشت گردی نے اس قوم کی خوشیاں تک چھین لی اور یہ قوم خوش ہونا بھول گئی۔

جب تک دہشتگردی پیدا کرنے والی سیاسی معشیت کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک یہ دہشتگرد ملک اور سماج کو لہو میں نہلاتے ہوئے اس کے امن کو تاراج کرتے رہیں گے۔ اسی ملک کی دھرتی پر دشمن کے سہولت کار موجود ہیں جو اس دھرتی ماں سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں جن کو باقاعدہ فنڈنگ کی جاتی ہے ان کا قلع قمع کرنا وقت کی ضرورت ہے اپنے ہی ہاتھوں سے دہشت و وحشت کی بنیاد رکھنے کی تاریخ آپ کیسے بھول سکتے ہیں ہزاروں جانیں گنوا کر اور کھربوں روپے کا نقصان کروانے کے باوجود دہشتگردی کے آسیب سے ہم اپنی جان نہیں چھڑوا سکے۔ طاقتور ’اعلی دماغ‘ چالاک اور سرمایہ دار دشمن انسانی جانوں کو بارود میں بھسم کر کے روندتا چلا جا رہا ہے۔ بم دھماکوں ’خودکش حملوں‘ ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ واریت کے ہتھیاروں کی زد میں آکر اس دھرتی پر گرتے لاشوں کو دیکھ کر ہم سوچ رہے کہ یہ دہشتگرد کون لوگ ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •