خودساختہ نظام جمہوریت؟

پاکستان کی سیاسی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو تبدیلی کی جدوجہد سات دہائیوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ لیکن پر عزم، ایماندار اور محب وطن قیادت کے فقدان اور سیاستدانوں کے روایتی طرز عمل کے باعث تبدیلی دلپذیر نعروں، وعدوں اور دعوؤں سے آگے کی حد عبور نہ کر سکی۔…

Read more

بلا امتیاز احتساب، وقت کی ضرورت!

صوبہ پنجاب کی کابینہ میں شامل حکومتی پارٹی تحریک انصاف کے اہم وزیر عبدالعلیم خان کو نیب نے گرفتار کر کے احتساب عدالت سے ان کا نو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیہ کے مطابق سینئر سوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر حراست میں لیا گیا۔ علیم خان کی گرفتاری سے زیادہ آج کل سوشل میڈیا پر ان کا اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کی خبر ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے جسے سنجیدہ عوامی حلقوں میں ایک اچھی روایت کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں اس روایت کو تقویت دیتے ہوئے ان تمام سیاسی پلرز کو بھی اخلاقی طور اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے جن پر کرپشن و بدعنوانی کا قدغن لگ چکا ہے خواہ وہ پارٹی عہدیدار ہے یا حکومتی بنچ پر بیٹھا ہے۔ ملک میں احتساب کے اداروں کوسابقہ حکومتوں کے ادوار میں انتقامی سیاست کے طور استعمال کیا جاتا رہا ہے اسی لئے ملک میں جاری احتساب کو بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے۔

Read more

کشمیر اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں!

حکومت کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر منانے کے لئے پروگرامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم کی قیادت میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اور ایوان صدر کے سامنے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی مجوزہ پروگرام کے تحت وزیراعظم عمران خان ڈی…

Read more

سانحہ ساہیوال ’پولیس کلچر میں اصلاحات کا فیصلہ؟

وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلی سطحی اور کابینہ اجلاسوں میں سانحہ ساہیوال کے پیش نظر پنجاب پولیس میں فوری اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا پنجاب پولیس کلچر میں اصلاحاتی ایجنڈے میں کے پی کے پولیس طرز کا ایکٹ لانے ’پہلے مرحلے میں سو ماڈل پولیس اسٹیشنز قائم کرنے…

Read more

اپوزیشن اتحاد ’حکومت اور جمہوریت؟

چند ماہ کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بننے والے اتحاد کو سنجیدہ سیاسی و عوامی حلقے قبل از وقت قرار دے رہے ہیں کیونکہ کسی بھی نئی حکومت کے قیام کے بعد اس کی سمت کا تعین ہونے میں کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی…

Read more

حکومت ’اپوزیشن اور احتساب!

حکومتی وزراء اور اپوزیشن کے درمیان گرم سرد بیانات کا سلسلہ تو خیر تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد تواتر سے جاری و ساری ہے۔ لیکن احتساب کے گھوڑے نے اپنے سموں سے جب پیپلز پارٹی کے قائدین اور ان کے شراکت داروں کو روندھنا شروع کیا تب سے حکومت کے خلاف گرینڈ…

Read more

دیر ضرور لیکن۔۔۔ اندھیر نہیں؟

وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہم منی لانڈرنگ کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔ ڈالر اسمگل کرنے والے اپنے دن گننا شروع کر دیں لوٹی گئی دولت کی واپسی کے لئے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے اس اعلان سے…

Read more

دیر ضرور لیکن اندھیر نہیں

وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہم منی لانڈرنگ کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔ ڈالر اسمگل کرنے والے اپنے دن گننا شروع کر دیں۔ لوٹی گئی دولت کی واپسی کے لئے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے اس اعلان سے قبل وفاقی کابینہ نے آصف زرداری، فریال تالپور اور مراد علی شاہ سمیت منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث 172 افراد پر ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کی منظوری دے کر ان افراد کی لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس ا قدام سے قبل میاں نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید با مشقت کی سزا سنا کر گرفتار کر لیا ہے۔ ملک میں جاری اس سفاک احتساب کے باعث اپوزیشن کے حلقوں میں یہ تاثر ابھرتا نظر آرہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے۔

Read more

احتساب اور پیپلز پارٹی کی مزاحمتی سیاست؟

تحریک انصاف نے بلا شبہ معاشی عدم استحکام سے جڑے نظام کے ساتھ حکومتی باگ ڈور سنبھالی تھی جس وقت عمران خان کی حکومت برسراقتدار آئی تب قومی خزانہ خالی تھا زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر تھے اور ریاستی امور چلانے کے لئے پیسہ نہیں تھا۔ لیکن چند ماہ میں عمران خان نے…

Read more

کرپشن و بدعنوانی اور احتساب کا نظام

16 نومبر 1999 ء کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے وجود میں آنے والا ادارہ نیب ملک میں کرپشن و بدعنوانی کے تدارک کے لئے کام کرنے والا سب سے بڑا اور مؤثر ادارہ ہے اس ادارہ پر منصفانہ اور جمہوری معاشرہ کے قیام کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقتداری حکمرانوں نے اسے مضبوط اور خودمختار بنا کر ٖفعال کرنے کی بجائے اپنے سیاسی حریفوں کو چاروں شانے چت کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اگر آج احتساب کا یہ ادارہ خودمختار اور فعال ہوتا تو ملک میں کرپشن و بدعنوانیوں کی کہانیوں کا راج نہ ہوتا اور ملکی خزانے اور وسائل پر نقب لگانے والے سرحد پار جائیدایں نہ بناتے پاکستان میں بیشتر مسائل بلا امتیاز احتساب نہ ہونے کے باعث اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔

کرپشن کے خاتمہ کے لئے انفرادی و ادارہ جاتی مؤثر جدوجہد کی ضرورت ہے اب جو نلک میں احتساب کا عمل شروع ہوا ہے اس کو رولنگ ایلیٹ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ وہ براہ راست اس کا شکار ہو رہی ہے یہی قوت اس عمل کو غیر فعال بنا کر احتساب کمیشن بنانا چاہتی ہے تاکہ ایک دوسرے کا تحفظ کیا جا سکے اگر ملک میں موجود سیاسی جماعتیں اس بات کا اعادہ کر لیں کہ احتسابی اداروں کی خامیوں کو دور کر کے اسے فعال بنایا جائے تو نہ صرف ملک بہتری کی طرف گامزن ہوگا بلکہ جمہوری نظام بھی مضبوط ہو گا۔

Read more