مسز ابلیس کی ٹینشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سحری کو سرخ رو کر کے ابھی سویا ہی تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ٹھک۔ ٹھک۔ ٹھک۔ دروازہ بجتا ہی چلا گیا۔ جوتے پہنے بغیر سر پر پاوں رکھ کر بھاگا۔ دروازہ کھولا۔ دیکھتا کیا ہوں۔ ایک نہایت دراز قد مگر ہیبت ناک قسم کی خاتون دروازے پر ایک عجیب الخلقت قسم کے بچے کے ہمراہ کھڑی ہیں۔ تعارف کراتے ہوئے بولیں۔ میں مسز ابلیس ہوں۔ یہ میرا بیٹا عزازیل ہے۔ میں نے اس شیطانی بچونگڑے کی طرف دیکھا۔ لمبی لمبی چوٹیاں۔ چہرے سے حماقت کی حد تک ٹپکتی ہوئی معصومیت۔

اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ ہم اپنے جن بچوں کو شیطان کا بچہ کہتے ہیں، وہ تو اس بیچارے کو بیچ کر کھا جائیں۔ مسز ابلیس فرمانے لگیں۔ مجھے آپ سے ضروری کام ہے۔ میں نے چشم و دل فرش راہ کرتے ہوئے عرض کیا۔ بھابی یہاں کیوں کھڑی ہیں اندر تشریف لائیں۔ آپ تو ہماری استانی ہیں۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ آپ نے ہمارے غریب خانے میں قدم رنجہ فرما کر اسے رونق بخشی۔ گرد آلود صوفے کو جھاڑ پھونک کر انہیں بٹھاتے ہوئے میں نے ان سے چائے پانی کا پوچھا، تو کہنے لگیں نہیں بھائی آپ زحمت نہ کریں آپ کا روزہ ہے۔ راستے میں ہسپتال کی کینٹین سے ہم دونوں نے خوب ناشتا پانی کر لیا تھا۔ میں نے استفسار کیا۔ فرمائیں عالم شیطانی سے ہماری دنیا کا سفر کیسے کیا؟

کہنے لگیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ منے کے ابا یعنی میرے میاں یکم رمضان سے جیل میں ہیں۔ ان کے بعد گھر کا خرچ چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ معاشی حالات بہت خراب ہیں۔ میرے بچے کو فیس نہ ہونے کے باعث سکول سے نکال دیا گیا ہے۔ ٹیوشن والی باجی بھی کہتی ہیں، کہ پہلے فیس لاؤ پھر پڑھاوں گی۔ اور تو اور مالک مکان نے بھی کرایہ نہ ملنے کے باعث گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا ہے۔ وہ تو کل تالا ساتھ لے کر آ گیا تھا کہ کرایہ نہیں دے سکتے تو رہتے کیوں ہو؟ میرے میاں وکیلوں اور صحافیوں کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ آپ چونکہ صحافی ہیں، اس لیے آپ کے پاس مدد کی امید لے کر آئی ہوں۔

میں نے دل ہی دل میں کہا، بی بی جب سے ”تبدیلی“ آئی ہے ہمارے تو اپنے حالات بھی پتلے ہیں۔ تنخواہوں پر ”کٹ“ الگ سے برداشت کرنا پڑا۔ اب تو دن رات نوکری کے لالے پڑتے رہتے ہیں۔ ہم اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں آپ کی کیا مدد کریں۔

اپنی اوقات معلوم ہونے کے باوجود منافقت کی چادر جھاڑتے ہوئے اپنے اوپر لمبی تان کر اس سے پوچھا بتائیں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ کہنے لگیں آپ تو ہمارے اپنے ہیں۔ آپ ہمارا مسئلہ سمجھ سکتے ہیں۔ سنا ہے آپ کے وزیر اعظم نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس میں ایک گھر یا فلیٹ مجھے بھی لے دیں۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں اپنے محلے کی ”شیطاننیوں“ کے کپڑے سی کر یا کسی بھی طرح کا کوئی کام کر کے ہرمہینے کی قسط با قاعدگی سے دے دیا کروں گی۔

میں نے سمجھایا، بی بی وہ اسکیم تو صرف غریب غربا کے لیے ہے۔ اور آپ کے میاں کے شیئرز تو ہر کاروبار میں ہیں۔ یہ جو حاجی صاحب نے جانوروں کی چربی پگھلا کر گھی تیار کرنے کی فیکٹری بنا رکھی ہے، اس میں آپ کے میاں کے شیئرز ہیں۔ یہ جو چودھری صاحب نے کیمیکل اور ڈٹرجنٹ کی مدد سے خالص دودھ بنانے کا اتنا بڑا کاروبار قائم کیا ہے، اس میں آپ کے میاں شراکت دار ہیں۔ مردہ مرغیاں بیچنے کی دکانیں آپ کے مجازی خدا کے دم سے قائم ہیں۔ آپ تو اس معیار پر پورا ہی نہیں اترتیں۔

میرا یہ کہنا تھا کہ تڑک کر بولیں۔ بس کریں صاحب۔ ”من حرامی تے حجتاں ڈھیر۔“ یہ جتنے کاروبار آپ نے گنوائے ہیں ناں (بچے کے سرپر ہاتھ رکھ کر) میں اپنے عزازیل کی قسم کھاتی ہوں، ان میں میرے میاں کا کوئی حصہ نہیں۔ وہ تو ان سب لوگوں کی ترقیاں اور پھرتیاں دیکھ دیکھ کر ان کی طرح کامیاب کاروباری بننے کی حسرت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ تو اپنے کاروبار کے وحدہ و لاشریک مالک و خالق ہیں۔

گھرکے معاملے سے جان چھوٹی تو مسز ابلیس نے نئی فرمائش کردی۔ کہنے لگیں آپ سے میرے میاں کا پرانا تعلق ہے۔ آپ اپنے بھتیجے کو کسی ایسے سکول میں داخل کرا دیں جہاں فیس نہ دینی پڑے، تا کہ یہ پڑھ لکھ کر کل کوئی بڑا آدمی بن جائے۔ اپنے ابا کی طرح روز روز جیلوں میں نہ سڑتا پھرے۔

میں نے کہا بی بی پرائیویٹ سکولوں نے تو آج کل ویسے ہی انت مچا رکھی ہے۔ آپ کے بچے کی ٹیوٹر نے فیس کی وجہ سے اسے کان سے پکڑ کر نکال دیا ہے۔ پرائیویٹ سکول والے تو گیٹ کے سامنے سے بھی نہ گزرنے دیں جو آپ کے معاشی حالات ہیں۔ ہاں البتہ کسی مدرسے وغیرہ سے مفت تعلیم کا انتظام ضرور ہو سکتا ہے۔

پوچھنے لگیں کیا میرا بیٹا مدرسے میں پڑھ کر مفت میں ڈاکٹر یا انجینئر بن جائے گا؟

میں نے کہا بی بی جب ہم نے اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا ہوتا ہے تو ہم اپنا سب کچھ بیچ باچ کر بھی بچوں کو مہنگے سکولوں میں ہی داخل کراتے ہیں۔ مدرسے سے تو وہ عالم شالم یا مولوی ہی بن سکتے ہیں۔ وہ بھی مفت میں۔ اس طرح آپ کا بچہ آپ کا اور اپنے باب دادا کا نام روشن کرے گا۔ آپ دونوں کی نجات کا باعث بنے گا۔ جنت کی راہ۔۔۔۔

ابھی یہ الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھی۔ اپنے عزازیل نامی بچے کو چوٹی سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے اٹھایا اوربڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ مجھے اس کی بڑبڑاہٹ سے اتنا ہی معلوم ہوا کہ وہ اپنے بچے سے مخاطب ہو کرکہہ رہی تھی۔ تیرے ابا ٹھیک ہی کہتے تھے۔ انسان کا کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ انسان شیطان کا کھلا دشمن ہے اور کبھی دوست نہیں بن سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اکرام احساس کی دیگر تحریریں
اکرام احساس کی دیگر تحریریں