مسز ابلیس کی ٹینشن
سحری کو سرخ رو کر کے ابھی سویا ہی تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ٹھک۔ ٹھک۔ ٹھک۔ دروازہ بجتا ہی چلا گیا۔ جوتے پہنے بغیر سر پر پاوں رکھ کر بھاگا۔ دروازہ کھولا۔ دیکھتا کیا ہوں۔ ایک نہایت دراز قد مگر ہیبت ناک قسم کی خاتون دروازے پر ایک عجیب الخلقت قسم کے بچے کے ہمراہ کھڑی ہیں۔ تعارف کراتے ہوئے بولیں۔ میں مسز ابلیس ہوں۔ یہ میرا بیٹا عزازیل ہے۔ میں نے اس شیطانی بچونگڑے کی طرف دیکھا۔ لمبی لمبی چوٹیاں۔ چہرے سے حماقت کی حد تک ٹپکتی ہوئی معصومیت۔
Read more
