قیادت کا بحران اور ہم سب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسئلہ کشمیر کی کوکھ سے جنم لینے والے مسئلہ گلگت بلتستان کے باشندوں کو گزشتہ سات دہائیوں سے بہت سارے مسائل درپیش ہیں، جن میں سب سے اھم مسئلہ آئینی حیثیت کا تعین نہ ہونا ہے جس کی بنیادی وجہ قیادت کا بحران ہے جس پر آج تک کسی نے توجہ نہیں دی، چونکہ سیاسی قیادت کی بحران نے ہی دیگر مسائل کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اس جدید دور میں سیاسی قیادت کے تصور اور اس کی اھمیت کو سمجھنا ضروری ہے، جیسے کہ

جان سی میکس ویل لیڈرشپ پر اپنی شہرہ آفاق کتاب Five Levels of Leadership

میں لکھتے ہیں کہ لیڈر آسمان سے نہیں اترتے ہیں، نہ ہی ماں کے پیٹ سے جنم لیتے ہیں،

یہ ایک دن ایک ماہ یا ایک سال کا کام نہیں ہے بلکہ ایک اچھا لیڈر بننے کے لیے ایک طویل عرصے تک سیاسی و فکری جدوجھد کرنی پڑی ہے، چونکہ بقول لینن فکری انقلاب کے بغیر سماجی انقلاب ممکن نہیں، اس لیے ایک اچھا لیڈر حقیقت پسند ہوتا ہے وہ خیالی لوگوں کی طرح اپنے علاقے اور قوم کے مستقبل کا عکس اپنی خواہش اور آرزوؤں کے آئینے میں نہیں دیکھتا ہے بلکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ مستقبل افراد کی خواہشوں سے نہیں بلکہ حال کے تقاضوں کے بطن سے پیدا ہوتا ہے۔

ایک دن میں کوئی خواب پورا ہوتا ہے نہ ہی ایک دن میں قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے، اس لیے ایک اچھے رہنما کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی سیاسی و فکری نشوونما کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے، یہی بات لیڈر اور کارکنوں میں تمیز کرتی ہے۔

لیڈرشپ کے لیے لازم ہے کہ وہ نہ صرف اپنے علاقے و ملک کی سیاست کے داؤ پیچ سے آگاہ ہو بلکہ دنیا میں رایج الوقت ملکی و بین الاقوامی قوانین سے بھی آگاہ ہو اور اپنے اردگرد کے ملکوں کی سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل سیاست پر بھی گہری نظر رکھتا ہو، کیونکہ بقول اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان کے،

۔ There is a saying that all politics is local

But increasingly، all local politics has global consequences، in turn، affect the quality of life everywhere۔

چونکہ دنیا اب ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے اس لیے کوئی لیڈر مینڈک کے کنویں کی طرح کنویں میں رہ کر اپنے آپ کو رہنما نہیں کہلوا سکتا ہے، بلکہ دنیا کے بہترین لیڈرز کے تجربات سے سیکھنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کشتی تو کوئی بھی شخص چلا سکتا ہے لیکن منزل تک صرف ایک لیڈر ہی پہنچاتا ہے۔

لیڈر اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے کسی بھی معاشرے میں موجود سیاسی شعور کے لیول کا اندازہ وہاں کی لیڈر شپ کی قابلیت اور صلاحیت سے لگایا جاسکتا ہے، جیسا لیڈر ہوتا ہے ویسے ہی لوگ اس کے اردگرد منڈلاتے نظر آتے ہیں،

عام طور پر عوام کی ترجمانی و رہنمائی کے دعویدار تو بہت سارے لوگ ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ان میں اکثریت ہمیشہ ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کو خود بھی یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ لیڈرشپ سے کیا مراد ہے اور عوام کے مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے،

اس طرح کے نام نہاد لیڈرشپ کا واحد مقصد صرف ذاتی مفادات کا حصول یا پھر الیکشن یا سیلیکشن کے ذریعے اقتدار تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔

ایسے نمائندے یا تو الیکشن ہارنے یا ایک آدھا دفعہ کسی کی مدد سے الیکشن جیتنے کے بعد ہمیشہ کے لئے سیاسی منظر نامے سے اس طرح سے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور چند سالوں بعد ان نام نہاد رہنماؤں کو خور بھی مشکل سے یاد پڑتا ہے کہ وہ بھی کبھی سیاسی تھے۔

جبکہ عوام کے حقیقی لیڈر کے مقابلے میں بہت سارے لوگوں کو وقتاً فوقتاً میدان میں اتارا جاتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چہرے بدل بدل کر عوام کے سامنے آتے رہتے ہیں، اور قومی وسائل کی بے درردی کساتھ استحصال کرتے ہیں نتیجتاً چہرے تو بدل جاتے ہیں مگر سماج میں مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ قومی وقار بھی مجروح ہوتی ہے۔

عوام کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے عوام کو منزل تک پہنچانے کے لئے غیر متزلزل عزم و حوصلے کے حامل لیڈرشپ کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایک

اچھا لیڈر ہی ایک منظم اور مضبوط سیاسی تنظیم کی تعمیر کرتا ہے، اور کارکنوں کی نظریاتی تربیت کرتا ہے، اس کو پتہ ہوتا ہے کہ عہدے کا مطلب لیڈرشپ نہیں ہوتا ہے چونکہ عہدہ تھوڈی دیر کے لیے مدد ضرور کرتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ عہدے ختم ہو جاتے ہیں لیکن لیڈرشپ نہیں چونکہ لیڈرشپ ساری زندگی کا کام ہوتا ہے، اور قوم کو درپیش ہر مسئلے کے ممکنہ حل پر غور کرنا، اورایک ہی چیز کے حل کے لئے کہی طریقے سے سوچنا، معروضی حالات کو سمجھتے ہوئے اھم قومی مسائلِ کے حل کے لئے طریقہ کار وضع کرنے اور ممکنہ حل کے جدوجھد کرنا ایک اچھا لیڈر کی پہچان ہوتی ہے

اس لیے نہ صرف وہ اپنی قوم کی مزاج اور تاریخ سے واقف ہوتا ہے بلکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ لیڈرشپ کی خصوصیات میں سے ایک اھم عنصر Courage بھی ہے، اس کو علم ہوتا ہے کہ کبھی غبار سیاست میں زندگی اور موت جیسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور منزل کی تلاش میں قوموں کی زندگی میں اچھے حالات یا پھر طوفان بھی آسکتے ہیں، اس لیے ایک اچھا لیڈر وھی ہوتا ہے جو آنے والے طوفان اور مشکلات کا بھی سامنا کرنے کی صلاحیت و ادراک رکھتا ہو اور اسے اپنے لوگوں پر یقین ہوتا ہے اور بدلے میں لوگ بھی اس پر یقین کرتے ہیں۔

ایک اچھا لیڈر مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کو پتہ ہوتا ہے کہ کون اس کا حامی اور ساتھی ہے کون موقع پرست اور مخالف ہے، کون پیچھے سے اس کے پیٹھ میں خنجر گھونپ سکتا ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ لیڈر اپنے ساتھیوں کے انتخاب میں غلطی کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔

لیڈر کرپٹ نہیں ہوتا ہے اسں کا کردار صاف ہوتا ہے دشمن بھی اس کی کردار کی تعریف کرتے ہیں۔

اس میں عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ ہوتا ہے اور وہ جھوٹ بولنے سے پرہیز کرتا ہے اور جھوٹے وعدے نہیں کرتا ہے، چونکہ عوام کو گمراہ کرنے والا اس وقت تک سیاسی میدان میں رہتا ہے جب تک عوام کو جھوٹ فریب اور دھوکہ کا علم نہیں ہوتا ہے۔

ایک اچھا رہنما روایتی سوچ کا حامل نہیں ہوتا ہے بلکہ جدت پسند ہوتا ہے چونکہ وقت بدلنے کساتھ چیز یں بھی بدلتی ہیں معروضی حالات بھی بدلتے رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ اور خیالات بھی بدل جاتے ہیں، چونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حالات اور تاریخ کا دھارا الٹی سمت اختیار نہیں کرتا بلکہ یہ دھارا ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا ہے۔

اس لیے عوامی رہنما بھی وقت اور حالات کے ساتھ مسلسل سیکھتا رہتا ہے اور کسی بھی صورت اپنی قوم کو تقسیم نہیں کرتا ہے نہ ہی جان بوجھ کر اسے تکلیف و آزمائش میں ڈالتا ہے، نہ ہی قوم کے سامنے غلط بیانی کرتا ہے چونکہ اس طرح عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور وہ ایک کے بعد ایک غلط فیصلہ کرے تو عوام اس پر مزید بھروسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو عوام کے شعوری لیول سے کم شعور رکھنے والے لیڈر کو عوام یکسر مسترد کرتے ہیں، اور ایسے نام نہاد لیڈر بہت جلد تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔

اھم بات یہ ہے کہ اگر ہم اپنے معاشرے میں یونین کونسل سے لے کر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی تک نظر ڈالتے ہیں تو اس تلخ حقیقت سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے کہ ہمارے پاس لیڈرشپ کا فقدان ہے جبکہ ہمارا قومی سوال مسئلہ کشمیر کی طرح پیچیدہ ہے جسے حل کرنے کے لئے ہمیں نہ صرف اچھے سیاست دانوں کی بلکہ مدبرین کی ضرورت ہے جو اس قوم کی ڈوبتی کشتی کو کسی منزل تک پہنچا سکے۔ لیکن ایک ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس نام نہاد سیاستدان بے شمار ہیں لیکن مدبر ایک بھی نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اشفاق احمد ایڈوکیٹ کی دیگر تحریریں
اشفاق احمد ایڈوکیٹ کی دیگر تحریریں
––>