رمضان کا مہینہ اور حاجی صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان کے مہینے میں حاجی صاحب کی شخصیت میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ویسے تو پورا سال ہی ان کا غصہ عروج پہ رہتا ہے۔ بات بات پہ ان کا میٹر گھوم جاتا ہے۔ کوئی ان کی رائے سے اختلاف کرے، کوئی بچہ مسجد میں ذرا سا ہنس لے یا کوئی شخص ان کے نام کے ساتھ ’حاجی‘ کا سابقہ لگانا بھول جائے تو آپ آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔

گاؤں میں لوگ مسجد کو چندہ دیں تو لاؤڈ اسپیکر میں چندہ دینے والے کا نام مع چندہ اعلان کیا جاتا ہے۔ اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی دعائیں بھی دی جاتی ہیں۔ حاجی صاحب کا نام لیتے ہوئے مولوی صاحب ’حاجی‘ کہنا بھول گئے۔ ان سے سخت ناراض ہوئے۔ اور چھ ماہ ہو گئے مولوی صاحب سے اب بھی بات نہیں کرتے۔

آپ چونکہ تمام غیر مسلموں کو منافق، خود غرض اور انسانیت کے دشمن قرار دیتے ہیں لہذا پولیو کے قطرے پلانے کی مہم پہ بھی حاجی صاحب کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ گاؤں کے چند لوگوں نے جب سے لڑکیوں کو کالج بھیجنا شروع کیا ہے تب سے حاجی صاحب کا غصہ مسلسل تیز ہی رہنے لگا ہے۔ آبادی کنٹرول کرنے کی کوئی حمایت کرے تو اسے تو ’گھسن‘ ٹھوکنے پہ تل جاتے ہیں۔

لیکن رمضان کا چاند نظر آتے ہی حاجی صاحب کا غصہ سال کی بلند ترین سطح پہ پہنچ جاتا ہے۔ لوگ ان سے سلام لینے سے بھی خوف کھاتے ہیں کہ کہیں مائنڈ نہ کر جائیں۔

جس شخص سے بھی ملیں اس سے روزے کے متعلق ضرور پوچھتے ہیں۔ شومئی قسمت اگر کوئی اقرار کر بیٹھے کہ روزہ نہیں رکھا تو اس کی طبیعت یوں صاف کرتے ہیں کہ چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ روزہ دار کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں چہرے سے تو روزہ دار نہیں لگتے ہو۔ یوں چہرے پڑھنے کا بھی دعوی کرتے ہیں۔

حاجی صاحب اپنے سوا کسی کو بھی پکا روزہ دار نہیں سمجھتے۔ کسی کی عبادت میں کمی بتاتے ہیں تو کسی کے خشوع و خضوع میں نقص نکال دیتے ہیں۔ کوئی قہقہہ لگائے تو حاجی صاحب فی الفور اعلان کرتے ہیں کہ روزہ ٹوٹ چکا ہے۔ اب محض بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ اکثر نوجوانوں کو یہی بریکنگ نیوز سناتے رہتے ہیں کہ روز قیامت یہ روزے ان کے منہ پہ مار دیے جائیں گے۔

حاجی صاحب جس پیمانے سے روزے اور روزے دار کا معیار ماپتے ہیں اس کے مطابق پورے گاؤں میں حاجی صاحب ہی اکلوتے ایسے روزے دار ہیں جن کے روزے بارگاہ ربی میں شرف قبولیت پا سکیں گے۔ آپ اس کا بر ملا اظہار کرتے ہیں کہ جنت میں کسی اور بندے کے جانے کے چانسز بہت کم ہیں۔

رمضان میں زیادہ تر وقت حاجی صاحب سو کر گزارتے ہیں۔ عبادت کے اس ماہ میں عام دنوں کی طرح کام کرنے کو تقریبا گناہ سمجھتے ہیں۔ آپ سرکاری ملازمت کرتے ہیں لیکن رمضان میں بس حاضری لگانے یا لگوانے کی پابندی کرتے ہیں۔ فون پہ کام چلاتے ہیں اور زیادہ تر دفتری کام عید تک موقوف رکھتے ہیں۔ دوپہر سے افطار تک مسجد میں ہی تکیہ لگائے عین پنکھے کے نیچے خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں۔ بجلی چلی جائے تو فوری جنریٹر چلواتے ہیں۔ کہتے ہیں باوضو سونا بھی عبادت ہے۔ یوں افطار تک سو کر بھی نیکیوں کا ٹوکرا بھر لیتے ہیں۔ کسی اور کے مسجد میں سونے پہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ کہتے ہیں سوتے میں لوگ وضو توڑ بیٹھتے ہیں۔

حاجی صاحب نے چھوٹے بھائی کو جنرل سٹور کھول کے دیا ہوا ہے۔ رمضان میں قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ عید جوں جوں قریب آتی جاتی ہے وہ قیمتیں بڑھاتے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں جتنا ثواب لوٹتے ہیں اتنا ہی منافع لوٹنے پہ یقین رکھتے ہیں۔ رمضان کی برکت سے ان کا یہ ’سیزن‘ اچھا رہتا ہے۔ لوگ ان کی پیٹھ پیچھے کاروباری بے ایمانی یا دفتری کرپشن کی باتیں کرتے ہیں۔ جب حاجی صاحب کو پتہ چلتا ہے تو بے حد خوش ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ایسا کرنے سے غیبت کرنے والوں کی نیکیاں میرے کھاتے میں آجاتی ہیں اور میرے گناہ ان کے کھاتے میں۔ حاجی صاحب کا ماننا یہ بھی ہے کہ گناہ جب تک بے نقاب نہ ہو وہ گناہ نہیں ہوتا۔

خالص ثواب کی نیت سے آپ مسجد میں روزہ افطار کرتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ مسجد میں روزہ داروں کے لیے روٹی، سالن، چاول، کھیر وغیرہ بھیجتے ہیں۔ چونکہ حاجی صاحب کا روزہ باقی روزہ داروں کے مقابلے میں زیادہ ’پکا‘ ہوتا ہے لہذا وہ اپنی پسند کی ڈشز الگ کر لیتے ہیں۔ اچھا کھانا بھیجنے والوں کے ایمان کو مضبوط قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں رمضان میں جتنا مرضی کھا پی لیں خدا کو حساب نہیں دینا پڑے گا۔ اسی لیے بے حساب کھاتے ہیں۔ ہر افطار دعوت میں شرکت ضرور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نے جو چیز کھانے سے منع کیا ہے وہ بھی ’دبا‘ کے کھاتے ہیں۔ افطاری کے بعد تھوڑا بہت مسکرا بھی لیتے ہیں۔

لوگوں کو عمرے پہ لے جانے کی خدمت بھی جی جان سے سر انجام دیتے ہیں۔ سال بھر بیمہ ایجنٹ کی طرح لوگوں کو عمرہ کرنے پہ قائل کرتے ہیں۔ جب ایک گروپ تیار ہو جاتا ہے تو خود بھی ساتھ ہو لیتے ہیں۔ اپنا عمرہ مفت ہو جاتا ہے اور وہاں رہنے کا خرچ بھی نکل آتا ہے۔ رمضان میں کیے عمرے کو وہ نہیں بھولتے۔ حرم پاک کے یخ بستہ اے سی، افطاری کے وسیع دستر خوان اور دیگر سہولتوں کو اکثر یاد کرتے ہیں۔ لہذا اب رمضان میں عمرے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ثواب بھی زیادہ اور روحانی و معاشی سکون میسر آتا ہے۔

حاجی صاحب مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے بلا شرکت غیر پچھلے کئی برسوں سے اکلوتے سربراہ ہیں۔ یوں ان کا شاہانہ جاہ و جلال ہے اور مسجد کا کوئی کام ان کے حکم کے بغیر نہیں چل سکتا۔ نہ صرف مسجد پہ ہولڈ ہے بلکہ نمازیوں پہ بھی رعب چلتا ہے۔ رمضان میں نئے آنے والے نمازیوں کی خوب ’کلاس‘ لیتے ہیں۔ ان کو ’فصلی بٹیروں‘ کا خطاب دیتے ہیں۔ ان کو یہ وعید بھی سناتے ہیں کہ ایک ماہ عبادت کرنے سے بخشش ممکن نہیں۔ یوں ان کے دانت کھٹے کرتے ہیں کہ اگلے دن ان کی تعداد آدھی رہ جاتی ہے۔ اذان اور جماعت کس وقت ہو گی، صف بندی کیسے کرنی ہے، بچوں کو کیسے اور کس جگہ بیٹھنا ہے، تکبیر کون پڑھے گا وغیرہ جیسے سارے اختیارات حاجی صاحب کے پاس ہیں۔ ان کی جگہ مقرر ہے کہ وہ امام کے پیچھے ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں پنکھے کی ہوا زیادہ آتی ہو۔

رمضان کے مہینے میں حاجی صاحب پانچ وقت کی اذان خود دیتے ہیں۔ کسی اور کو اذان کی قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ ایک بار گاؤں میں کسی کے گھر آئے مہمان نے مسجد آ کر اذان دینا شروع کر دی۔ حاجی صاحب ہوا کی سپیڈ سے مسجد پہنچے اور موذن پہ عقاب کی طرح جھپٹے اور اس کی کمر کو جھپا ڈال کر پیچھے دھکیل دیا۔ اذان دینے والا حی علی الفلاح کہہ رہا تھا کہ اچانک ڈر گیا اور اس کی عجیب و غریب سی ’چیک‘ نکل گئی۔ حاجی صاحب نے فوری لاؤڈ اسپیکر کا بٹن آف کر دیا۔ اس مہمان کو برا بھلا کہا اور نئے سرے سے خود اذان دی۔

حاجی صاحب نے مسجد میں جلی حروف سے لکھوایا ہے کہ اس مسجد میں فلاں فلاں فرقے اور عقیدے کے لوگ داخل نہ ہوں۔

تراویح پڑھتے ہوئے حاجی صاحب قاری صاحب کی تلاوت کرنے کی سپیڈ بھی خود طے کرتے ہیں۔ نمازیوں کی غلطیاں نکالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اتنی غلطیاں نکالتے ہیں کہ نمازیوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان کی عبادت قبول نہ ہو گی۔ صرف حاجی صاحب ہی سرخرو لوٹتے ہیں۔

عید کے دن بھی سب کو کھری کھری سناتے ہیں۔ جنہوں نے روزے کم رکھے ہوں ان کو روزوں کی مبارکباد نہیں دیتے۔ صرف عید کی مبارکباد دیتے ہیں وہ بھی بے دلی سے۔ عید ملتے وقت کان میں کہہ دیتے ہیں کہ افسوس تم بخشش نہ کروا سکے۔

اس رمضان میں حاجی صاحب کے بھتیجے کے انٹر میڈیٹ کے پیپر ہو رہے ہیں۔ حاجی صاحب جانتے ہیں کہ وہ انگریزی میں پاس نہیں ہوگا۔ سو حاجی صاحب اس کی جگہ امتحان میں کسی اور لڑکے کو بٹھانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کام میں حاجی صاحب ید طولی رکھتے ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کے کئی لڑکوں کو یوں ہی میٹرک، انٹر، گریجوایشن اور ماسٹر کے امتحان پاس کروا چکے ہیں۔ اور وہ نوجوان مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

حاجی صاحب بھتیجے کی جگہ جس لڑکے سے پیپر دلوانا چاہتے ہیں اس کی ’برین واشنگ‘ خوب کرتے ہیں۔ اس کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ ایک نیکی ہے۔ لوگوں کے کام آنا ہی اصل مقصد حیات ہے۔ یہی اعمال آخرت میں ہمارے کام آئیں گے۔ یوں وہ بھتیجے کی دنیا سنوارنے کے ساتھ ساتھ اس کی جگہ امتحان دینے والے کی آخرت بھی سنوار دیتے ہیں۔
دعا ہے کہ حاجی صاحب یوں ہی معاشرے کی خدمت کرتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 55 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti